train death

کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین میں آگ لگنے سےمتعدد افراد جاں بحق ،40زخمی

EjazNews

شیخ رشید کے وزیرریلوے بننے کے بعد یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی خوفناک حادثات ہو چکے ہیں لیکن یہ ان کی وزارت کا سب سے خطرناک حادثہ تھا جس میں ٹرین کے اندر اتنی ہولناک آگ لگی ہو۔ ذمہ داروں کا تعین کب ہو گا کیسے ہوگا کس طرح ہوگا واللہ اعلم۔ لیکن ان قیمتی جانوں کا کون ذمہ دار ہے جو ضائع ہو گئی ہیں یا ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔
کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین تیز گا م کی تین بوگیوں میں آگ لگنے سے73افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ 40سے زائد مسافر زخمی ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
آگ کی شدت بہت زیادہ تھی جس نے تیزی سے دوسری بوگیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، ریسکیو حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انسٹا گرام پر 50لاکھ فالوورز رکھنے والے پہلے پاکستانی سیاست

حادثہ رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں پیش آیا۔دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے تیزی سے مزید 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ بوگی میں سوار مسافر رائیونڈ اجتماع میں شرکت کے لیے جارہے تھے اور یہ بوگی خصوصی طور پر بک کروائی گئی تھی، مذکورہ بوگی میں زیادہ تر مرد حضرات سوار تھے جن کے پاس کھانا بنانے کے لیے سلنڈر بھی موجود تھا۔حادثے کے بعد سب سے پہلے مقامی افراد نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ شید احمدنے مختلف ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 10 سے 12 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق ٹرین میں سلنڈر لے جانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کس کی غفلت کے باعث مسافر ٹرین میں سلنڈر لے کر سوار ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہماری رگوں میں سلیکٹڈ ہونے کا خون نہیں ہے:بلاول بھٹو زرداری

اپنا تبصرہ بھیجیں