baba guru nanak

بابا گرو نانک کے تصورات و نظریات

EjazNews

بابا گرو نانک کے تصورات و نظریات کا مناسب تجزیہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اس زمانے کے پنجاب کے متذکرہ بالا پہلووں کے حالات سے بخوبی آگاہ ہوں۔ ہندوستان کا یہ علاقہ اس لیے اہم ہے کہ وید،منتر سب سے پہلے یہیں گونجا تھا۔ الفاظ کا صحیح تلفظ سیکھنے کے لیے طلبا اسی سرزمین کے آشرموں میں آیا کرتے تھے۔بدھ مت بھی ایک طویل عرصے تک اسی سرزمین نشوونما پاتا رہا اور بام عروج پر گیا۔ تکشلا کی یونیورسٹی بھی اسی علاقہ میں واقع تھی۔لیکن گرونانک کی آمد کے وقت بدھ مت تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ برہمن واداپنے عروج پر تھا۔ جین مت کے پیرو ضرور کسی نہ کسی شہر میں آباد تھے لیکن وہ ہندوسماج کا ایک حصہ بن چکے تھے۔ دوہی مذہب ماننے والوں کی آبادی زیادہ تھی، ہندو اور مسلمان۔
عربوں نے آٹھویں صدی کے اختتام پر سندھ کے علاقہ پرفتح پائی اور ترک جنہوں نے افغانستان کے راستے سے لگ بھگ دسویں صدی کے وسط میں حملے شروع کر دیئے۔ ترکوں نے پنجاب کا علاقہ بارہویں صدی کی ابتدا میں جیت لیا۔ اس وقت سے پنجاب اسلام کے اثر کے تحت آ گیا۔ تیرہویں صدی تک ترکوں نے شمالی ہندوستان اور مغربی بنگال تک اپنا تسلط جمالیا اور دہلی کو مرکز بنا کر اس علاقہ پرمستقل طور پر اسلامی حکومت قائم کر دی۔ ان کی سلطنت اٹھارویں صدی کے وسط تک مضبوط اور طاقتور رہی۔عربوں اور ترکوں کو سب سے زیادہ طاقت اسلام سے ملی اور اسلام۔ دانشور ادیبوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ عربوں اور ترکوں کو طاقت اسلام سے ملی اور تاریخی اعتبار سے یہ درست بھی ہے۔ اسلام کے پرچار سے پہلے عرب لوگ الگ الگ قبیلوں میں منقسم تھے جو آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اسلام نے مختلف مورتیوں کی پوجا سے نجات دلا کر ایک خدا کی پرستش کی جانب انہیں راغب کیا اور یہ ہدایت کی کہ سبھی انسانوں کو بھائی سمجھا جائے۔ اس اصول پرعمل کرتے ہوئے عرب لوگ ایک طاقتورقوم بن جانے میں کامیاب ہوئے۔
اب ہم یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ گروجی نے قدیم تہذیب میں کیا کیا تبدیلیاں کیں جن کے باعث ان کے پیرو ایک طاقتورسماج سکھ سماج کی شکل اختیارکر پائے۔
پاکیزہ دل میں خدا کا نام گھر کر جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے جس مذہب کا اپدیش دیا ہے اس کی بنیاد نیک اعمال پر رکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق رسم ورواج اور اعمال جوصداقت کے حصول میں ممدومعاون ثابت نہیں ہوتے بے معنی ہیں۔ سب کے باطن میں اسی کا نور ہے اور سب انسان برابر ہیں۔ کوئی اونچانیچا اور اچھوت نہیں ہے۔ گرونانک کا پیغام سب کے لیے ہے۔ نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں کے لیے بھی۔ ویدیا اپنشدوں کے زمانے میں عورت کا مقام خواہ کچھ بھی رہا ہو لیکن اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ گرو جی کے زمانے میں عورتوں کو یقینا شودرسمجھا جاتا تھا اور انہیں تعلیم سے محروم رکھا جاتا تھا۔ گروجی نے اس کی سختی سے مخالفت کی۔ انہوں نے صاف طور پر سب سے کہا کہ عورت اور مرد سبھی کو اس راہ پر چلنے کا مساوی حق حاصل ہے۔ گورکھ ناتھ نے عورتوں کے لیے کڑوے اور سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ گرونا نک نے ان سے اختلاف کیا اور کہا کہ عورت جو انسان کی ماں ہے یہ ہرگز نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے عوام کی زبان میں اپدیش دے کر لوگوں کو نیک راہ پر چلنے کی ہدایت کی۔ جاتی وار، فرقہ وارانہ امتیاز اور فرار کے خلاف آواز بلند کی اور سب کو برابری کا حق دے کر ایک ایسے سماج کی بنیادرکھی جو عوامی قوت حاصل کر کے جبرواستبداد کا خاتمہ کرنے پرمکمل طور پر کامیاب رہا۔
انہوں نے ہر ایک عقیدت مند کو اپدیش دیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے سب کی خدمت کرے۔ محنت سے اپنی روزی کمانے اور اس میں سے حاجت مندوں کی امدادکرے۔ حق وصداقت کی حفاظت کے لیے اگر ضرورت ہو تو تلوار اٹھانے میں کبھی شش و پنج نہ کرے اور دوسروں کو بھی اس راہ پر چلنے کی ہدایت کرے۔ یعنی ایک ہی انسان میں شودر، ویش، کشتری اور برہمن کوگروجی نے سمودیا۔
گروصاحب سے پہلے بھی کبیر، رامانند، چتنیہ وغیرہ بھگتوں نے اونچ نیچ کے فرق کو ختم کرنے کا پیغام دیا لیکن انہوں نے حکمران طاقت کے خلاف کچھ نہیں کہا تھا۔ حالاں کہ گرو گرنتھ صاحب میں شامل کبیر اور نام دیو کی بانی سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ ان پر حکومت کی طرف سے ظلم ہوا۔
گرونانک دیو نے صاف اور نمایاں الفاظ میں اس زمانے کے نظام حکومت، عدل و انصاف اور رعایا کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے ظلم وستم کے کیخلاف جو آواز بلند کی اس کے نتیجہ کے طور پر لوگوں کی توجہ اپنی خستہ خالی اور زبوں حالی پر مرکوز ہوئی اور تھوڑے دنوں کے بعد ہی ان مظالم کے دریا سے ابھرنے کے لیے عوام سربکف ہو گئے۔ ہم وطنوں سے گرو صاحب کی ہمدردیاں اور لگاﺅ کسی قسم کے فرقہ پرستانہ جذبہ کے بغیر ان شبدوں میں ظاہر ہوتے ہیں جو انہوں نے بابر کے حملے کے دوران کہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو اور مسلمان جو ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے انہیں پیار کرنے لگے اور ان کے پران تیاگ دینے کے موقع پر دونوں میں جھگڑا ہوگیا۔ ہندو انہیں ہندو اور مسلمان انہیں مسلمان مانتے تھے۔ انہوں نے جو سماج قائم کیا اس کی روز مرہ کی ارداس (پرارتھنا) ان الفاظ پر ختم ہوتی ہے۔
بابا گرونانک کے کلام سے :
”نانک نام چڑھ دی کلا
تیرے بھانے سر بت دا بھلا“
اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے نام اور ”چڑھ دی کلا“ یعنی ہمیشہ پر امید رہنے کی آشیر واد دو۔ تیرا حکم ایسا ہو کہ تمام مخلوق کا اس سے بھلا ہو۔
دوجی مایا جگت چت داس
کام، کرودھ، اہنکار بناس
دوجا کونکہا نہیں کوئی
سب مینہہ ایک نرنجن سوئی رہا
۔۔۔
سچ پرانا ہو وے نا ہی سیتا کدے نہ پاٹے
نانک صاحب سچو سچا تچرجاپی جاپے
۔۔۔
مندا سنتو کھ سرم پت جھولی دھیان کی کرے بھبھوت
کھن تھا کال کواری کایا جگت ڈنڈا پرتیت
آئی پنتھی سگل جماتی من جیتے جگ جیت
۔۔۔
من میگل ساکت دیوانا
بن کھنڈ مایا موہ ھیرانا
ات ات جاکال کے چاپے
گرمکھ کھوج لہے گھر آپے
۔۔۔۔
ایسے جن ورلے جگ اندر پرکھ کھجانے پائیا
جات ورن تے بھئے اتیتا ممتا لوبھ چکائیا
نام رتے تیرتھ سے نرمل دکھ ہومے میل دکائیا
نانک تن کے چرن پکھالے جناں گرمکھ ساچا بھائیا

یہ بھی پڑھیں:  یحییٰ خاں سے سقوط ڈھاکہ تک: (71۔1969ء) کیا یہ سازش تھی ؟ (حصہ اول)

اپنا تبصرہ بھیجیں