Bad Adadat

صحت اورعادتوں کی غلامی

EjazNews

کوئی عادت راتوں رات نہیں بنتی۔ لیکن بہت سے لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کیفین رکھنے والے مشروبات پینا، تمباکو نوشی کرنا، شراب نوشی کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے، معمولی سی پیش کش پر فوراً ان کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے عادی ہو جانے پر انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ چنانچہ ان عادتوں کی غلامی سے پیدا ہونے والے ضرر رسا ں اثرات کا جائز ہ لینے کے ساتھ ساتھ آپ کو ان سے بچنے کی راہ دکھائی جائے گی۔
چائے، کافی اور آپ:
دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی چائے پیتی ہے۔ اسی طرح دنیا کے کچھ حصوں میں کافی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چائے اور کافی دونوں ہی کیفین رکھتی ہیں۔ (کیفین ایک الکا ئیڈ ڈرگ (نشہ ) ہے جو فوری طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ چائے کی پتیوں اور کافی کے بیجوں میں یہ ڈرگ پائی جاتی ہے۔ موڈ بہتر بنانے اور سستی دور کرنے کیلئے کیفین دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ یہ اضمحلال، تھکاوت اور غنودگی دور کرتی ہے اور تھکے ہوئے ذہن اور جسم کو زیادہ مستعدی سے کام کرنےپر اس وقت تک آمادہ رکھتی ہے جب تک اس کا اثر قائم رہتا ہے ۔ کیفین کے ذرائع صرف چائے اور کافی ہی نہیں ہیں بہت سے ہلکے مشروبات بھی اس کی کافی مقدار رکھتے ہیں جن میں پیپسی اور کوکا کولا شامل ہیں۔ کیفین کی عادت اپنانا اور چھوڑنا بہت تیزی سے ممکن ہے۔ محض چار یا پانچ دن اس کو قطعی طور پر ترک کر دینے کے لیے کافی ہیں۔ انسانی عادات کے ماہرین نے اس سلسلے میں کامیا ب تجربے کیے ہیں اور اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کسی نفسیاتی یا حیاتیاتی الجھن میں پڑے بغیر ایسا کرنا ممکن ہے۔
کیفین اگر زیادہ مقدار میں لی جائے تو یہ اعصاب زدگی، ا ضطراب اور بے خوابی دو چار کر دیتی ہے۔ کئی طرح سے یہ ایک نشہ ہے اور کوئی بھی شخص آسانی سے اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ عادی ہونے کے بعد جب یہ زیادہ دیر تک نہ ملے تو سردرد، اعصاب کے درد، اینٹھن اور سستی جیسی کوئی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
کیفین اور کولیسٹرول:
سائنس دان اور معالج انسانی صحت پر کیفین کے اثرات کا جائزہ ایک طویل عرصہ سے لے رہے ہیں کئی سال سے ایک بحث بھی چل رہی ہے کہ کیا کیفین سے پاک کافی استعمال کرنے سے دل کی بیماری کے امکانات کم ہو جاتے ہیںاور ریگولر کافی کے برعکس کولیسٹرول کی مقدار کم رہتی ہے۔ ایک تحقیق میں عوام کی صحت کے بارے میں ان دلچسپ سوالوں کا جواب سامنے آیا ہے کہ کولیسٹرول اور دل کی بیماری کا کافی سے باہمی تعلق کس طرح سے اور کہاں تک ہے؟۔
1980ء کے عشرے میں سیکنڈے نیویا کے ماہرین کو معلوم ہوا کہ پسے ہوئے بیجوں کو ابال کر بنائی جانے والی کافی کسی اور طرح کی کافی سے زیادہ دل کے لیے نقصان دہ ہے۔ کافی تیار کرنے کے لیے جس قسم کے بیج استعمال کیے جاتے ہیں ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ کولیسٹرول لیول کو متاثر کرتے ہیں ۔ ’’روبو ستا‘‘ بیج عام طور پر کیفین سے پاک کافی تیار کرنے کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ تحقیق پر ماہرین کے علم میں آیا کہ یہ ’’آرابیکا‘‘ بیجوں سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔ اور کولیسٹرول لیول میں اضافہ کرتے ہیں۔ آرابیکا بیج ریگولر کافی بنانے کے کام آتے ہیں ۔ جونز ہاپکنز میڈیکل سکول کے 1130گریجوایٹس کے ایک مطالعہ کے مطابق بہت زیادہ کافی پینے والے جو روزانہ پانچ کپ سے زیادہ کافی پیتے ہیں ، انہیں عام لوگوں کے برعکس دل کی بیماری کا خطرہ دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ کئی اور تحقیقی سروے بھی ثابت کرتے ہیں کہ زیادہ چائے اور کافی کا استعمال دل کی بیماری کو جنم دیتا ہے۔ ایک لاکھ افراد کے کوائف مرتب کرنے پر کیلیفورنیا کے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان لوگوں کے لیے ہارٹ اٹیک کا خطرہ کسی حد تک زیادہ ہوتا ہے جو روزانہ 4کپ سے زیادہ کافی پیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دل کے مرض اور اموات کا تعلق کافی پینے والوں میں واضح تر ہے۔ جتنے لوگ زیادہ کافی پینے والے ہوتے ہیں ان کی اموات زیادہ تر دل کی شریانوں کی بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے۔
تمباکو نوشی کے سنگین خطرات:
دل کی شریانوں کے بہت سے مریض زیادہ تمباکو نوشی کے عادی ہوتے ہیں۔ دھوئیں میں پایا جانے والا کینسر اور زہریلے اثرات رکھنے والا مادہ سانس کی نالی، پھیپھڑوں اور جلد اور بلغمی جھلیوں کو آہستہ آہستہ نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ پھیپھڑوں کی بافتیں بتدریج زخمی ہوتی رہتی ہے۔ ان کی لچک ختم ہو جاتی ہے اور پھیپھڑوں کا پھیلنا محدود ہو جاتا ہے۔ چنانچہ سانس پھولنے لگتا ہے ۔ اعضائے تنفس کی جلد مسلسل متاثر ہونے کے بعد کھانسی، بلغم اور بار بار انفیکشن کے مرض پیدا کردیتی ہے۔
دھوئیں میں پایا جانے والا نکوٹین، شریانوں کو سکیڑنے اور خون کے لوتھڑے پیدا کرنے کا عمل شروع کر دیتا ہے۔ خون کے سرخ ذرات، نکوٹین کی وجہ سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ متاثرہ سرخ ذرات دل کی شریانوں میں خون کے لوتھڑے (بلڈ کلاٹ) پیدا کردیتے ہیں۔ نکوٹین خون میں فائیبر نیوجن نامی پروٹین کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔ یہ پروٹین خون کے لوتھڑے بنانے کا عمل تیز کر دیتی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کے خون میں یہ پروٹین عام طور پر زیادہ پائی جاتی ہے۔
بالواسطہ تمباکو نوشی:
گزشتہ چند برسوں سے ماہرین کی توجہ بالواسطہ تمباکو نوشی کی طرف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے آپ خود تمباکو نوشی نہ کرتے ہوں لیکن ایسے افراد کے ساتھ بیٹھے ہوں جو تمباکو نوشی کر رہے ہوں تو آپ بھی فضا میں موجود ھواں نگل رہے ہوتے ہیں۔ آپ کی سانس میں اترنے والا یہ دھواں آپ کو بالواسطہ تمباکو نوشی کے زمرے میں لاتا ہے ماہرین کے مطابق بالواسطہ تمباکو نوشی کے نقصان دہ اثرات اتنے ہی شدید ہوتے ہیں جتنے بلا واسطہ یعنی بذات خود تمباکو نوشی کرنے والے کے لیے ہوتے ہیں۔
سگریٹ اور سگار:
تمباکو نوشی کی سبھی شکلیں نقصان دہ ہیں۔ متعدد تحقیقی کام اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ سگریٹ چھوڑ کر سگار پینے والے بھی دل کے مرض کا خطرہ اسی شدت سے رکھتے ہیں ۔ کیونکہ سگار پینے والے زیادہ دھواں نگلتے ہیں جو ان کے دل اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
شراب نوشی:
شراب کا استعمال منفی اثرات پیدا کرتا ہے۔ یہ منفی اثرات محض دل ہی نہیں دیگر اہم اعضا کو بھی نقصان سے دو چار کرتے ہیں۔ شراب پینے سے کولیسٹرول لیول بڑھ جاتا ہے چونکہ شراب کی عادت انسان کو حواس باختہ بنا دیتی ہےاور زیادہ مقدار کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اضافہ کرتی ہے ،اس لیے مناسب ترین حل یہی ہے کہ شراب نوشی نہ کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  جسمانی صحت، ذہنی صحت سے جڑی ہے
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں