molan dehrna

2018ء کے انتخابات فراڈ تھے نتائج کو نہیں مانتے، دو دن کی مہلت ہے استعفیٰ دیں:مولانا فضل الرحمٰن

EjazNews

آزادی مارچ کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا اگر ایسے ہی حالات رہے تو یہ نالائق حکومت پاکستان کو سوویت یونین کی طرح تباہ کر دے گی۔ انہوں نے ایک کروڑ نوکریاں دینا تو دور کی بات انہوں نے لاکھوں افراد کو بیروزگار کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کون سا قائداعظم کا پاکستان ہے جس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا ہمیں آئینہ دکھانے والو، کبھی خود کو آئینے میں تو دیکھو۔غریب گھر میں راشن خریدنے کے قابل نہیں رہا۔عام آدمی جس قرب میں ہے کیا قوم کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔
ان کا کہنا تھا میں آئین کی بات کرتا ہوں تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے؟،عوا م کا فیصلہ آچکا ہے حکومت کو جانا ہی جانا ہے۔ہم اداروں کے تصادم نہیں چاہتے۔ہم اداروں کو طاقت ور دیکھنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2018ء کے انتخابات فراڈ تھے نتائج کو نہیں مانتے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ کے پاس دو دن کی مہلت ہے استعفیٰ دیں ہم مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ۔ پر امن لوگ ہیں چاہیں تو وزیراعظم کو گھر سے باہر نکال سکتے ہیں۔
انہوں نے کشمیر کو بیچا ہے ۔ ہمیں کہا گیا کہ ان دنوں آزادی مارچ نہ کریں ۔ ایل او سی کے اوپر ہندوستان اور پاکستان پر بڑی ٹینشن ہے حالات بڑے پیچیدہ ہیں۔آپ اس موقع پر جلسہ نہ کریں۔ ہم نے کہا یہ عجیب بات ہے کشمیر کی سرحد پر بڑا تنائو ہے ہمیں جلسہ نہیں کرناچاہئے لیکن کرتار پورکوریڈور کھولنے کیلئے ہندوستان سے دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہی ہے۔ ایک طرف کہتے ہیں ٹینشن ہے اور دوسری طرف دوستی کی پینگیں بڑھا رہے۔ میرے دوستو آج کشمیریوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے کشمیر کو مودی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاہے۔آج یہ اجتماع پاکستانی قوم کا اجتماع، تمام سیاسی جماعتوں کا اجتماع اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں عوام کشمیریوں کی جنگ لڑیں گے ، عوام ان کے حق خود ارادیت کی جنگ لڑیں گے ان کی آئندہ مستقبل کی جنگ لڑیں گے۔اور کشمیری عوام کبھی بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کے کیے گئے فیصلے

اپنا تبصرہ بھیجیں