hazrat asia

حضرت آسیہ ؑ اور ماشطہؑ کا ذکر خیر

EjazNews

حضرت آسیہ علیہا السلام فرعون لعین کی بیوی ہیں فرعون کافر اور بڑا ظالم اور خدائی کادعویدار تھا۔ حضرت آسیہ ؑ بڑی نیک رحم دل اور مومنہ تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جان بچپن میں بچائی تھی اور یہ ولایت کے درجہ کمال پر پہنچی ہوئی تھیں۔ ان کی پارسائی اور ایمانداری وغیرہ کا بیان قرآن مجید میں آیا ہے:
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی کہاوت بیان فرمائی ہے جب کہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا نکال اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔“(سورہ تحریم)
تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کریمہ کی تفسیر یوں ہے کہ :
حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا۔ لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا۔ اس لئے کہ وہ اپنی زبردست ایمان پر قائم تھیں اور رہیں ۔جان لوکہ اللہ تعالیٰ عادل اور حاکم ہے وہ ایک گناہ پر دوسرے کو نہیں پکڑتا۔ حضرت سلمانؒ فرماتے ہیں کہ فرعون اس نیک بخت بیوی کوطرح طرح سے ستاتا تھا سخت گرمیوں میں انھیں دھوپ میں کھڑا کرد یتا تھا لیکن پروردگار اپنے فرشتوں کے پروں کا سایہ ان پر کر دیتا تھا اور انھیں گرمیوں سے بچا لیتا بلکہ انھیں ان کے جنتی مکان کو دکھاد یتا جس سے ان کی روح کی تازگی اور ایمان کی زیادتی ہو جاتی۔ فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ دریافت کرتی رہتی تھیں کہ کون غالب رہا تو ہر وقت یہی سنتیں کہ موسیٰ ؑ غالب رہے بس یہی ان کے ایمان میں پختگی کا باعث بنااور یہ پکاراٹھی کہ میں موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کے رب پر ایمان لائی۔ فرعون کو جب یہ معلوم ہوا تو کہا جو بڑی سے بڑی پتھر کی چٹان تمہیں ملے اسے اٹھا لاﺅ اوراس کو چت لٹا کر کہو کہ اپنے اس عقیدے سے باز آئے۔ اگر باز آجائے تو وہ میری بیوی ہے عزت و حرمت کے ساتھ واپس لاﺅ اور اگر نہ مانے تو وہ چٹان اس پر گرادو اور اس کا قیمہ قیمہ کر دو۔ جب یہ لوگ پتھر لائے انھیں لے گئے اور پتھر ان پر گرانے کے لیے اٹھایا تو انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر یہ دعا کی کہ اے پروردگار حجاب اٹھا دے اور جنت دکھا دے چنانچہ اسے انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے مقام کو دیکھ لیا اور اس میں ان کی روح پرواز کر گئی جس وقت پتھر پھینکا گیا اس وقت ان کی روح تھی ہی نہیں۔ اپنی شہادت کے وقت دعا مانگتی ہیں ۔ خدایا جنت میں اپنے قریب کی جگہ مجھے گھر عنایت فرما۔ اس دعا کی باریکی پر بھی نگاہ ڈالئے کہ پہلے خدا کا پڑروس مانگا جارہا ہے۔ پھر گھر کی درخواست کی جارہی ہے پھر دعا کرتی ہیں کہ فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے ۔ میں اس کی کفریہ حرکتوں سے بیزار ہوں۔ مجھے اس ظالم سے تو عافیت میں رکھ ۔
ان کے ایمان لانے کا واقعہ حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ فرعون کے داروغہ کی عورت کا ایمان ان کے ایمان کا باعث بنا وہ ایک روز فرعون کی لڑکی کا سر گوندھ رہی تھیں اچانک کنگھی ہاتھ سے گر گئی اوران کے منہ سےنکل گیا کفار برباد ہوں۔ اس لڑکی نے دریافت کیا میرے باپ کے علاوہ تو اور کسی کو رب مانتی ہے؟ اس نے جواب دیا میرے اور تیرے باپ اور ہر چیز کا رب اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے غصہ میں آکر انھیں مارا پیٹا اور اپنے باپ کو اس کی خبر دی۔ فرعون نے ان کو بلا کر خود پوچھا۔ میرے سوا اور کسی کی عبادت کرتی ہو؟ جواب دیا کہ ہاں میرا اورتیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ تعالیٰ ہے میں اسی کی عبادت کرتی ہوں۔ فرعون نے حکم دیا انھیں چت لٹا کران کے ہاتھوں پیروں پر میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دئیے جو انہیں کاٹتے رہیں۔ پھر ایک دن آیا اور کہا کہ اب بھی تیرے خیالات درست نہیں ہوئے ؟ وہاں سے جواب ملا کہ میرا تیرا اورسب کا رب اللہ ہے۔ فرعون نے کہا کہ اب میں تیرے سامنے تیرے لڑکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا ورنہ اب بھی میرا کہا مان لے اور اس دین سے باز آجا۔ انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہے کر ڈال۔ اس ظالم نے ان کے لڑکے کو پکڑوا منگوایا اور ان کے سامنے اس کو مار ڈالا۔
جب ان کے بچہ کی روح نکلی تو اس نے کہا اے ماں خوش ہو جا۔ تیرے لیے اللہ نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں۔ اورفلاں فلاں نعمتیں تجھ کو ملیں گی۔ انہوں نے اس روح فرساسانحہ کو بچشم خود دیکھ لیا لیکن صبر کیا اور راضی بہ قضا ہو کربیٹھ رہیں۔ فرعون نے پھرانہیں اسی طرح بندھوا کر ڈال دیا اور سانپ چھوڑ دئیے پھر ایک دن آیا اور اپنی بات دہرائی بیوی صاحبہ نے پھر نہایت صبر و استقلال سے وہی جواب دیا۔ اس نے پھر وہی دھمکی دی اور اس کے دوسرے بچے کو بھی انھیں کے سامنے قتل کر ادیا اور اس کی روح سے بھی اسی طرح اپنی والدہ کو خوش خبر ی دی اور صبر کی تلقین کی ۔ فرعون کی بیوی نے بڑے بچے کی روح کی خوش خبری سنی تھی۔ اب چھوٹے بچے کی روح کی بھی خوش خبری سن اور ایمان لے آئیں۔ ادھر اس نیک بخت بی بی کی روح اللہ تعالیٰ نے قبض کرلی اور ان کی منزل و مرتبہ جو خدا کے ہاتھ میں تھا وہ حجاب اٹھا کر فرعون کی بیوی کو بھی دکھا دیا گیا۔ یہ اپنے ایمان و یقین میں بہت بڑھ گئیں۔ یہاں تک کہ فرعون کو بھی ان کے ایمان کی خبر ہو گئی۔ اس نے ایک روز اپنے درباریوں سے کہا کہ تمہیں کچھ میری بیوی کی خبر ہے؟ تم اسے کیا جانتے ہو۔ سب نے بڑی تعریف کی اور ان کی بھلائیاں بیان کیں۔ فرعون نے کہا تمہیں نہیں معلوم؟ وہ بھی میرے سوا اور کوخدا مانتی ہے پھر مشورہ ہوا کہ انھیں قتل کر دیا جائے چنانچہ میخیں گاڑی گئیں اور ان کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر ڈال دیا گیا۔ تب حضرت آسیہ ؑ نے اپنے رب سے دعا کی کہ پروردگار میرے لیے اپنے پاس جنت میں جگہ بنا اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حجاب اٹھا کر انھیں ان کا جنتی درجہ دکھا دیا۔ جس پر یہ ہنسنے لگیں۔ ٹھیک اسی وقت فرعون آگیا اور انھیں ہنستا ہوا دیکھ لیا اور کہنے لگا لوگو تمہیں تعجب نہیں معلوم ہوتا کہ اتنی سخت سزا میں یہ عورت مبتلا ہے اور پھر ہنس رہی ہے۔یقینا اس کا دماغ ٹھکانے نہیں۔ الغرض انہی عذابوں میں وہ بھی شہید ہوئیں۔ رضی اللہ عنہا۔
مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور صحابہ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو پورا علم ہے آ پ نے فرمایا سنو تمام جنتی عورتوں میں سے افضل خدیجہ ؓ بنت خویلد اور فاطمہؓ بنت محمد اور مریم ؑ بنت عمران اور آسیہ ؑ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور مریم ؑ بنت عمران ہیں اور حضرت خدیجہ ؓ بنت خویلد ہیں اور حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے سالن میں چوری ہوئی روٹی کی فضیلت باقی کھانوں پر۔
اب تم سوچو اور غور کرو کہ حضرت آسیہ ؓ نے ایمان کی خاطر کیسی کیسی مصیبتیں برداشت کیں مگر ایمان کو نہیں چھوڑا۔ اسی ایمان پر مریں اور جنت میں پہنچیں اورفرعون کے داروغہ کی بیوی بھی بڑی پکی ایمان والی تھیں کہ ایمان کے بچانے کی وجہ سے دونوں بچے شہید کرادئیے اور خود بھی بڑی بڑی تکلیفوں کو برداشت کیا ان کابھی بڑا درجہ ہے۔ معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر مصر کی زمین میں ہوا تو ایک جگہ سے نہایت خوشبو آئی فرمایا یہ خوشبو کیسی ہے تو عرض کیا گیا کہ فرعون کی لڑکی کی ایک خادمہ تھی جسے شہید کیا گیا تھا یہ اس کی قبر سے خوشبو آرہی ہے۔
خدانخواستہ اگر تم کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاﺅ تو ایمان کو کسی حالت میں نہ چھوڑنا ۔ سب چھوٹ جائیں مگر ایمان بالکل نہ چھوٹنے پائے۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اسماءؓ بنت یزید کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں