women hitting

شکر گڑھ میں کچہری کے اندر لڑکی پر تشدد کرنے والوں کیخلاف مقدمہ درج

EjazNews

یوں تو ہمارے ہاں کچہریوں میں ،تھانوں میں مارپیٹ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہ آئے دن کے واقعات ہوتے ہیں ۔ ماضی میں ایسے واقعات کو رپورٹ تو کیا جاتا تھا لیکن نتیجہ کبھی بھی کچھ نہیں نکلتا تھا کیونکہ دیکھنے ،سننے اور پڑھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے جہاں پر بہت سے نقصانات ہیں وہاں پر کچھ لوگ اس کا مثبت استعمال کرنا بھی جانتے اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد اس کے اظہار کا موقع مل رہا ہے۔ کہتے ہیں ہم جرم کو لڑ کر نہیں روک سکتے لیکن ہاتھوں کی انگلیوں کے استعمال سے ضرور روک سکتے ہیں اور کچھ ایسے اکثر و بیشتر دیکھنے میں آرہا ہے۔
لاہور میں ایک بزرگ عورت کے ساتھ بدکلامی کرنے والے پولیس کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ اسی طرح شکر گڑھ کی کچہری میں سامنے آنے والی ویڈیو کے بعد ایک مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں آنے کی اطلاعات نہیں ہیں۔
پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کی کچہری میں ایک لڑکی پر وکلاء کی جانب سے تشدد کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے ۔اس میں مار کھانے والی لڑکی وکلاء کو گالیاں بھی دیتی ہے ۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کوایک وکیل باقاعدہ ٹانگ مارتا ہے۔ پولیس نے تین وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم تاحال کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لڑکی پر تشدد کے واقعہ پر ڈی پی او نارووال سے رپورٹ بھی طلب کی ہے اور واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ بروقت کارروائی نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے۔
رافع لکھتی ہیں کہ ایک عورت کی کوک کے محتاد مرد اپنی مردانگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آفرین آفریشن آفرین۔
بینش صدیقی واقعہ کے بارے میں لکھتی ہے شرم محسوس ہوتی ہ کہ ہم ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سارا دھیان عورت کو پردہ کروانے پے ہے نہ کہ اس کی عزت کرنے پے۔ افسوس۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کیخلاف بھارتی عزائم بے نقاب کرتے رہیں گے،وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں