firdos+ejaz saha

ہم جمہوری لوگ ہیں، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں:وزیر داخلہ

EjazNews

اسلام آباد میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہامشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ وہ جمہوری روایات کے تحت احتجاجی مارچ کو نہیں وکیں گے۔ مولانا صاحب احتجاجی مارچ کو اپوزیشن کا مارچ بنانے میں ناکام رہے۔ہم جمہوری لوگ ہیں، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ حکومت نے وعدے کے مطابق احتجاجی مظاہرین کو کہیں بھی نہیں روکا۔ ان کا کہنا تھا ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعظم نے احتجاج کرنے کی اجازت دی اور ان سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن سے کہا تھا کہ وہ جہاں سے بھی مارچ کا آغاز کریں ہم اس مارچ میں سہولت دیں گے انہیں روکیں گے نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس 4 روزہ مارچ میں مختلف صوبوں سے چلتے ہوئے 20 سے 25 ہزار افراد شامل ہوچکے ہیں جس میں حکومت نے انہیں سہولیات فراہم کی ہیں، انہیں پانی دیا، جہاں وہ ٹھہرے بجلی فراہم کی اور ٹریفک پلان دیا تاکہ وہ کسی ناخوشگوار واقعے کا شکار ہوئے بغیر پہنچیں۔
انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمٰن کا کنٹینر بہت مہنگا ہے لہٰذا ہم نے ان کا اور لوگوں کا روٹ الگ رکھا ہے تاکہ وہ آرام سے اپنے سٹیج تک پہنچ جائیں، ہم مارچ کو مکمل سکیورٹی دیں گے۔ احتجاج کے مقام پر بلڈوزر سے ساری جھاڑیاں صاف کی گئیں ہیں، پانی اور بجلی کنکشن دئیے گئے ہیں، کھانا کھانے کے لیے ہوٹلوں کی جگہ کی نشاندہی کی گئی ہے ہم انہیں ہر سہولت فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اعجاز شاہ نے کہا کہ آزادی مارچ کے شرکا جب وہاں پہنچیں گے تو ہم اگر کوئی بھی اقدام کریں گے تو وہ کسی کو پریشان کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام، جلسے کے شرکا اور مولانا فضل الرحمٰن کو سکیورٹی اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے کریں گے۔
معاون خصوصی اطلاعات کا کہنا تھا 7ہزار افرادکی سکیورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سیاست کے میدان میں مقابلہ کرنے میں ہمیں کوئی دقت نہیں۔ حکومت کی کوشش سے ملک میں امن و امان بحال ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘مجھے امید ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا جو سیاسی ایڈونچر چل رہا ہے، وہ پرامن طریقے سے آگے بڑھائیں گے جس کا حق حکومت نے تسلیم کرتے ہوئے انہیں اجازت دی اور جو وعدے کیے گئے ہیں ان کو پورا کریں گے اور ملک کے استحکام کو برقرار رکھنے میں ہماری مدد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ‘مولانا فضل الرحمٰن کے حکومت کے ساتھ گلے شکوے، سیاسی بیانیہ ہے جس میں کوئی جان نہیں، ان کے سارے دعوے اور مقاصد بے بنیاد ہیں اور جذبات سے جڑے ہیں حقائق سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حمزہ شہباز کی 17اپریل تک شوگر مل اور صاف پانی میں عبوری ضمانت

اپنا تبصرہ بھیجیں