women+young

عورتوں کیلئے کم خرچ میں بہتر کھانا

EjazNews

جب آمدنی محدود ہو تو اسے دانشمندی سے استعمال کرنے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ کم رقم خرچ کرکے زیادہ حیاتین (وٹامن) معدنیات (منرلز)اور لحمیات (پروٹین) حاصل کرنے کیلئے چند تجاویز ہیں۔
لحمیات والی غذائیں:
مچھلیاں، مٹر ،دالیں اور اسی قسم کی دوسر ی غذائیں (جو پھلیاں کہلاتی ہیں) لحمیات کا اچھا اور سستا ذریعہ ہیں۔ اگر ان پھلیوں کو پکانے اور کھانے سے پہلے ان کی کونپلیں پھوٹنے دی جائیں تو ان میں وٹامن بڑھ جاتے ہیں۔حیوانی پروٹین کے سب سے سستے ذرائع میں انڈے بھی شامل ہیں۔ کلیجی، دل، گردے، اور مچھلی اکثر گوشت کے مقابلے میں سستی مل جاتی ہے اور ان میں غذائیت گوشت ہی کی طرح ہوتی ہے۔
اناج:
چاول، گندم اور دوسرے اناج میں غذا اس صورت میںزیادہ ہوتی ہے جب ان کا اوپری چھلکا سل میں اتار نہ دیا جائے۔
پھل اور سبزیاں:
درخت سے توڑنے یا فصل سے اتارنے کے بعد جتنی جلدپھلوںاور سبزیوں کو کھا لیا جائے گا۔ اتنی ہی زیادہ ان میںغذائیت ہوگی۔ جب انہیں محفوظ کر یں تو انھیں کسی ٹھنڈی اور تاریک جگہ پر رکھیں تاکہ ان کے وٹامن ضائع نہ ہوں۔ سبزیاں پکاتے ہوئے کم سے کم پانی استعمال کریں کیونکہ سبزیوں کے وٹامن پکنے کے دوران، پانی میں چلے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں سبزیوں کے پانی کو سوپ میں استعمال کریں یا اسے پی لیا کریں۔
سبزیوں کی اوپری سخت پتیوں یا اوپر کے ڈنٹھل(مثلاً گاجر یا پھول گوبھی)میں بہت سے وٹامن ہوتے ہیںاور انہیںصحت بخش سوپ بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔مثلاً کساوا کے پتوں میں اس کی جڑ کے مقابلے میں سات گنا پروٹین اور زیادہ وٹامن ہوتے ہیں۔
بہت سے جنگلی پھلوں اور گودے والے پھلوں (بیریز) میں وٹامن سی اور قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور وہ اضافی وٹامن اور توانائی فراہم کر سکتے ہیں۔
دودھ اور دودھ کی مصنوعات:
انھیں کسی ٹھنڈی اور تاریک جگہ پر رکھنا چاہیے۔ ان میں جسم کی نشوونما میں حصہ لینے والی پروٹین اور کیلشیم کی مقدار بہت ہوتی ہے۔
ڈبہ بند غذاﺅں پر رقم خرچ کرنے سے بچیں:
اگر والدین بچوں کی مٹھائیوں اور ٹھنڈی بوتلوں وغیرہ پر رقم خرچ کرنے کی بجائے، اسی رقم کو غذائیت والی غذاﺅں پر خرچ کریں تو ان کے بچے ، اسی رقم کی بدولت زیادہ صحت مند ہو جائیں گے۔
چونکہ زیادہ تر افراد اپنی ضرورت کے مطابق وٹامن ،غذاﺅں سے حاصل کر سکتے ہیں اس لیے یہ بہتر ہے کہ وٹامن کی گولیوں اور انجکشنوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے غذائیت والی غذاﺅں پر رقم خرچ کی جائے۔ اگر آپ کو وٹامن لینا ہی پڑے تو گولیاں لیں۔ وہ بھی انجکشن کی طرح کام کرتی ہیں اور ان کی قیمت کم ہوتی ہے۔
کھانے کے بارے میں نقصان دہ تصورات:
دنیا کے کئی حصوں میںعورتوں اور خوراک کے بارے میں کئی روایتیں اور عقید ے رائج ہیں جو مفید ہونے کی بجائے مضر ہوتے ہیں۔ مثلاً
یہ بات درست نہیں کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کم غذا کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکوں کو زیادہ غذا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں عورتوں کو بھی اتنی ہی محنت کرنی پڑتی ہے جتنی کہ مرد کرتا ہے اور عورت کو بھی مرد ہی کی طرح اتنا ہی صحت مند ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لڑکیاں بچپن میں صحت مند ہوتی ہیں اور انھیں اچھی غذا کھلائی جاتی ہے وہ بڑی ہو کر صحت مند عورتیں بنتی ہیں اور سکول اور گھر میں ان کو بہت کم مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ خیال درست نہیں کہ عورت کو حمل اور دودھ پلانے کے زمانے میں غذاﺅں سے پرہیز کرناچاہئے۔ بعض علاقوں میں لوگوں کا خیال ہے کہ عورت کو اپنی عمر میں مختلف مواقع پر کئی غذاﺅں سے پرہیز کرنا چاہئے جیسے پھلیاں، انڈے، مرغی، دودھ کی مصنوعات گوشت، مچھلی، پھل یا سبزیاں۔ ان مواقع میں عورت کی ماہواری کا عرصہ حمل کا زمانہ ، بچے کی پیدائش کے فوراً بعد، دودھ پلانے کا زمانہ شامل ہیں لیکن درست بات یہ ہے کہ عورت کو ان تما م غذاﺅں کی ضرورت ہوتی ہے خصوصاً حمل کے زمانے میں اور دودھ پلانے کے دنوں میں۔ ان غذاﺅں سے پرہیز کے نتیجے میں کمزوری یا بیماری ہو سکتی ہے حتیٰ کہ موت تک واقع ہوسکتی ہے۔
یہ بات درست نہیں کہ عورت کو پہلے اپنے خاوند والوں کوکھلانا چاہئے ۔ بعض اوقات عورت کو یہ بات سکھا دی جاتی ہے کہ اسے خود کھانا کھانے سے پہلے اپنے گھر والوں کو کھلانا ہے۔ وہ صرف بچا کھچا کھانا کھاتی ہے اور اکثر اسے اتنی غذا نہیں ملتی جتنی کہ خاندان کے دیگر لوگوں کوملتی ہے۔ ایسی عورت کبھی صحت مند نہ ہوگی اور اگر عورت حاملہ ہو یا اس کابچہ حال ہی میں پیدا ہوا ہو تو غذا نہ لینے کا طریقہ کار بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔
اگر کوئی خاندان اچھی غذا لینے میں کسی عورت کی کوئی مدد نہیں کرتا تو ہم اس عورت کا حوصلہ بڑھا تے ہوئے کہیں گے کہ وہ کافی غذا حاصل کرنے کے لیے جوکوشش کر سکتی ہے کرے۔ ممکن ہے اسے کھانا پکاتے ہوئے کچھ کھانا پڑے یا وہ کچھ غذا اپنے لیے رکھ لے اور بعد میں اس وقت کھالے جب اس کا شوہر گھر پر نہ موجود ہو۔
یہ خیال درست نہیں کہ ایک بیمار فرد کو ایک صحت مند فرد کے مقابلے میں کم غذا کی ضرورت ہے۔ اچھی غذائیں نہ صرف بیماری کی روک تھام کرتی ہیں بلکہ ان کی وجہ سے بیمار فرد کو بیماریوں کا مقابلہ کرنے اور دوبارہ صحت مند ہونے میں مدد ملتی ہے۔ ایک عام اصول یہ ہے کہ صحت کی حالت میں جو غذائیں لوگوں کے لیے اچھی ہیں، بیماری کی حالت میں بھی ان لوگوں کےلئے وہی غذائیں اچھی ثابت ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  [۲] اسقاط حمل سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں