Stress

ذہنی دباؤ کم کیجئے

EjazNews

صنعتوں کے فروغ اور زندگی کی تیز تر رفتار کے ساتھ دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں میں دباؤ کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ روز مرہ زندگی میں مالی، تعلیمی، خاندانی اور ذاتی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ سفر روزگار کی الجھنیں کاروبار اور ملازمت میں عدم تحفظ اور زیادہ سے زیادہ ماری آسودگی کی دوڑ ذہنی دباؤ کو جنم دیتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں دل کی شریانوں کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ دل کی شریانوں کو بتدریج پہنچنے والا نقصان 20 سال کی عمر کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ زندگی میں دبائو ہو تو اس نقصان میں تیزی آنے لگتی ہے۔ آج رونما ہونے والے ہارٹ اٹیک کی بنیاد در حقیقت کئی برس پہلے پڑ جاتی ہے اور پھر دل کی شریانوں کے سکڑنے، سخت ہونے اور بند ہونے کا بتدریج عمل اسے انتہائی مقام پر لے آتا ہے۔
کیا آپ بھی دباؤ میں ہیں :
دبائو ایک ٹائم بم ہے جسے بہرحال کسی وقت پھٹنا ہوتا ہے۔ اگر اس کا علم ہو جائے تو تحفظ کی کوئی نہ کوئی صورت نکل آتی ہے۔ آپ بھی اپنا جائزہ لیں کہ کہیں آپ بھی دباؤ کا شکار تو نہیں ہیں؟
مندرجہ ذیل سوال نامے کا جواب آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ ذہنی دباو میں ہیں یا نہیں۔ ہر سوال کا جواب ہاں یا نہ میں رکھے۔
کیا آپ اپنے کام میں زیادہ غلطیاں کرنے لگے ہیں؟
کیا آپ کو بار بار زکام اور انفیکشن کی شکایت ہو جاتی ہے؟
کیا آپ کو بار بار پریشانی سے سردرد لاحق ہو جاتا ہے؟
کیا آپ کے پورے بدن میں درد اور تکلیف رہتی ہے؟
کیا آپ کو تھوڑے تھوڑے وقفہ کے لیے بے چینی اور اضطراب رہتا ہے؟
کیا آپ کو ہر وقت تھکاوٹ اور توانائی کی کمی کا احساس رہتا ہے؟
کیا آپ کا سونے کا انداز حال ہی میں تبدیل ہوا ہے؟ کیا آپ کو سونے میں دقت ہوتی ہے یا رات کو کئی بار آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے؟
کیا آپ کو بعض اوقات تیز دھڑکن سے واسطہ پڑتا ہے؟ (آپ کی دھڑکن بے قاعدہ ہو جاتی ہے یا دو دھڑکنوں کے درمیان غیر معمولی وقفہ آجاتا ہے)
کیا آپ کو سینے کی جلن (کچھ لوگ اسے دل جلنا بھی کہتے ہیں) کی شکایت بار بار ہو جاتی ہے؟
کیا آپ نے اب شراب نوشی میں اضافہ کر دیا ہے؟
کیا آپ نے حال ہی میں تمباکو نوشی میں اضافہ کر دیا ہے؟
کیا آپ کچھ عرصہ سے ڈپریشن میں مبتلا رہتے ہیں؟
کیا آپ ناخن چبانے کی عادت میں مبتلا ہیں؟
کیا آپ اپنے اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لیے سکون بخش ادویات استعمال کررہے ہیں؟
کیا آپ اپنے گھر کے افراد یا دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ زیادہ بحث میں الجھ جاتے ہیں؟ کیا
آپ کا بلڈ پیش معمو ل سے زیادہ رہتا ہے؟
کیا کچھ عرصہ سے آپ کی بھوک کم ہو چکی ہے؟
کیا آپ کے کسی اقدام کے بغیر آپ کا وزن کم ہو گیا ہے؟
کیا آپ اپنے مشاغل میں دلچسپی کھو چکے ہیں؟
کیا عام طور پر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی لطف نہیں رہا؟
اپنے جوابات کی روشنی میں اپنا جائزہ لیجئے۔ اگر آپ کے جوابات میں ہاں کی تعداد ہ سے 4 کے درمیان ہے تو آپ بہت معمولی دباؤ میں ہیں۔4 سے 8 کا مطلب ہے کہ آپ درمیانے درجہ کے دباؤ میں ہیں۔ 8 سے زیادہ سکور اس بات کی نشاندہی ہے کہ آپ شدید قسم کے دباؤ میں ہیں۔ ظاہر ہے ہاں میں آنے والے جوابات کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی آپ کے دباؤ سطح اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
دباؤ کم کرنے کا طریقہ:
چھوٹے چھوٹے معاملات پر پریشان ہونا چھوڑدیجئے۔ آپ نے عموماً کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا ’’اگر کوئی بات غلط ہو جائے تو میں قطعاً برداشت نہیں کرتا۔ میں تو اس طرح کا انسان ہوں۔۔۔‘‘ اس طرح کے رویے کا اظہار کرتے ہوئے یہ لوگ ایک طرح کا احساس تفاخر رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پریشان ہونا آپ کے حیاتیاتی کیمیاوی توازن کا استحکام بگاڑ دیا ہے۔ غصے اور پریشانی میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو آپ کے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ چنانچہ خود کو غم اور پریشانی سے بچنے کی عادت ڈالئے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو کر آپ اپنا قیمتی اور پر لطف وقت خواہ مخواہ ضائع کر دیتے ہیں۔
اپنے اردگرد ایک خوش کن ماحول بنایئے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں (اور غلط طور پر سمجھتے ہیں) کہ خوش کن ماحول صرف نوجوانوں کے لیے ہوتا ہے۔ بڑی عمر کے لوگ تو بس سنجیدہ اور خشک مزاج رہنا چاہئیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ اگر بڑی عمر میں ہیں تو اپنی با تیں کیوں نہ کریں جو آپ کی زندگی کو خوشگوار بنا دیں۔
نئی دلچسپیاں اور نئے مشاغل اختیار کیجئے۔ پرانے معمول سے آپ اکتا چکے ہیں اس لیے کوئی نئی اور مختلف بات کیجئے۔ جو لوگ ایک مخصوص اورلگی بندی زندگی پر کاربند رہتے ہیں وہ آہستہ آہستہ اس سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ ایک بے کیف معمول ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔
کچھ ایسے دوست ضرور رکھئے جو خوش طبع اور زندہ دل ہوں۔ جن کی محبت میں آپ خوش و خرم رہیں اور نیا جوش و جذبہ محسوس کریں۔ مایوس اور قنوطی افراد کی محبت آپ کی زندگی میں کوئی لطف اور جوش و خروش نہیں پیدا کر سکتی۔
مسکرانے اور قمقمہ لگانے کی عادت ڈالئے۔ دباؤ اور دباؤ سے متعلقہ بیماریوں کے لیے قہقہ ایک بہترین دوا ہے۔ ہنسنا اور قمقمہ لگانا آپ کے اندر ہارمونز میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔
ذہنی دباؤ میں کی نہ صرف آپ کو دل کی بیماری سے محفوظ کرتی ہے بلکہ آپ کی زندگی کا معیار بھی بہتربناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ماں باپ کی لڑائی بچوں کی ذہنی صحت متاثر کرتی ہے؟
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں