firdos

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے غیر مشروط معافی مانگ لی

EjazNews

وفاقی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت سے متعلق جاری کیے گئے نوٹس کے معاملے پر سماعت کی۔
چیف جسٹس نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے کہا آپ ایک اہم عہدے پر فائز ہیں، آپ ایک ایسے وزیر اعظم کی مشیر ہیں جو قانون کی بالادستی کے علمبردار ہیں، ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم نے عدلیہ کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنے کی ہدایت نہیں کی ہوگی۔
دوران سماعت عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو عدالتی قواعد و ضوابط پڑھنے کا کہا، جس پر انہوں نے اونچی آواز میں ان قواعد و ضوابط کو پڑھا کہ چیف جسٹس کی غیر موجودگی میں سب سے سینئر جج فوری نوعیت کا کیس سن سکتے ہیں۔
عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اس عدالت کے ججوں پر فخر ہے، ایک سال کے دوران ہم نے سب سے زیادہ درخواستی نمٹائیں لیکن آپ توہین کر رہی تھیں کہ کاش غریب لوگوں کے لیے بھی ایسا ہو، ہم یہاں بیٹھے ہی عام لوگوں کے لیے ہیں، ہم صرف اللہ کو جواب دہ ہیں جس کا نام لے کر حلف لیا ہے، ہم پریس کانفرنس نہیں کرسکتے اس لیے آپ کو بلایا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کو کبھی شوکاز نوٹس جاری نہ کر تا صرف آپ کو دکھلانے کیلئے بلایا ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے۔
جس پرفردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ کی توہین کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔انہوں نے کہا کہ میں غیر مشروط معافی مانگتی ہوں اور میں مستقبل میںمزید محتاط رہوں گی۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی معافی کو عدالت قبول کرتی ہے اور آپ کیخلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جاتا ہے۔اور آپ کو کرمنل توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔اور پیر تک تحریر بیان جمع کرانے کی ہدایات جاری کیں۔

یہ بھی پڑھیں:  قومی اسمبلی میں اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020ء منظور

اپنا تبصرہ بھیجیں