rahber kamati

مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں ، اگر یہ معاہدہ نہ کرتے تو پھر آزاد ہوتے

EjazNews

حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے پریس کانفرنس کی جس میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دئیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے ۔ اگر مہنگائی ہے یا اور معاملات ہیں تو آئیے مل کر بیٹھتے ہیں بات چیت سے مسائل کا حل نکالتے ہیں اگر آپ کے پاس کوئی اچھی تجویز ہے تو دیں ہم مانیں گے۔ یہ افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، جس کے پیچھے ان کے مقاصد ہے، جیسے آج کل مسئلہ کشمیر بہت گھمبیر تھا لیکن وہ پیچھے چلا گیا، اس کا فائدہ تو بھارت کو پہنچ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایچ نائن میں ان کی خواہش کے مطابق جگہ دی گئی اور رہبر کمیٹی کے ساتھ معاہدے کی مولانا فضل الرحمن بھی توثیق کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے الفاظ پر قائم ہے اور معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ نہ کرتے تو پھر آزاد ہوتے لیکن اگر کچھ ہوگا تو یہ ان کے گلے پڑے گا، اگر ہم سے کوئی غلطی ہوتی تو آپ لوگ سوال کرسکتے ہیں لیکن اگر معاہدہ وہ توڑتے ہیں تو آپ کو بتانا پڑے گا۔
جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ مولانا فضل الرحمن یا کسی بھی اور شخص کو اداروں پر اس طرح بات کرنے کا اختیار حاصل ہے جس پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم عدالت میں جارہے ہیں یہ اس کا جواب وہی دیں گے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ مہنگائی ہے اور یہ بات احتجاج کرنے والوںکی ٹھیک ہے تو اسد عمر نے اس کا جواب دیا کہ پیپلز پارٹی، نواز لیگ کے پہلے سال کی نسبت پی ٹی آئی کے دور میںمہنگائی کم ہوئی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت نہیں چاہتے اور زور زبردستی سے حکومت کو توڑنا چاہتے ہیں جو پاکستان جیسے بڑے ملک میں کبھی نہیں ہوسکتا، یہ کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے کہ 50 ہزار لوگ آکر تختہ الٹ دیں، ایسا کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں شہباز شریف کے عشائیے میں کون سے اہم رہنما شریک نہیں ہوئے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں