health of heart

صحت اور زندگی سے بھرپور مستقبل

EjazNews

اگرچہ دل کی شریانوں کا مرض ابھی تک ایک ”بڑے قاتل “کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اب اس کے خطرات کو بروقت پہچانا جا سکتا ہے۔ کئی رسک فیکٹر مثلاً خاندانی اور ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی، شوگر اور موٹاپا ایسے عوامل کو بہت اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ہائی کولیسٹرول کو ایک عرصہ تک شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے لیکن اب ماہرین نے دو ٹوک انداز میں رائے دے دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ دل کی شریانوں کے مرض کا سب سے بڑا سبب اور ایک فیکٹر ہائی بلڈ کولیسٹرول ہی ہے۔
جینیاتی خطرے کو آپ ٹال نہیں سکتے ہیں لیکن کولیسٹرول کے خطرے کو دور کرنا آپ کے اپنے بس میں ہے۔ تحقیقات نے بھی تصدیق کی ہے کہ ہائی بلڈ کولیسٹرول دل کی شریانوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ محض ایک فیصد کولیسٹرول لیول میں کمی دل کی باری کا خطرہ 2 فیصد کم کرتی ہے بلکہ اگر آپ اپنا کولیسٹرول لیول مچھلی سے یعنی 150 سے 180 کے درمیان رکھیں تو شریانوں کی کمی اور چکنائیوں کا اجتماع ختم ہونا شروع ہو جاتاہے۔
امریکہ میں دل کی بیماری سے ہونے والی اموات کی شرح میں ڈرامائی حدتک بلڈ کولیسٹرول تک کمی کا سبب یہی ہے کہ امریکی عوام میں کولیسٹرول کی بہتات کے نقصانات سے آگاہی بڑھ چکی ہے۔ اگر برصغیر سے کوئی شخص مغرب میں جائے تو اسے یہ پتہ چلنے میں دیر نہیں لگتی کہ امریکہ کے لوگ دل کی بیماری کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔ دنیا کی کسی اور قوم کے مقابلے میں امریکہ کے لوگ جسمانی ورزش اور فٹ نس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی اور ملک کے مقابلے میں امریکہ میں ہیلتھ کلبوں کی تعداد زیادہ ہے۔ امریکی لوگ اپنی روز مرہ زندگی کے معمولات میں جوگنگ واکننگ ،سوئمنگ یا کسی اور جسمانی ورزش کی سرگرمی کو شامل رکھتے ہیں۔ لاکھوں لوگ یو گا اور استغراق کے ذریعے ذہنی دباو¿ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں اور ادارے اپنے ملازمین کی صحت برقرار رکھنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ صحت عامہ کے ادارے لاکھوں ڈالرز کے فنڈز استعمال کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہائی کولیسٹرول کے نقصانات سے آگاہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں تیسں برس پہلے کے برعکس دل کی بیماری کے نتیجہ میں ہونے والی شرح اموات میں 40 فیصد کمی آچکی ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ برصغیر میں لوگ اچھی صحت کے اصولوں سے اس وقت تک بے خبر رہتے ہیں جب تک وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہو کر ڈاکٹروں کے پاس نہیں پہنچ جاتے۔ کچھ لوگ تو مسلسل یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس بیماری سے بچ نکلیں گے اور اگر کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا ہو سکتی ہے تو وہ ان کے ساتھ نہیں کسی اور کے ساتھ ہوگی۔ اس بد قسمت سوچ کی وجہ سے لوگ اچھی صحت کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرنے کا ارادہ ملتوی کرتے رہتے ہیں۔ اگر آپ واقعی یہ چاہتے ہیں کہ مسلسل صحت مند زندگی گزاریں تو پھر اچھی صحت کو اپنی اولین تر جیح بنایئے۔ اچھی صحت خود بخود نہیں بن جاتی ،زندگی میں کئی اور باتوں کی طرح آپ کو مستند اور موزوں رہنے کے لیے بھی منصوبہ بندی اور محنت کرنا ہوگی۔
ہم سب سکول کالج کے زمانے میں جان لیتے ہیں کہ قانون سے بے خبری قانون توڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ بے خبری خاص طور پر صحت برقرار رکھنے کے حوالے سے آپ کی صحت کو تباہی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ چنانچہ بے خبر رہ کر صحت برباد کرنے کا خطرہ مول نہ لیجئے۔ ہمیں صرف ایک سادہ سی بات سمجھنا ہے۔ وہ یہ کہ بہت سے سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ فطرت نے انسانی جسم کم از کم ایک سو دس سے ایک سو بیس برس کے لیے بنایا ہے۔ اسی سوچ نے مغرب میں لوگوں کو موت کے اسباب سمجھنے اور دل کی بیماری جیسے امراض کی وجہ سے قبل از وقت موت کے اسباب کو ختم کرنے کے لیے تحقیق و تجسس پر آمادہ کیا ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے وہ قابل غور ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں مغرب میں پیدا ہونے والا اوسط بچہ صرف 45 برس زندگی کی توقع کر سکتا تھا۔ وہی بچہ یعنی اس جیسی جسمانی و طبی صورت حال رکھنے والا بچہ آج پیدا ہونے پر 75 برس (تقریباً) زندگی کی توقع کر سکتا ہے۔ کیا زبردست کامیابی ہے؟ برصغیر میں اس کا موازنہ ہے۔ ہمارے ہاں اوسط عمر تقریباً 60 سال ہے۔ ہم مغرب کے اوسط آدمی سے 10 سے 15 برس کم زندگی رکھتے ہوئے ایک واضح نقصان اور پسماندگی میں ہیں۔
پہلا اصول :
دل کا مریض چاہے اسے ہارٹ اٹیک ہو چکا ہو بائی پاس آپریشن ہو چکا ہو یا انجیو پلائی ہو چکی ہو وہ صرف اور صرف کم چکنائی اور سبزیوں والی غذائیں استعمال کرے۔ حیوانی چربی اور گوشت وغیرہ سے سختیسے پرہیز کرے۔ انڈے کی سفیدی اور چکنائی سے پاک ڈیری کی مصنوعات استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
دوسرا اصول :
مریض تمباکو نوشی کے قریب نہ پھٹکے، شراب نوشی سے گریز کرے۔
تیسرا اصول :
ورزش اورعبادت کے ذریعے ذہنی دباو کم کرنے میں مہارت حاصل کرے۔مثبت سوچیں رکھیں، گہرے سانسوں کی مشق کریں اور جذباتی اتار چڑھاو پر قابو پائے۔
چوتھا اصول :
ہلکی پھلکی مگر باقاعدگی سے ورزش کی عادت اپنائے اور اس معمول کو روز مرہ زندگی کا حصہ بنائے۔
خوش قسمتی سے بہت سے لوگ اپنےی روزمرہ معمول اور خوراک میں رد و بدل کے ساتھ تمباکو نوشی چھوڑ کر اور ورزش اپنا کر یہ مقصد حاصل کر لیتے ہیں۔ مزید پیش قدمی کرتے ہوئے وہ اپنا وزن کم کر کے اور ذہنی دباو¿ سے نجات پا کر ہارٹ اٹیک کے خطرے سے نکل جاتے ہیں لیکن ان سب باتوں پر عمل در آمد کے لیے تاخیر سے کام مت لیں۔ بے خبری یا آپ کی غفلت زندگی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بہت سے لوگ یہ سادہ سی تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ آپ بھی ابتدا میں تھوڑی سی مشکل محسوس کریں گے لیکن پھر آپ اس کے عادی ہو جائیں گے اور کچھ دنوں کے بعد محسوس کریں گے کہ آپ توانائی سے بھرپور زندگی کا لطف اٹھارہے ہیں۔ آپ کی شریانوں، پٹھوں اور ہڈیوں میں نئی طاقت اور توانائی دوڑنے لگے گی اور بلاشبہ یہ آپ کے دل کے نظام کی مدد کر کے ہارٹ اٹیک کی تباہ کاریوں سے بچا لے گی۔ کئی لوگ بد قسمتی سے اپنا اسلوب حیات بدلنے کے لیے ہارٹ اٹیک کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ایک اوسط درجے کی ذہانت رکھنے والا فرد اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے جبکہ عقلمند آدمی دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتا ہے لیکن احمق آدمی کسی بھی طرح کچھ سیکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ آپ وہ کریں جو عقلمند لوگ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جلدی امراض اور احتیاطی تدابیر
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں