molana fazlu rehman dehrna

ہم اپنے مستقبل کو بہتر جانتے ہیں ہم نے لمبا سفر کیا ہے:مولانا فضل الرحمن

EjazNews

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ آج چوتھا دن ہے اور عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ لوگ تھک جاتے ہیں اور ان کے جذبات مدھم پڑ جاتے ہیں لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے جذبات اور آپ کا جوش و خروش وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے اور مقصد کے حصول کے لیے آپ جان کی بازی لگانے تک کیلئے تیار نظر آرہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آبا د کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہے اس سے پہلے اس سرزمین نے اور ان فضائوں نے اتنا بڑا انسانی اجتماع نہیں دیکھا اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ بھی اتنا بڑا انسانی اجتماع کے بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آرہے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مسئلہ ایک شخص کے استعفیٰ کا نہیں ہے مسئلہ ووٹ کی امانت کا ہے۔ آج عوام خود یہاں ہو کر اپنی امانت واپس حاصل کرنے کی جنگ لڑ رہا ہے اور جب حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا ووٹ اکٹھا کیا جائے تو اس دھاندلی کے باوجود بھی یہ ووٹ پھر بھی زیادہ ہو جاتا ہے ۔ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آپ الیکشن کمیشن میں جائیں۔ وہاں اپنی شکایت درج کریں ، الیکشن کمیشن بیچارہ تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے۔ اگر اس کے بس میں ہوتا تو آج اتنی قوم کی اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتا۔ میں یہ بھی بتاتا چلا ہوں کہ اس قومی اسمبلی نے حزب اختلاف کی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ کسی جلوس میں نہیں جانا ، کسی جلوس میں نہیں جانا، کسی عدالت میں نہیں جانا، دھاندلی کی تحقیق پارلیمانی کمیٹی کرے گی اور پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ایک سال ہوگیا نہ اس کی کوئی میٹنگ ہوئی ہے اور نہ اس کے کوئی قواعد و ضوابط طے ہو سکے ہیں ، حکومتی بینچوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کا کیس اسی عدالتوں میں ہے پانچ سال ہوگئے ہیں فیصلہ نہیں ہو سکا، اس کا فیصلہ کیا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ تم دوسری پارٹیوں پر تنقید کر رہے ہوکہ لیکن یہ حکومت تو خود کرپٹوں کا ٹولہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کو جانا ہوگا اور اس کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات میں واضح طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ تحریک ہے۔ یہاں اجتماع کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ سفر رک جائے گا ۔میں نے کہا یہاں سے جائیں گے کہ آگے بڑھنے کیلئے جائیں گے آج اسلام آباد بند ہے پورے پاکستان کو بند کر کے دکھائیں گے ۔ یہ سفر رکے گا نہیں آگے بڑھے گا اور اپنے سفر کے حصول تک اپنا سفر جاری رکھے گا۔ مجھے یہ کہا گیا کہ آپ کے لوگ نعرے لگا رہے ہیں کہ ڈی چوک ڈی چوک۔ میں نے کہا ڈی چوک تو تنگ جگہ ہے یہاں کھلی فضا ہے اور پھر بھی زمین تنگ ہو گئی ہے ۔ لیکن اگر کارکن جذبات کی بنیاد پر کہتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ میں نے کل بھی کہا تھا کہ جب تمام حزب اختلاف اور تمام قائدین ہمارے ساتھ ہیں تو ہم اپنے فیصلے بھی مشاورت سے کریں گے ۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ایک بات بڑی واضح ہے کہ آج اس اجتماع سے کوئی بہت پریشان ہے تو وہ اسرائیل ہے یا قادیان۔ کیوں پریشان ہے ، آپ 1996ء مئی کا نوائے وقت پڑھیں اس میں سرخی لگائی تھی کہ 2020ء میں اسرائیل کا نیٹ ورک بڑھ جائے گا اور اس میں لکھا ہے کہ اس کیلئے ایک کرکٹر عمران خان کو منتخب کیا گیا ہے اور اس کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کے اس ا جتماع نے ان کے 35-40سال کی سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا ہے اور اب آئندہ دہائیوں تک کسی کو جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر نے کی بات کریں ۔
ان کا کہنا تھا کہ قادیانیوں کے رہنمائوں نے یہ بیان دیا تھا کہ پاکستان ان کو غیر مسلم کی شق ختم کرنے والا ہے آپ کے اس اجتماع نے اس کے خواب پرپانی پھیر دیا ہے آپ کے اس اجتماع کے بعد کوئی اس کی ہمت نہیں کر سکے گا۔
مولانا فضل الرحمن نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کو مبارک ہو آنے والے مستقبل میں کسی کو جرأت نہ ہوگی کہ وہ اسلامی دفعات کو چھیڑ سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح دینی مدارس کیخلاف سازشیں ہو رہی ہیں ان کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر مدارس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر انہی کا خاتمہ ہوگا مدارس کا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس تو غریبوں کے تعلیمی ادارے ہیں وہاں تو مفت کتابیں ، مفت رہائش، مفت کھانا دیا جاتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ تمہارے پرو ں کے نیچے جو بڑے بڑے تعلیمی ادارے چل رہے ہیں پہلے ان کی اصلاح کرو۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم آئین سے بہت دور چلے گئے ہیں ہر ادارہ اپنی مداخلت کر رہا ہے ،پاکستان میں آئین کی کیا حیثیت ہے۔ سب اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کا آئین کی تحفظ داری سے ہم اپنے وطن کو چلا سکیں ، جمہوری ادارے بے معنی ہو گئی ہیں ہر شخص الیکشن میں عوام کی طرف دیکھنے کی بجائے کسی اور طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں عوام کے ووٹ کو عزت دینا ہوگی ، عوام کے ووٹ کی حفاظت کرنا ہوگی ، عوام کے ووٹ پرڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فکر کرو اس قوم کی آج پاکستان کا غریب صبح و شام کی روٹی کو ترس رہا ہے ، اس کے اوپر مہنگائی کی طرف سے ، وہ بازار سے راشن خریدنے کے قابل نہیں رہا، اس کے سر پر چھت نہیں ہے، ظالم و جابر طبقہ جینے کا حق نہیں دے رہا ، ان کیلئے کچھ کرو اگر نہیں کر سکتے تو پھر تم کو کوئی حق نہیں حکومت کرنے کا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اس اجتماع میں صرف مولوی موجود نہیں ہیں ۔ اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے کارکن موجود ہیں، ملک کے ہر طبقہ کے فرد یہاں موجود ہے ۔ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ان کی امیدوں پر پورا اترنا چاہتا ہوں کسی طرح بھی ان کو مایوس نہیں کرنا چاہتا۔
ان کا کہنا تھا کہ افواہوں پر نہ جائیں،میڈیا کے لہجوں پر نہ جائیں، سوشل میڈیا پر نہ جائیں ۔ اپنی قیادت پر اعتماد کرو ، یہ لوگ ہم سے زیادہ آپ کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ اپنی اولاد کیلئے اس کے ماں باپ سے زیادہ کوئی خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ آپ کی قیادت جو آپ کے حق میں فیصلہ کرے گی وہی آپ کو مستقبل میں آگے لے کر جائے گا۔ان کا کہنا تھا جمعیت علمائے اسلام واحد جماعت ہے جس نے مذہبی نوجوان کی تربیت کی ہے ، ان کو سیاسی را ہ دکھائی ہے ، وہ ان کے خیر خواہ نہیں ہیں جو ان کو اشتعال دیتے ہیں۔ میں نے ریاست کے جذباتی ماحول کو شکست دی ہے۔ میں نے امریکہ اور مغرب کی سازش کو ناکام بنایا ہے ۔ پاکستان جمعیت علمائے پاکستان نے نوجوان کو بغاوت سے دور رکھا ہے،سازشوں سے دور رکھا ہے، تم ہمیں راستے نہ بتائو ۔
ان کا کہنا تھا کہ جو حالات عراق، افغانستان، لیبیا، شام میں پیدا کیے گئے وہ پاکستان میں بھی یہی حالات پیدا کر کے پاکستان کے نوجوان کو نیست و نابود کر دینا چاہتے تھے لیکن ہماری حکمت عملی کامیاب رہی ۔ اتنا بڑا دینی جماعت کا اجتماع کا گواہ ہے ۔دنیا بھر کا میڈیا اعتراف کر رہا ہے یہ اجتماع 2014ء کے اجتماعات کی خرافات سے پاک ہے۔ جو جنسی آلودگی ڈی چوک میں پھیلائی گئی پوری قوم شرم سے جھک گئے۔ اس اجتماع میں جو خواتین کی تذلیل کی گئی ہمارے اجتماع نے ان کو عزت دی۔ تم کون ہوتے ہو ہماری حفاظت کرنے والے ہم تم سے بہتر جانتے ہیں پاکستان کی سیاست کو، تم سے بہتر سیاستدان ہیں۔ تم تو راتوں کو نشوں میں دھت ہو کر سیاست کرتے ہو۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں سے رابطے میں ہیں ،میں کوشش کر رہا ہوں کل اجلاس ہو۔ ہم اپنے مستقبل کو بہتر جانتے ہیں ہم نے لمبا سفر کیا ہے۔ جب سے پاکستان بنا ہے ہم نے پاکستان کے ساتھ سفر کیا ہے۔ برصغیر کی دو سو سال کی تاریخ میں ہمارے اکابرین کی تاریخ کا سفر ہے ہم یہاں وہ لوگ بیٹھے ہیں جمعہ جمعہ آٹھ دن کی سیاست کرنے والے یہ ہمیں سیاست بتائیں گے۔ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر سیاست اور غریب کی سیاست بتائیں گے۔ ہم نے دنیا کو راستہ بتانا ہے۔ ہم نے قوم کی رہبری کرنی ہے۔ یاد رکھیں تحریک بہت بڑا پتھر سمندر میں پھینک کر بھونچال پیدا کرنے کا نام نہیں ہے۔ تحریک سمندر کی لہروں کا نام ہے۔ لہریں چلتی ہیں نشیب و فراز کا شکار بھی ہوتی ہے۔ لہر کبھی ڈوب بھی جاتی ہے اور پھر ابھرتی ہے اور ساحل پر جا کر رہتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ عمران خان سن لو یہ تحریک ، یہ طوفان آگے بڑھتا جائے کہ تجھے اقتدار سے اٹھا کر باہر پھینک دے۔ان کا کہناتھا کہ ہمارے ایک دوست نے کہا کہ فضل الرحمن پر بغاوت کا مقدمہ ہونا چاہئے اس نے کہا کہ ہم وزیراعظم کے گھر پر حملہ کر کے اس کو گرفتار کرلیں گے۔ جس جوش و جذبہ کے ساتھ آپ آئیں اگر یہ سیلاب وزیراعظم کے گھر کی طرف بڑھ جائے تو کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا۔ لیکن ہم پر امن لوگ ہیں ایسا نہیں کریں گے ۔ تم ہمیں بغاوت کی بات کرتے ہو ، ہم یہ میدان سر کر چکے ہیں اب ہم نے اپنی جان اپنی ہتھیلیوں پر رکھا ہے۔ تم ہمارے خلوص کا مقابلہ نہیں کرسکتے، تم ہماری حب الوطنی کا مقابلہ نہیں کر سکتے، آج تمہارے پاس اقتدار نہ ہو تو تم وہاں پر جا کر بیٹھے ہو گے۔ امریکہ کا گورا ہو یا پاکستان کا گورا ایک صف پر ہیں۔ ہم تمہاری حقیقت کو بھی جانتے ہیں حیثیت کو بھی جانتے ہیں ہم اپنے آپ کو بھی جانتے ہیں اپنی حد کو بھی۔ میں اس اسی لیے کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنا وزیراعظم کے منصب کی توہین ہیں، صدر کے منصب پر بیٹھنا صدر کے منصب کی توہین ہے۔
ان کا کہناتھا کہ اپنی تقریروں میں گالیاں بکتے ہیں، ہم سنجیدہ بات کرتے ہیں ، ہم اپنی بات پر قائم ہیں۔ تمہاری عادتیں گلی کوچے کے لوفر سے زیادہ نہیں ہے۔ گلی کوچوں کی زبان بولنے والے قوم کے حکمران بن گئے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے۔ کوئی شائستگی ہوتی ہے۔ جو فیصلہ قیادت کرے گی اس کے ساتھ چلے گی۔ ہمارے لوگ منظم ہیں ، آج ہمارے لوگ یہاں بیٹھے ہیں نعتیں پڑھ رہے ہیں، نماز پڑھ رہے ہیں ، ذکر و اذکار ہو رہاہے۔ میں آپ کے جذبے و خلوص کو سلام کرتا ہوں۔جو اعتماد آپ مجھ پر کر رہے ہو اس سے بڑھ کر میں آپ سے کر رہا ہوں یہ اعتماد کا رشتہ ہے جس نے جذبہ جہاد اور شوق شہادت پیدا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ہمارے پاس پلان بی اور سی بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد یونائیٹڈ نے لاہور قلندرز کی پوری ٹیم127 پر آوٹ کر کے میدان مار لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں