women banj pan with child

بانجھ پن کے ساتھ زندگی کیسے گزاری جائے؟

EjazNews

بانجھ پن کی وجہ سے عورت یا مرد اداس اورنروس ہو سکتا ہے۔ وہ تنہائی ، بے بسی اور غصہ کا شکار ہوسکتا ہے۔
جب کبھی یہ کیفیت ہو تو اس بات کو جاننا ضروری ہوتا ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں، ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو اولاد سے محروم ہیں۔ جب بھی مایوسی، بے بسی اور تنہائی حملہ کرے، تو اپنے گھر کے افراد اور دوستوں سے ملیے اور بات کیجئے جو آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ ایسے دوسرے گھرانے تلاش کر سکتے ہیں جو بے اولاد ہیں اور ان کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کی مدد کر کے زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں۔
بانجھ پن کے شکار افراد کی مدد :
• بے اولاد جوڑوں کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا سلوک کرنا چاہیے۔ یہ ان کے لیے مشکل وقت ہوتا ہے اور انہیں حمایت اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
• بے اولاد جوڑوں کو بانجھ پن کا طعنہ نہ دیں۔
• ایسے جوڑوں کو بتانا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے کتنے اہم ہیں اور اپنے شریک زندگی کی کس طرح قدر اور عزت کر سکتے ہیں۔
• بے اولاد جوڑوں کو مواقع فراہم کریں کہ وہ بچوں کے ساتھ وقت گزار لیں اور اپنے فطری جذبے کی تسکین کرسکیں۔
گود لینے کے طریقوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں:
• نوجوان افراد کو جنسی بیماریوں اور ان سے بچاؤ کے بارے میں بتائیں۔
یہ یقینی بنائیں کہ مقامی صحت مرکز میں جنسی بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج کا بندوبست ہے۔پیرو میں درد کی عورتوں کی شکایت کو ہمیشہ سنجیدگی سے سننا چاہیے۔
• اکثر عورتوں کو بغیر علاج کے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ یہ کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔
• عورتوں کو پٹیرو کے انفیکشن کی علامتوں کے بارے میں بتائیں۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ اس تکلیف کا فوری اورمکمل علاج کرانا چاہیے۔
• مردوں اور عورتوں کو جنسی بیماریوں کی علامت سے آگاہ کریں اور انہیں ان امراض کے فوری اور مکمل علاج کی اہمیت کے بارے میں بتائیں۔ یہ بھی بتائیں کہ عورت اور مرد دونوں کا علاج اہمیت رکھتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک واقعہ یہا ں بیان کیا جارہا ہے کہ بانجھ پن کو ایسے بھی دور کیا جاسکتا ہے۔
بچہ گود لینا:
زلیخا کی عمر 25 سال تھی اور اس کی تین شادیاں ہوچکی تھیں۔ وہ زندگی سے مایوس تھی۔ اس کے ہر شوہر نے اسے اس وجہ سے طلاق دی تھی کہ اس کے یہاں بچہ نہیں ہوتا تھا۔ گائوں کی عورتیں زلیخا کو بانجھ ہونے کا طعنہ دیتی تھیں۔ عورتوں کا کہنا تھا کہ زلیخا نے شادی سے پہلے کوئی جادو کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہی ہے۔ زلیخا کی دوسری تمام بہنیں شادی شدہ تھیں اور سب کے یہاں بچے تھے۔ بعض اوقات زلیخا اپنی بہن کے بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ۔ زلیخا کی بڑی بہن کو تپ دق ہوگئی۔ اس نے شدید بیماری میں دو جڑواں بچوں کو جنم دیا۔ زلیخا نے بہن سے کہا کہ کیا وہ اس کے ایک بچے کو گود لے سکتی ہے۔ بہن نے خوشی سے اپنا ایک بچہ زلیخا کو دے دیا۔ زلیخا نے گاؤں میں موجود ہیلتھ ورکر سے یہ سیکھا کہ بچے کو چمچے سے دودھ کیسے پلایا جائے ۔ اس نے گاؤں کی ایک صحت مند | عورت کو اس بات پر راضی کر لیا کہ دن میں وہ اپنے بچے کے ساتھ زلیخا کے گود لینے ہوئے بچے کو بھی اپنا دودھ پلائے گی۔ رات کو زلیخا بچے کو چمچ سے دودھ پلاتی، یہ دودھ اس کی ایک اور بہن کا ہوتا تھا، جو وہ ہر شام کو زلیخا کو دے دی تھی۔
زلیخا کی سہیلیوں اور گاؤں کی عورتوں کا خیال تھا کہ زلیخا کا بیٹا یا تو مر جائے گا یا بہت کمزور ہوگا۔ لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران اور خوش ہوئے کہ یہ بچہ تندرست ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں مضبوط ہیں۔ اب زلیخا گاؤں میں، گود لیے بچوں کی پرورش کی ماہر بھی سمجھی جاتی ہے۔ جب گاؤں میں زچگی کے دوران ایک عورت مرگئی تو عورت کے گھر والوں نے بے ماں کے بچے کی پرورش کے لیے زلیخا کی خدمات حاصل کیں۔ دونوں جڑواں بچے اب بڑے ہو گئے ہیں اور گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ زلیخا نے جس بچے کو گود لیا ہے وہ بچہ اپنے جڑواں بھائی کے مقابلے میں قد آور اور مضبوط جسم کا مالک ہے۔(پنجاب کے ایک گاوں کا واقعہ)

یہ بھی پڑھیں:  حمل ٹھہرنے کی علامات اور تشخیص

اپنا تبصرہ بھیجیں