hazrat mosa-wife

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیوی کا ذکر خیر

EjazNews

ان بی بی صاحبہ کا نام صفوراؓ ہے بقول بعض یہ حضرت شعیب علیہ السلام کی بڑی صاحبزادی ہیں۔ ان کی شادی کا واقعہ قرآن مجید میں منقول ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے تو دوآدمیوں کو لڑتے جھگڑتے دیکھا۔ ایک اسرائیلی تھا اور دوسرا قبطی تھا۔ اسرائیلی نے قبطی کی شکایت کی اور اس کا ظلم بیان کیا۔ جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو غصہ آگیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مر گیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان انسان کا کھلا دشمن اور گمراہ کرنے والا ہے پھر خدا سے معافی طلب کرنےلگے تو خدا نے بخش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہے پھر فرمانے لگے خدایا تو نے جو جاہ و عزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں مدافعت نہیں کروں گا اور نہ اس کی امداد کروں گا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام ڈرتے ڈرتے صبح ہی صبح خبریں لینے کے لیے شہر میں آئے دیکھتے کیا ہیں کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے آپ کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی اس نے فریاد کی اور دہائی دینے لگا۔ آپ نے فرمایا تم بڑے شریر آدمی ہو ۔سنتے ہی وہ گھبرا گیا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قبطی کو روکنے کے لیے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے یہ سمجھ بیٹھا کہ آپ نے مجھے براکہا ہے اور پکڑ نا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لیے شور مچانا شروع کیا کہ اے موسیٰ کیا۔ جیسے تو نے کل ایک شخص کا خون کیا ہے آج میری جان لینا چاہتا ہے۔
کل کاواقعہ صرف اسی اسرائیلی کی موجودگی میں ہوا تھا اس لیے کسی کو اب تک پتہ نہ تھا۔ لیکن آج اس کی زبان سے اس قبطی کو پتہ چلا کہ یہ کام موسیٰ ؑ کا ہے اس بزدل ڈرپوک نے یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ اے موسیٰ ؑ تو زمین میں سرکش بن کر رہنا چاہتا ہے اورتیری طبیعت میں اصلاح نہیں۔ قبطی یہ سن کربھاگا دوڑا دربار فرعونی میں پہنچا اور خبر کی ۔ فرعون کی بددلی کی اب کوئی انتہا نہ رہی اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ موسیٰ کولا کر پیش کر یں۔
ترجمہ: ”شہر کے پرے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا یہاں کے سردار تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تو بہت جلد چلا جا، مجھے اپنا سچا خیر خواہ مان پھر موسیٰ وہاں سے خوفزدہ ہو کر دیکھتے بھاگتے بھاگتے کھڑے ہوئے کہنے لگے اے پروردگار مجھے ظالموں کے گروہ سے بچا لے اور جب مدین کی طرفہ متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھ کو سیدھی راہ چلائے گا۔ مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کا گروہ (اپنے جانوروں کو ) وہاں پانی پلا رہا ہے اور دو عورتیں اپنے جانوروں کو روکتی تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ تم دونوں کا کیا مطلب ہے ۔ وہ بولیں کہ ہمارا عمول یہ ہے کہ ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک یہ چرواہے پانی پلا کر ہٹا نہ لے جائیں۔ (اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں) پس یہ سن کر موسیٰ ؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا ۔ پھر سایہ کی طرف ہٹ آئے اور وہ کہنے لگے اے پروردگار جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔ “ (سورہ قصص)
فرعون اور فرعون کے ارادے جب اس شخص کی زبانی معلوم ہو گئے تو آپ وہاں سے تن تنہا چپ چاپ خاموشی سے نکل کھڑے ہوئے چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آ پ شہزادوں کی طرح گزارتے تھے اس لیے سفر بہت کڑا اورتکلیف دہ معلوم ہوا۔ لیکن خوف و ہراس اس کے سبب سے ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جارہے تھے اور خدائے تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہوئے جارہے تھے کہ خدایا مجھے ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں کے مظالم سے نجات دے۔ مروی ہے کہ خدا ئے تعالیٰ نے آپ کی رہبری کے لیے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ کے پاس آیا اور آپ کو راستہ دکھا گیا۔ واللہ اعلم۔ تھوڑی دیر میں آپ جنگلوں اوربیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچے تو خوش ہو ئے اور فرمانے لگے کہ مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست ہی پر پہنچائے گا۔ اللہ نے آپ کی یہ امید بھی پوری کی اور دنیا و آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتلائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنوﺅں پرآئے تو دیکھاچرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں وہیں آپ نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دوعورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی سے روک رہی ہیں تو آپ کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ یہ بے چاریاں نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا رودار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی سے ان کی بکریوں کو بھی پلا دیں تو آپکو رحم آیا۔ ان سے پوچھا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو۔ انہوں نے جواب دیا ہم تو اس سے پانی نکال نہیں سکتیں۔ جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلائیں گے۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں تو آپ نے خود ہی پانی کھینچ کر ان جانوروں کو پلا دیا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا جس چٹان کو دس آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ہی ڈول نکالا تھا۔ جس میں خدا نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں آسودہ ہو گئیں اب آپ تھکے ماندے ایک درخت کے سایہ تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے آئے تھے۔پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہ تھا۔ درختوں کے پتے گھاس پھوس کھاتے تھے۔پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر نظرآتا تھا۔ آدھی کھجور سے بھی اس وقت تر سے ہوتے تھے حالانکہ اس وقت ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ خدا کے نزدیک آپ ہی تھے۔ صلوة اللہ والسلام علیک ۔
اس درخت کے تلے بیٹھ کر آپ نے خدائے تعالیٰ سے دعا کی کہ اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں ۔ عطار کا قول ہے کہ اس عورت نے بھی آپ کی دعا سنی:
ترجمہ: ”اتنے میں ان دونوں میں سے ایک ان کی طرف شرم سے چلتی ہوئی آئی کہنے لگی میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں کہ آپ نے ہمارے جانوروں کو جو پانی پلایا اس کی اجرت دیں جب موسیٰ ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا پورا حال بیان کیا تو کہنے لگے مت ڈرو تو نے ظالم سے نجات پالی۔ ان دونوں میں سے ایک نے کہا ابا جی انھیں اجرت ہی پر رکھ لیجئے کیوں کہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو۔ ان بزرگ نے کہا میں اپنی دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دیناچاہتا ہوں اس مہر پر کہ آپ آٹھ سال تک میرا کام کریں ۔ اگر دس سال پورے کر دیں تو یہ آپ کی طرف سے بطور احسان کے ہوگا۔ میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ آپ کو کسی مشقت میں ڈالوں خدا کو منظور ہے تو آگے چل کر آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے۔ موسیٰ ؑ نے کہا ۔ خیر یہ بات تو میرے اور آپ کے درمیان پختہ ہوگئی۔ میں ان دونوں میں سے جسے چاہوں پورا کردو۔ مجھ پر کچھ زیادتی نہ ہو۔ ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر خدا گواہ اور کار ساز ہے۔ “ (سورہ قصص)
یعنی ان دونوں لڑکیوں کی بکریوں کو جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس گئیں باپ نے دیکھا کہ آج یہ وقت سے پہلے آگئی ہیں تو دریافت فرمایا کہ آج کیا بات ہے انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاﺅ اسے میرے پاس بلا لاﺅ۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گرہست پاک دامن، عفیفہ اور نیک عورت کا دستور ہوتا ہے ۔ شرم و حیا سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھیں۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئے کہ صرف یہی نہ کہا کہ میرے ابا آپ کوبلا رہے ہیں کیونکہ اس میں شبہ کی باتوں کی گنجائش تھی۔ صاف کہہ دیا کہ میرے والد آپ کو مزدوری کے دینے کے لیے اور اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے بلا رہے ہیں جو آپ نے ہماری بکریوں کو پلانی پلا کر ہمارے ساتھ کیا ہے۔ کلیم خدا جو بھوکے پیاسے، بے خرچ اور تن تنہا مسافر تھے یہ موقعہ غنیمت جان کر اس لڑکی کے ساتھ چل دئیے۔ وہاں پہنچ کر ان کے بزرگ باپ کو سلام کیا اور ادب سے بیٹھ کر گفتگو کرنے لگے۔ بزرگ کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست کہہ سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ چھوٹ آئے۔ یہاں تک ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہ بزرگ حضرت شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف خدا کے پیغمبر بن کرآئے ہوئے تھے۔ یہی مشہور قول ہے۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کو تو جہ دلائی ۔یہ تو جہ دلانے والی وہی صاحبزادی تھیں جو آپ کوبلانے کیلئے گئی تھیں ۔ کہا کہ انھیں آپ ہماری بکریوں کی چرواہی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہی کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی ہو اور امانت دار ہو۔ باپ نے پوچھا بیٹی تم نے کیسے جان لیا ان میں یہ دونوں خوبیاں ہیں۔ بچی نے جواب دیا کہ دس قوی آدمی مل کر جس پتھر کو اس کنویں سے ہٹا سکتےتھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا اس سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہو سکتا ہے اور ان کی امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انھیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے یہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہو گئی انہوں نے کہا نہیں تم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکری پھینک دینا۔ میں سمجھ لوں گا کہ مجھے اس راستہ پر چلنا چاہئے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ تین شخصوں کی سی زیر کی، معاملہ فہمی، دانائی اور دور بینی کسی اور میں نہیں پائی گئی۔ حضرت ابوبکرؓ کی دانائی جبکہ انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے حضرت عمرؓ کو منتخب کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر حضرت یوسف ؑ کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ انھیں اچھی طرح رکھو اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنےباپ سے سفارش کی کہ انھیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔ یہ سنتے ہی اس بچی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ اگر آپ پسند فرمائیں تو اس مہر پر اپنی دونوں بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کےساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک میری بکریاں چرائیں اس بزرگ نے کہا کہ آٹھ سال تو ضروری ہیں ہاں اس کے بعد کے دوسال کا آپ کو اختیار ہے۔ اگر آپ اپنی خوشی سے دو سال تک اور میرا کر یں تو اچھا ہے ورنہ آپ پر لازم نہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ میں بد معاملہ آدمی نہیں ہوں۔
کلیم خدا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بزرگ کی یہ شرط قبول کرلی اور فرمایا ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے۔ مجھے اختیار ہوگا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں ۔ آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر واجب نہیں ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اس کی کارسازی کافی ہے تو گو دس سال کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں۔ ضروری آٹھ سال ہیں۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دس سال کی مدت پوری کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: ”جب موسیٰ ؑ نےمدت پوری کرلی اور اپنے گھروالوں کو لے چلے تو کوہ طور کی طرف آگ دیکھی ۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ٹھہرو، میں نے آگ دیکھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاﺅں یا کوئی آگ کا انگارا لاﺅں تاکہ تم سینگ لو۔
یعنی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی مدت پوری فرما چکے تو وطن کا شو ق پیدا ہوا۔ چنانچہ بیوی بچوں کو لے کر چلے۔ راستہ میں رات ہو گئی بارش ہوئی، اندھیری رات تھی، راستہ بھول گئے اور سردی کا زمانہ تھا سرد ہوا چل رہی تھی۔ چراغ جلائے مگر روشنی نہیں۔ بہت پریشان ہوئے اسی پریشانی میں کچھ آگ جلتی نظر پڑی تو گھر والوں سے فرمایا: تم یہاں ٹھہرو آگ کا انگارا لیتا آﺅں گا تاکہ تم تاپ لو اور سردی کم ہو جائے۔ چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے وہاں خدا کی تجلی نظر آئی اور اللہ تعالیٰ سے بات چیت ہوئی وہیں آپ کو نبوت ملی اور معجزہ دے کر فرعون کی طرف بھیجے گئے۔ اس کی بڑی تفصیل ہے۔ ہمیں ان کی بیوی محترمہ کا مختصر حال بیان کرنا تھا جو قرآن مجید سے بیان کر دیا ہے اب تم غور کرو اور سوچو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیوی اپنے والد ماجد کی کس طرح خدمت کرتی تھیں اور گھر کے کاروبار میں کتنی محنت کرتی تھیں اور ضروری اور مجبوری میں بکریاں چراتی تھیں پھر باپ کے کہنے سے اجنبی مرد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس اس شر م و حیا سے آئیں اور شادی ہو جانے کے بعد اپنے خاوند حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آئیں اور ان کی خدمت کرتی رہیں تم بھی اپنے ماں باپ اور خاوند کی خدمت کرو گی تو بڑے بڑے درجے پاﺅ گی۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اسماءؓ بنت عمیسؓ کا ذکرخیر

اپنا تبصرہ بھیجیں