hazrat balqes

حضرت بلقیس کا ذکر خیر

EjazNews

یہ ملک یمن شہر سبا کی مہارانی تھیں۔ لاکھوں لاﺅ لشکر تھے، اس کے سینکڑوں وزیر اور مشیر کارتھے۔ہر ایک کے ماتحت ہزاروں جمعیت، ہر قسم کا دنیاوی سامان مہیا تھا۔ اس کا ایک نہایت شاندار تخت تھا جس پر وہ جلوس کرتی تھیں۔ وہ تخت سونے اور موتی اورقیمتی چیزوں سے جڑا ہوا تھا۔ اسی ہاتھ اونچا اور چالیس ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمر بستہ رہتی تھیں۔ اس کا ایک دیوان خاص تھا جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا۔ بلند و بالا، کشادہ اور پختہ فراخ اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصہ میں بھی تھے اور اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اوراسی کے مقابلے کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس سورج کو سجدہ کرتے تھے اور راجا پراجا سب ہی آفتاب پرست تھے۔ خدا کا پجاری ان میں سے ایک بھی نہیں تھا۔شیطان نے گمراہ کر رکھا تھا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں بلقیس شہر سبا کی ملکہ تھی۔ ہد ہد نے بلقیس کے ملک اور اس کی پوجا پاٹ وغیرہ کی ساری باتیں حضرت سلیمان ؑ سے بیان کیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے جو فرمایا وہ اس آیت میں ہے:
ترجمہ: ”سلیمان علیہ السلام نے کہا اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے۔ میرے اس خط کو لے جا اور انھیں دے دے پھران کے پاس سے ہٹ آ۔ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتی ہے۔ وہ کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک با وقعت خط ڈالا گیا ہے جو سلیمان ؑ کی طرف سے ہے اور جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہے یہ کہ تم میرے سامنے سرکشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آجاﺅ۔ اس نے کہا: اے میرے سردارو تم میرے اس معاملہ میںمجھے مشورہ دو کہ میںکسی امر کا قطعی فیصلہ کر سکوں جب تک تمہاری موجودگی اور رائے نہ ہو نہیں کیا کرتی ان سب نے جواب دیا کہ ہم قوت اور طاقت والے اور سخت لڑنے بھڑنے والے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی سوچ لیجئے کہ ہمیں آپ کیا حکم فرماتی ہیں اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں اوروہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں ۔ فی الواقع وہ اسی طرح کرتے تھے۔ میں انھیں ایک ہدیہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھ لوں کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ جب قاصد حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا کیا تم مال سے مجھے تھپک دینا چاہتے ہو۔ مجھے تو میرے رب نے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ بس تم ہی اپنے اس تحفے سے خوش رہو۔ جاﺅ ان کی طرف واپس لوٹ جاﺅ۔ ہم ان کے مقابلے پر وہ لشکر لائیں گے جن کے سامنے پڑنے کی ان میں طاقت نہیں اور انھیں ہم ذلیل و پست کر کے وہاں سے نکال باہر کرینگے۔ آپ نے فرمایا اے سردارو تم میں سے کوئی ہے جو ان کے مسلمان ہو کر میرے پہنچے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے لادے؟ ایک سرکش جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس لا دیتا ہوں یقین مانئے میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانت داراور جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکائیں اس سے بھی پہلے میں آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں۔ جب آپ نے اپنے پاس اسے موجود پایا تو فرمانے لگے۔ یہی میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری۔ شکر گزار اپنے ہی نفع کے لیے شکر گزاری کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا پروردگار بے پرواہ اور بزرگ ہے، غنی و کریم ہے حکم دیا کہ اس کے اس تخت میں سے کچھ پھیر بدل کر دو تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ راہ پالیتی ہے یا ان میں سے ہوئی ہے جو راہ نہیں پاتے۔ پھر جب وہ آگئی تو اس سے دریافت کیاگیا کہ ایسا ہی تیرا بھی تخت ہے اس نے جواب دیا کہ یہ گویا وہی ہے ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے اسے انہوں نے روک رکھا تھا جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتی رہتی تھی۔ یقینا وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔ اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر یہ حوض ہے اس نے پنڈلیاں کھول دیں۔ فرمایا یہ تو شیشے سے بندھی ہوئی عمارت ہے کہنے لگی میرے پروردگار میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی مطیع اور فرماں بردار بنتی ہوں۔“
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ہد ہد کی خبرسنتے ہی حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی تحقیق شروع کر دی کہ یہ سچا ہے یا جھوٹا۔ چنانچہ اسی ہد ہدسے یہ فرمایا کہ یہ میرا خط بلقیس کو دے اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھوا کر ہد ہد اڑا وہاں پہنچ کر بلقیس کے مکان میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اس کے سامنے رکھ دیا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہوا ۔ حیرت معلوم ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف دہشت بھی ہوئی، خط کو اٹھا کر مہر توڑی اور پڑھا ۔ اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء، وزراءسردار اور رﺅسا کو جمع کیا۔ اورکہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے پاس ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے اور وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے، سامنے با ادب رکھ کر یک سو ہو جاتا ہے۔ تو جان گئی کہ یہ خط مکرم ہے اورکسی باعزت شخص کابھیجا ہوا ہے۔پھر خط کا مضمون پڑھ کر سب کو سنایا کہ یہ خط حضرت سلیمان ؑ کا ہے۔ اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہے۔ ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ خدا کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم سے کسی میں ان کے مقابلے کی تاب و طاقت نہیں، پھرخط کی بلاغت ، اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کر دیا کہ یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں کے سوا ہے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انھیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا تم جانتے ہو جب تک تم میں سے مشورہ نہ کر لوں تم موجود نہ ہو۔ تم میں چونکہ کسی امر کافیصلہ تنہا نہیں کرتی ہوں اس وجہ سے میں تم سے بھی مشورہ طلب کرتی ہوں بتلاﺅ کیا رائے ہے۔سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو ہم تابعداری کے لیے موجود ہیں ۔اس میں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی اور مقابلے کی طرف رغبت دلائی۔ لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار اور دور اندیش تھی اور ہد ہد کے ہاتھوں خط ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی، یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے مقابلے میں میرا لاﺅ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی۔ اس لیے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کاقاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل و خوار کر دیتے ہیں۔ سرداران لشکر اورشہر کا بادشاہ خصوصاً ان کی نگاہوں میں چڑھ جاتے ہیں ،جناب باری نے بھی اس کی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے اور ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد جو اس نے ترکیب سوچی تھی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان علیہ السلام سے موافقت کر کے صلح کرے اس نے کہا اس وقت تو میں ایک گراں بہاں تحفہ انھیں بھیجتی ہوں کہ اس کے بعد وہ میرے قاصدوں کو کیا فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی بطور جزئیے کے بھیجتی رہیں اور انھیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس ہدیے کے بھیجنے میں اس نے نہایت دانائی سے کام لیا وہ جانتی تھی کہ روپیہ وہ چیز ہے جو فولاد بھی نرم کرد یتا ہے اور اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کر لیتے ہیں یا نہیں۔ اگر قبول کر لیا تو سمجھ لو وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر واپس کر دیا تو ان کی نبوت میں کوئی شک نہیں۔ پھر مقابلہ سراسر بے سود بلکہ مضر ہوگا۔ بلقیس نے بہت گراں قدر تحفہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ سونا چاندی جواہر وغیرہ ۔ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن ،لوگ کہتے ہیںکچھ عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا انھیں وہ پہچان لیں تو نبی مان لینا چاہیے۔ جب یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچے تو آپ نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے تو برتن ہی میں ہاتھ ڈال کر اپنی عادت کے مطابق ہاتھ دھوئے اور لڑکے جتنے بھی تھے سب نے برتنوں کو جھکا کر پانی لیا اور اپنے ہاتھ دھوئے۔ اس سے آپ نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ پہچان کر الگ الگ کر دیا کہ یہ لڑکیاں ہیں یہ لڑکے ہیں۔ (واللہ اعلم)
یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہ اسے ایسے پانی سے پُر کر دو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا ہو تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور اس کے پسینے سے اس برتن کو بھر دیا اس نے کچھ مہرے اور لڑی بھیجتی تھی آپ نے انھیں لڑی میں پرودیا۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لیے جاتے ہیںاب خدا کو معلوم ہے کہ ان میں سے کون سا واقعہ ہوا یا کچھ بھی نہیںہوا۔ البتہ بظاہر تو الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر قائم رہنا چاہتے ہو۔ محض ناممکن ہے مجھے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے ملک و مال، فوج و لشکر، سب میرے پاس موجود ہے۔ تم سے ہر حالت میں بہتر ہوں۔ ”فالحمد للہ “ تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو۔ یہ کام تم ہی کو سونپا کہ مال سے راضی ہو جاﺅ اور تحفہ تمہیں جھکادے۔ یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑ دویا تلوار روکو یہ بھی کہا گیا ہے کہ سبا سے بیت المقدس تک اس کے قاصد پہنچے اس سے پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کر ادئیے جس وقت قاصد پائے تخت پر پہنچے ان محلوں کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت ہی نہیں رکھتا۔ پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ ہدئیے ان ہی کو واپس کرواور ان سے کہہ دو مقابلے کی تیاری کرلیں۔ یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے۔ انہیں ہم سے جنگ کرنیکی طاقت ہی نہیں ہم انہیں ان کی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے۔ ان کے تخت و تاج کو روند دیں گے۔ جب قاصد اس تحفے کو واپس لے کر پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہوگیا اور خود بھی رعایا تمام لشکر مسلمان ہوگیا پھر وہ اپنے لشکرو ں سمیت حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ جب آپ نے اس کا یہ قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ جب قاصد واپس آتا ہے اور بلقیس کو پیغام نبوت پہنچتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں۔ پیغمبر کا مقابلہ کرکے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوئی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کر وں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں۔ یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک شخص کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اور اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاﺅ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے خلیفے کو اس کی حفاظت کی سخت تاکید کی۔ اور بارہ ہزار سردارجن میں سے ہر ایک کی ماتحتی میں ہزاروں آدمی تھے اپنے ساتھ لیے اور ملک سلیمان ؑ کی طرف چل دی۔ جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپ کو معلوم ہواکہ وہ قریب پہنچ چکی ہے۔ تو آپ نے اپنے ایک دربار میںجس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کہ کوئی ہے جو اس کے تخت کو اس کے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے کیونکہ جب وہ یہاں آجائے گی اور اسلام میں داخل ہو جائے گی پھر اس کا مال ہم پر حرام ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک طاقت ور سرکش جن جس کانام کوزن تھا جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگرآپ مجھے حکم دیں تو آپ کے دربار برخاست کرنے سے پہلے میں تخت کو یہاں لا دیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اورانصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربار عام میں تشریف رکھا کرتے تھے۔اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار اس میں کوئی چیز چراﺅں گا نہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے پہلے میرے پاس پہنچ جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اللہ حضرت سلیمان بن داﺅد علیہ السلام کی اس تخت کے منگوانے سے غرض یہ تھی کہ اپنے زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمان ؑ میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس جلدی تقاضے کو سن کرجس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا ابن عباس کا قول ہے کہ یہ آصف تھے جو حضر ت سلیمان علیہ السلام کا کاتب تھے۔ ان کے باپ کانام برخیا تھا۔ یہ ولی اللہ تھے جو اسم اعظم جانتے تھے، پکے مسلمان تھے اور بنی اسرائیل میں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچنے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ اسے میں لادوں گا۔ پس حضرت سلیمان ؑ نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی، ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کر کے دعا میں مشغول ہوئے اور یہ اس اعظم پڑھا: ”یا ذالجلال والاکرام “ یا فرمایا: ”الھنا ولہ کل شئی الھا واحدا لآ الہ الا انت ائتنی بعر شھا۔“ اسی وقت تخت بلقیس سامنے آگیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھے دیکھتے زمین میں سے نکل آیا۔ جب حضرت سلیمان ؑ نے اپنے سامنے اسے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ! جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔
خدائے تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بے نیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاج نہیں ۔ اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر و تبدل کر ڈالو پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔رنگ و روغن میں بھی اور نیچے اوپر سے بھی بدل دیاگیا۔کچھ کمی و زیادتی بھی کر دی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ۔
جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہی ہے تو اس نے جواب دیا کہ ہو بہو اسی جیسا ہے اس جواب سے اس کی دوربینی، عقلمندی اور دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھ کے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے اور بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو ایسی بیچ کی بات کہی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لبالب حوض تھا۔ شیشہ بہت ہی صاف اور شفاف تھا آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کر سکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا کہ پانی ہی پانی ہے حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض سلیمان علیہ السلام کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرناچاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے۔ آپ نے دیکھ لیا کہ جوبات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل آدمیوں جیسے ہی ہیں کوئی نئی بات یا بدصورتی نہیں ہاں چونکہ بے نکاحی تھیں ۔ پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی آپ نے جنوں سے کہا کوئی اور چیز بناﺅ جن سے یہ بال جاتے رہیں ۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہی تلاش کی گئی ۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی عظمت و عزت اور درباری رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف و عیش سے اور خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ و چشم نظروں سے گر جائے جس کے ساتھ ہی تکبر و تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلہاتا ہوا دریا سمجھ کر پائنچے اٹھا لئے۔ اسی وقت کہا گیا کہ آپ کی غلطی لگی یہ شیشہ منڈھا ہوا ہے آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ جب حضرت سلیمان علیہالسلام کے پاس پہنچیں تو آپ نے اس کے کان میں صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی اور دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اس کے پاسنگ بھی نہیں نیچے پانی ہے اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اوپر سے پرندہ کا سایہ ہے جن و انس سب حاضرہیں اور تابع فرمان ۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بے دینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے خدا کی توحید میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان علیہ السلام خدا کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب تو وہ بہت ہی نادم ہوئی۔ ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا۔ اس نے کہا مجھ سے غلطی ہوئی اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی کہ اے خدا میں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اب میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چنانچہ سچے دل سے مسلمان ہو گئی۔ (ابن کثیر)
اور بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کر لیا۔ اب تم سوچو اور غورکرو کہ اتنی بڑی رانی ہو کر اس نے اسلام قبول کر لیا اور خدا اور رسول کی فرماں بردار ہو گئی توحید اور اتباع سنت رسول کے مقابلے میں باپ دادا کے رسم و رواج کو چھوڑ دیا اور سچی اورپکی مسلمان ہو گئی۔ تم بھی اپنے خدا اور رسول کی تابعداری کرو اور حق بات کے مقابلے میں باپ دادوں کی رسم و رواج کو چھوڑ دو۔

یہ بھی پڑھیں:  کفل کی رہنما خاتون کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں