Women food

خواتین کو اچھی صحت کیلئے کھانے کا کیوں خیال رکھنا چاہئے؟

EjazNews

عورت کو اپنے روز مرہ کے کام انجام دینے کے لیے، بیماری سے بچاؤ کے لیے اور محفوظ وصحت مند زچگی کے لیے اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں اب تک حال یہ ہے کہ صحت کے کسی اور مسئلے کے مقابلے میں نا کافی اور ناقص غذا کی وجہ سے سب سے زیادہ عورتیں متاثر ہوتی ہیں ۔ ناکافی اور ناقص غذا کی وجہ سے تھکن، کمزوری، معذوری ہوسکتی ہے اور عمومی صحت کمزور ہوتی ہے۔
بھوک اور اچھی طرح نہ کھانے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ ایک بڑا سبب غربت ہے۔ دنیا کے بہت سے حصوں میں چند افراد علاقے کی زیادہ تر دولت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ غذا کی اجناس اگانے کی بجائے دوسری فصلیں کاشت کرتے ہیں ۔مثلاً کافی یاتمباکو، کیونکہ اس طرح ان کو زیادہ دولت حاصل ہوتی ہے۔ یا یہ ہوتا ہے کہ غریب لوگ ادھار لیے ہوئے ،زمین کے چھوٹے ٹکڑوں پرکھیتی باڑی کرتے ہیں اور زمین کا مالک فصل کٹنے پر اس کا بڑا حصہ لے جاتا ہے۔
غربت، سب سے زیادہ عورت کے لیے سخت ثابت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے خاندانوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو کم خوراک ملتی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس خاندان میں کھانے کی اشیا کتنی کم ہیں۔ چنانچہ بھوک اور ناکافی و ناقص غذا کے مسائل اس وقت تک مکمل طور پر ہرگز حل نہیں ہوسکیں گے جب تک زمین اور دوسرے وسائل کو مناسب طریقے سے تقسیم نہ کیا جائے اور عورتوں اور مردوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہ کیا جائے۔
ان سب باتوں کے باوجود اب بھی لوگ کم خرچ پر بہتر غذا حاصل کر سکتے ہیں۔ممکنہ حد تک اچھی غذا کھانے سے ان میں طاقت پیدا ہوگی اور جب لوگوں کو ہر روز بھوک نہ ستائے گی تو وہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ضروریات کے بارے میں بہتر انداز سے سوچ سکیں گے اور تبدیلی کے لیے کام کرسکیں گے۔
| دنیا کے زیادہ تر حصوں میں لوگ تقریباً ہر کھانے کے ساتھ ایک بنیادی، کم خرچ غذا کھاتے ہیں۔ علاقے کے اعتبار سے یہ بنیادی غذا، چاول ، باجرہ، گندم، کساوا، آلو، بریڈ فروٹ یا کیا ہوسکتی ہے۔ یہ بنیادی غذا عام طور پر جسم کی روزانہ کی غذائی اور معاون ضروریات فراہم کر دیتی ہے۔
تاہم، یہ بنیادی غذا کسی فرد کو صحت مند رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ لحمیات (پروٹین، جو جسم کی نشوونما میں حصہ لیتے غذائیں ہیں) ، حیاتین (وٹامن) اور معدنیات (منرلز) جسم کی حفاظت اور ٹوٹ پھوٹ کی مرمت میں مدد دیتے ہیں) اور چکنائی اور شکر (جو توانائی دیتی ہیں) فراہم کرنے کے لیے دیگر معاون غذاوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
سب سے زیادہ صحت مند غذا میں کئی اقسام کی غذائیت ہوتی ہے۔ ان میں پروٹین والی کچھ غذائیں، حیاتین اور معدنیات سے بھر پور پھل اور سبزیاں شامل ہوتی ہیں۔ آپ کو صرف تھوڑی سی مقدار میں چکنائی اور شکر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر آپ کو اپنی ضرورت کے مطابق غذا حاصل کرنے میں مشکل پیش آتی ہے تو بہت کم غذا لینے کے مقابلے میں یہ زیادہ بہتر ہے | کہ چکنائی اور شکر والی غذا کھائی جائے۔
اہم حیاتین اور معدنیات ( وٹامن اور منرلز):
عورت کو، بالخصوص حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو پانچ اہم حیاتین (وٹامنز) اور معدنیات (منرلز) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو یہ ہیں: لوہا (آئرن)، فولک ایسڈ (فولیٹ ) کیلشیم، آئیوڈین، اور حیاتین الف (وٹامن اے)۔
آئرن (لوہا):
خون کو صحت مند بنانے اور خون کی کمی (انیمیا) کی روک تھام کے لیے آئین کی ضرورت ہوتی ہے۔ عورت کو اپنی پوری زندگی میں بہت زیادہ آئرن کی ضرورت ہوتی ہے خصوصاً عمر کے ان برسوں میں، جب اسے ماہواری آتی رہتی ہے اور جب وہ حاملہ ہوتی ہے۔
ان غذاؤں میں بہت زیادہ آئرن ہوتا ہے:
گوشت (خصوصاً کلیجی، دل، گردے) ، مٹر، • مرغی، انڈے ، مچھلی، • پھلیاں (سیم، لوبیا) وغیرہ۔
ان غذاؤں میں بھی آئرن کی کچھ مقدار ہوتی ہے :
بندگوبھی ( کرم کلہ) ،شلجم، • انناس، مسور، گہری رنگت والے پتوں کے ساتھ ، • سورج مکھی،تل ،شکر قند، گوبھی، آلو، کدو کے بیج، سمندری جڑیں، اسٹرابیری، پھول گوبھی، گہرے سبز پتوں، خشک پھل (خصوصاً چھوارے )، سیاہ دھاریوں والا راب، خوبانیاں اور کشمش۔
فولک ایسڈ (فولیٹ) |:
جسم کو خون کے صحت مند سرخ خلیے بنانے کے لیے فولک ایسڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ فولک ایسڈ کی کمی سے عورتوں تک میں خون کی کمی (انیمیا) ہو جاتی ہے اور نومولود بچوں کے ساتھ شدید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے حمل کے دوران کافی مقدار میں فولک ایسڈ لینا خاص طور پر اہم ہے۔
فولک ایسڈ کے اچھے ذرائع:
• گہرے سبز پتوں والی سبزیاں ، کلیجی ، گوشت ،مچھلی، • تمام طرح کے اناج (بغیر چھنے ہوئے) •، گری والے میوے ، • مشروم (کھمبیاں)، مٹر اور پھلیاں ، انڈے
کیلشیم:
اپنی ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہر کسی کو کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ لڑکیوں اور عورتوں کے لیے اضافی کیلشیم ان دنوں میں ضروری ہے:
بچپن میں۔ کیلشیم ایک لڑکی کے کولہوں کو اتنا چوڑا ہونے میں مدد دیتا ہے کہ جب وہ پوری طرح بڑی ہو جائے تو بچے کو محفوظ طریقے سے جنم دے سکے۔
حمل کے زمانے میں ایک حاملہ عورت کو کافی کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اس کے شکم میں بڑھنے والے بچے کی ہڈیاں صحیح طرح نشوونما پاسکیں اور خود اس عورت کی ہڈیاں اور دانت بھی مضبوط ہوسکیں۔ •
دودھ پلانے کے دوران کیلشیم ،ماں کا دودھ تیار کرنے کے لیے ضروری ہے۔
• ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں ۔کیلشیم ہڈیوں کو کمزور ہونے سے (ہڈیوں کی خستگی Osteoporosis) سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
ان غذاؤں میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے:
دودھ، دہی، • پنیر، • تل، ہڈیوں کا گودا ، سبز پتوں والی سبزیاں، • بادام، پھلیاں خصوصاً سويا ،شیل فش ، چونا
غذاؤں سے حاصل ہونے والے کیلشیم کی مقدار بڑھانے کے لیے:
ہڈیوں یا انڈے کے چھلکے کو چند گھنٹوں کے لیے سرکہ یا لیموں کے رس میں بھگو دیں، پھر اس مائع کو سوپ یا کسی اور غذا کی تیاری میں استعمال کریں۔
جب ہڈیوں کا سوپ تیار کر رہی ہوں تو اس میں تھوڑا سا لیموں کا رس، سرکہ یا ٹماٹر شامل کر دیں۔
• ایک انڈے کے چھلکے کو پیس کر سفوف بنالیں اور غذا میں ملا لیا کریں۔
مکئی کو چونے کے پانی میں بھگو لیا کریں۔
آئیوڈین:
غذا میں آئیوڈین، گلے کی سوجن (گلھڑ ) اور دوسرے مسائل کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنے حمل کے زمانے میں کافی مقدار میں آئیوڈین نہیں لے گی تو اس کا بچہ ذہنی لحاظ سے پس ماندہ اور سست ہوسکتا ہے۔
گلھڑ اور ذہنی پسماندگی ان علاقوں میں بہت عام ہے جہاں مٹی، پانی اور غذاوں میں قدرتی آئیوڈین کی مقدار کم پائی جاتی ہے۔
کافی مقدار میں آئیوڈین حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ سادہ نمک کی بجائے آئیوڈین ملا نمک استعمال کیا جائے۔ یا پھر آپ ان میں سے کچھ غذائیں کھائیں (چاہے تازہ ہوں یا خشک حالت میں ہوں)
شیل فش ( مثلاً جھینگا)، مچھلی، سمندری جڑیں، کساوا، • بند گوبھی۔
اگر آپ کے لیے آئیوڈین ملا نمک یا آئیوڈین والی یہ غذائیں حاصل کرنا مشکل ہو یا آپ کے علاقے میں گلھڑ (گلے کی | سوجن) یا ذہنی پسماندگی کی بیماری ہو تو اپنے علاقے میں وزارت صحت کے حکام سے مل کر معلوم کریں کہ کیا وہ منہ کے راستے یا | انجکشن کے ذریعہ آیوڈین کا تیل دے سکتے ہیں۔
حیاتین الف (وٹامن اے):
حیاتین الف (وٹامن اے) شب کوری (رات میں نظر نہ آنا) سے بچاتا ہے اور بعض انفیکشن کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا | ہے۔بہت سی حاملہ عورتوں کو شب کوری کی شکایت ہوسکتی ہے جس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ حاملہ ہونے سے پہلے ان کی غذا میں حیاتین الف کی مقدار کم تھی۔ مسئلہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب حمل کی وجہ سے جسم کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں۔
حیاتین الف کی وجہ سے بچوں میں بھی نابینا پن ہو جا تا ہے ۔ حمل کے دوران، زیادہ حیاتین الف والی غذائیں کھا کر، ایک عورت اپنے دودھ میں بھی حیاتین الف کی مقدار بڑھاسکتی ہے، جسے اس کا بچہ پیئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  کھچاؤ :غیر متوان غذا کی وجہ سے ہوسکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں