kashmir-black day

مقبوضہ کشمیر کیلئے 31اکتوبر 2019ء بھی کسی یوم سیاہ سے کم نہیں

EjazNews

کرفیو کا عذاب سہتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کے لئے 31اکتوبر 2019ء کا دن کسی یوم سیاہ سے کم نہیں ہے۔آرٹیکل 370کے خاتمے کے دوسرے مرحلے کے تحت جموں و کشمیر اور لداخ کو باضابطہ اور سرکاری طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم ہو جانے کے بعد پورے بھارت کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے۔بھارت نے جموں و کشمیر کے لیے گریش چندر اور لداخ کیلئے آر کے ماتھر کو گورنر تعینات کیا ہے۔انڈین ہوائی اڈوں اورریلوے اسٹیشنز پرہائی الرٹ جاری کردیا ہے اور وادی میں دفعہ144کا نفاذ بھی کیا جارہا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ہندووں کو مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل جاری کئے جا رہے ہیں۔
یاد رہے 5اگست 2019ءسے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 88روز سے فوجی محاصرہ ہے اور مواصلاتی ذرائع بھی معطل ہیں۔ اس دوران کشمیریوں کو نہیں پتہ کہ ان کے جواں سالہ بیٹے کہاں پر ہے ۔ یہ ایسا ہی جیسا کہ فلسطینی نوجوانوں کی باقاعدہ نسل کشی کی جارہی ہے۔
یہ مظلوم فریاد بھی کریں تو کس سے ، رویں بھی تو کس کے سامنے۔ ان کو پچھلے تین ماہ سے اپنے ہی گھروں میں قید کر رکھا ہے ۔9لاکھ فوج ان پر مسلط ہے اور دنیا ہے کہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے کہ کب کوئی بڑا حادثہ ہوا اور سب کی توجہ اس طرف آئے۔

یہ بھی پڑھیں:  سیاہ فام کی ہلاکت، مظاہرے پھوٹ پڑے:تمام نسل پرست پولیس اہلکاروں کو جیل بھیجا جائے:مظاہریں

اپنا تبصرہ بھیجیں