molana fazlu rehman

مولانا فضل الرحمن کی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی اب کیا ہوگا؟

EjazNews

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ 27اکتوبر کو شروع ہوا تھا جو کہ 31اکتوبر کو اسلام آباد میں دھرنے کی صورت اختیار کر گیا۔ جب تک یہ آزادی مارچ اسلام آباد تک نہیں پہنچا تھا متضاد رائے پائی جاتی تھیں کہ جلسہ ہو کر آزادی مارچ ختم ہو جائے اور یہ صرف پاور شو ہو گا یا پھر دھرنا ہوگا۔ مولانا نے تمام کارڈ سنبھال کر رکھے ہوئے تھے اور اسلام آبادپہنچ کر انہوں نے دھرنے کا اعلان بھی کیا اور دھرنے پر بیٹھے بھی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے واضح کر دیا تھا کہ وہ اس دھرنے میں شریک نہیں ہیں ،انہوں نے صرف جلسے کا کہا تھا لہٰذا وہ جلسہ کر کے واپس چلے گئے۔
مولانا فضل الرحمن نے اسلا م آباد پہنچ کر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کیا اور خطاب میں انہوں نے حکومت کو دو دن کی مہلت دی کہ وزیراعظم استعفیٰ دے دیں ۔ اب آگے کا لائحہ عمل کیا ہوگا سب لوگ مولانا فضل الرحمن کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ریاست سے ٹکرائیں گے یا پھر واپس چلے جائیں گے۔
اگر دھرنوں کی حالیہ تاریخ کو دیکھا جائے تو طاہر القادری نے دو دفعہ دھرنا دیا تھا لیکن نتیجہ کیا نکلا یہ طاہر القادری ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ جو کہ کینیڈا سیٹل ہو چکے ہیں ۔ البتہ ان کی تنظیم ضرور پاکستان میں کام کر رہی ہے۔ جس کے تحت سکول، یونیورسٹیاں اور تحقیقی و تعلیمی ادارے چل رہے ہیں۔
موجودہ وزیراعظم عمران خان نے بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دھرنا دیا تھا۔ ان کا دھرنا بڑا دلچسپ تھاکیونکہ دن کے وقت اس دھر نے کے شرکاء اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے تھے اور رات کو روٹین سے دھرنے میں پہنچتے تھے ۔ وہاں بیٹھنے والی اکثریت طاہر القادری کی تھی کیونکہ طاہر القادری کا دوسرا دھرنا اورعمران خان کا پہلا دھرنا مشترکہ ہوگیا تھا۔ اس مشترکہ دھرنے نے پی ٹی وی کی عمارت پر بھی حملہ کیا تھا اور سپریم کورٹ کی دیواروں پر گندے کپڑے بھی لٹکائے تھے ۔
موجودہ حکومت کیخلاف مولانا فضل الرحمن نے دھرنا دیا ہے۔ گزشتہ رات انہوں نے عوام سے خطاب میں کہا تھا کہ مودی عمران کی وجہ سے کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کو بگاڑنا نہیں چاہتا لیکن ڈی چوک تک جانا بھی تجاویزکا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت غیر آئینی اور خلائی ہے ۔ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ ناجائز حکومت کا تختہ الٹ دینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلے اتوار کو کرنے ہیں ا ب ہمارے ہاتھ میں رٹ ہے ہم ملک چلائیں ، ڈی چوک بھی جا سکتے ہیں۔
اب یہ دو دن کی مہلت ختم ہو رہی ہے اورمولانا فضل الرحمن رہبر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں ۔ اب حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس پر سب ہی نظریں جمائے بیٹھیں ہیں ہم بھی۔

یہ بھی پڑھیں:  اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بلاول کے خاندان نے جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں:میاں شہباز شریف

اپنا تبصرہ بھیجیں