Women-blood

عورت کیلئے کم اور ناقص غذا بیماری کا سبب بنتی ہے

EjazNews

چونکہ لڑکیوں اور عورتوں کواکثر اپنی ضرورت سے کم مقدار میں اور کم غذائیت والی غذا میسر آتی ہے ، اس لیے ان کے بیمار پڑنے کا امکان زیادہ رہتا ہے۔ کم اور ناقص غذا کی وجہ سے ہونے والی چند عام بیماریاں یہ ہیں:
خون کی کمی (انیمیا)
انیمیا کے مریض میں خون کی کمی ہوتی ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں خون کے سر خ خلیوں کے ٹوٹنے کی رفتار ایسے خلیوں کے بننے کی رفتار سے بڑھ جاتی ہے۔ چونکہ عورتوں کا بہت سا خون ان کی ماہواری کے دنوں میں ضائع ہو جاتا ہے اس لیے ان عورتوں میں اکثر خون کی کمی پائی جاتی ہے جن کی عمر بلوغت (بالغ ہونا) اور (ماہواری کا سلسلہ بالکل ختم ہوجانا) کے درمیان ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں حاملہ عورتوں کی نصف تعداد، خون کی کمی کا شکار ہوتی ہے کیونکہ ان کے جسم کو ، شکم میں بڑھنے والے بچے کے لیے اضافی خون تیار کرناپڑتا ہے۔
خون کی کمی ایک سنگین بیماری ہے۔ اس کی وجہ سے عورت کے دوسری بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔ اور اس کے کام کرنے اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ خون کی کمی میں مبتلا عورتوں کو زچگی کے دوران میں بہت زیادہ خون بہہ جانے کا امکان ہوتا ہے ۔ وہ زچگی کے دوران مر بھی سکتی ہیں۔
علامات:
پپوٹوں کا اندرونی حصہ ، زبان اور ناخنوں کا پیلا ہونا۔
کمزور اور بہت تھکن محسوس کرنا۔
سرچکرانا ، خصوصاً بیٹھے ہوئے یا لیٹے رہنے کی حالت سے کھڑے ہونے پر۔
غشی (بے ہوش ہونا)۔
سانس پھولنا، ہانپنا۔
دل کی تیز دھڑکن۔
انیمیا کے اسباب:
انیمیا کا سب سے عام سبب آئرن سے بھرپور غذا کافی مقدار میں نہ کھانا ہے،کیونکہ خون کے سرخ خلیے بنانے کے لیے آئرن کی ضرورت ہے ۔
دیگر اسباب یہ ہیں:
ملیریا ، جو خون کے سرخ خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
خون کسی بھی طرح سے ضائع ہونا، مثلاً
بھاری مقدار میں ماہواری آنا (ایک درون رحمی (انٹرایوٹیرین) آلہ(آئی یو ڈی) آنے والے خون کی مقدار بڑھا سکتا ہے)
زچگی
طفیلی جانداروں اور کیڑوں کی وجہ سے خونی اسہال (پیچش)۔
معدے کا خونی السر
کسی زخم سے بہت زیادہ خون بہنا۔
علاج او ر روک تھام:
اگر ملیریا، طفیلی جاندار (پیراسائٹس) یا کیڑے، آپ میں خون کی کمی کا سبب ہیں تو پہلے ان بیماریوں کا علاج کریں۔
آئرن سے بھرپور غذائیں کھائیں۔ اس کے ساتھ وٹامن اے اور سی سے بھرپور غذا ئیں بھی لیں ، جو جسم میں آئرن کے جذب ہونے میں مدددیتی ہیں ۔ ترش رس والے پھلوں اور ٹماٹر میں وٹامن سی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ گہرے زرد اور گہرے سبز رنگ کے پتوں والی سبزیوں میں وٹا اے خوب ہوتا ہے۔ اگر کوئی عورت آئرن سے بھرپور غذا کافی مقدار میں نہیں کھا سکتی تو اسے آئرنگ کی گولیاں لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
بلیک ٹی (بغیر دودھ کی چائے) یا کافی پینے یا کھانے کے ساتھ اناج کا اوپر چھلکا کھانے سے گریز کریں۔ یہ اشیاءجسم میں پانی کے ورم بننے سے روک سکتی ہیں۔
طفیلی جاندار وں (پیراسائٹس) کے انفیکشن سے بچنے کے لیے صاف پانی پئے۔
پاخانہ کرنے کےلیے لیٹرین جایا کریں تاکہ فضلے کے ساتھ خارج ہونے کیڑے کے انڈے ، کھانے کی اشیا یا پانی کے ذرائع تک پھیلنے نہ پائیں۔ اگر آپ کے علاقے میں ہک ورم عام طور پر پائے جاتے ہیں تو جوتے پہنے رہنے کی کوشش کیا کریں۔ بچوں کی پیدائش میں کم از کم 2سال کا وقفہ رکھیں۔ اس طرح آپ کے جسم کو دوزچگیوں کے درمیان کچھ آئرن اپنے اندر محفوظ کرنے کا موقع مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  عورت کی صحت پورے سماج کا مسئلہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں