angla with modi

بعض اوقات لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں

EjazNews

یہ محاورہ بڑا پراناہے پر نریندر مودی کے سعودی عرب اور پھرجرمنی کے دورے پر بڑا فٹ بیٹھتا ہے ۔ نریندر مودی اپنے ملک میں تو مسلمانوں کی دی ہوئی ٹوپی نہیں پہنتے لیکن سعودی عرب میں جا کر تو عربی رومال بھی پہن لیا ۔ یہی نہیں جرمنی میں جب مشترکہ طور پر نریندر مودی اور انجیلا مرکل نے میڈیا کو بریف کیا تو اس میں واضح طورپر انہوں نے کہا کہ میں انڈیا کا موقف بھی جانتی ہوں لیکن کشمیرکی موجودہ صورت حال بہتر نہیں ہے۔ یقینی طور پر اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان اور بھارت آپس میں بیٹھ کر مسئلہ حل کریں۔ کشمیر کا پر امن حل تلاش کریں۔

کشمیر ایک متناع خطہ ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے ۔کشمیریوں کے ہر گھر نے اپنا کوئی نہ کوئی فرد اس لیے شہید نہیں کروایا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ مل جائیں۔انڈیا نے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے لیکن دنیا دیکھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لبنان کا بحران ختم ہو ہی گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں