hazrat hina

حضرت حنہ علیہا السلام کا ذکر خیر

EjazNews

یہ حضرت عمران علیہ السلام کی بیوی اور حضرت مریم علیہا السلام کی ماں ہیں، بڑی نیک سیرت اورپاک نیت والی تھیں۔ انھیں عبادت الٰہی اور خدمت گزاری کا بڑا شوق تھا۔ جب یہ پیٹ سے ہوئیں تو خوشی میں آکر یہ نذر مان لی کہ جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اس کو بیت المقدس کے لیے آزاد چھوڑ دوں گی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت کرے گا اس سے دنیا کا کوئی کام نہیں لیا جائے گا۔ اس زمانے میں ایسا کرتے تھے۔ چنانچہ حنہ علیہاالسلام کے پیٹ سے خلاف توقع لڑکی پیدا ہوئی، انھیں بڑا افسوس ہوا ،کہنے لگیں خدا یا لڑکی پیدا ہو گئی اور یہ لڑکے کے برابر نہیں ہوسکتی ہیں۔ مجبور ہوگئی نذر کیسے پوری کروں۔ چونکہ اس لڑکی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہونے والے تھے اور اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف تھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسی لڑکی ہزاروں لڑکوں سے اچھی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس نذر کو قبول فرمالیا اور ان کا نام مریم ؑ رکھا گیا جو بڑی کرامت اور بزرگی والی عورت ہوئی۔ حضرت ذکریا علیہ السلام نے ان کی پرورش کی۔ قرآن مجید میں ان کا بیا ن اس طرح آیا ہے:
ترجمہ:’’جب کہ عمران کی بیوی نے کہا اے میرے رب جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اس کو (دنیاوی کاروبار) سے آزاد کرتی ہوں تو میری طرف سے قبول فرما بلا شبہ تو سنتا اور جانتا ہے۔ غرض جب عمران کی بیوی کو وضع حمل ہوا تو اس نے کہا پروردگار میرے تو لڑکی پیدا ہوئی حالانکہ جو کچھ اس سے پیدا ہوا تھا خدا اس سے خوب واقف تھا اور لڑکا اس لڑکی کی طرح نہیں ہوسکتا تھا اور میں نے اس کا نام مریم ؑ رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان ملعون سے بچا کر تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ بالآخر خدا نے اس کو قبول کیا اور اچھی طرح اس کی نشوونما کی۔‘‘
تم سوچو کہ حضرت مریم علیہ السلام کی ماں حضرت حنہ کی کیسی پاکیزہ نیت تھی۔ ان کی پاکیزہ نیت کی برکت سے جو اولاد پیدا ہوئی وہ بڑے نبی کی ماں بنیں اوران کے ذریعہ سے اللہ کی مخلوق کو ہدایت نصیب ہوئی۔ تم بھی اپنی نیتوں کو پاک رکھو اور جو کام کرو وہ اللہ تعالیٰ ہی کے واسطے کرو کسی کو دکھانے اورسنانے کے لیے ہرگز نہ کرو۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں