azadi marach lahore

کیا اس لانگ مارچ میں کسی کا ایک دھیلے کا بھی نقصان ہوا ہے؟

EjazNews

مولانا فضل الرحمن کا لانگ مارچ 27اکتوبر سے شروع ہوا تھا۔ یہ لانگ مارچ 31اکتوبر کو اپنی بتائی ہوئی تاریخ کے عین مطابق اسلا م آبا د میں پہنچ جائے گا۔ سکھر میں مولانا نے 27اکتوبر کو خطاب جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ لانگ مارچ صرف ہمارا نہیں یہ ہر طبقے کا لانگ مارچ ہے اورا س میں ہر طبقہ شامل ہے۔
اس کے بعد انہوں نے ملتان میں بھی خطاب کیا ۔پھر انہوں نے لاہور میں خطاب کیا۔ لاہور کے خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے ایک بہت خوبصورت بات کہی کہ یہ لانگ مارچ پرامن ہے ۔اور اگرآپ بغیر کوئی سر پر خول پہنے ہوئے یہ بات سوچیں تو آپ ان کی بات سے اختلاف نہیں کر سکتے۔ اس پورے لانگ مارچ میں کسی ایک شخص کو بھی سامنے شاید نہ لا سکیں جس کا مولانا فضل الرحمن یا ان کے لانگ مارچ کی وجہ سے کوئی نقصان ہوا ہو۔
اس لانگ مارچ میں نہ تو میٹر و کو توڑ ا گیا ، نہ سڑکوں پر کھڑے ریڑھیوں والوں کا نقصان ہوا اور نہ ہی ہسپتال جانے والا کوئی شخص مرا۔ آپ اس لانگ مارچ کی تنظیم سازی دیکھیں آپ دنگ رہ جائیں کہ مولانا فضل الرحمن کے لوگ کس قدر ٹرینڈ ہیں ۔ تنظیم سازی اسی کو کہا جاتا ہے کہ پورے منظم طریقے سے چلنا بغیر کسی کا نقصان کیے ہوئےاور ایسا ہی ہوا ہے۔ لاہور میں پڑائو کے دوران نہ تو میٹرو بس کو روکا گیا اور نہ ہی ٹریفک کی روانی کو متاثر کیا گیا ورنہ ماضی میں آپ کو یاد ہو گا کہ جب لانگ مارچ یا دھرنے دئیے جاتے تھے توکتنی جانے صرف ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے ہی ختم ہو جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان بمقابلہ بھارت: بغیر کسی نقصان کے بھارتی انڈر19ٹیم نے میچ جیت لیا


آپ کا مولانا فضل الرحمن سے سو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کی تنظیم سازی تعریف کے قابل ہے پھر دوسرا جیسا انہوں نے کہا کہ ہم 31اکتوبر کو اسلام آبا د پہنچیں گے وہ پہنچیں گے۔
یاد رہے 31اکتوبر کو اسلام آباد میں مسلم لیگ ن نے بھیجلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

سابقہ حکومتوں کی برعکس موجودہ حکومت نے لاہور تک تو اس لانگ مارچ کیلئے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی اور نہ ہی اسے کہیں روکا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں