modi-yourpi palimantarian

کیا دنیا بے وقوف ہے؟

EjazNews

یہ وہ سوال ہے جو مجھ سے ایک بڑے اخبار کے صحافی نے پوچھا ، کیا دنیا بے وقوف ہے؟، یورپی وفد کوبلا کرآپ سرینگر لیجا رہے ہیں اور دوسری جانب اپنے ہی ملک کے پارلیمنٹیرینز اور لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہوتی کیا یہ دنیا نہیں دیکھتی ہے۔ ایک مخصوص جگہ پر لے جا کر آپ یہ کہہ دیں کہ یہ کشمیر ہے تو جانے والے کوئی بیوقوف نہیں ہوتے، انہیں سب سمجھ آرہی ہوتی ہے اور وقت آنے پر وہ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ انڈیا میں کرفیو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ وہاں پر موجود لاکھوں انسان ایک بڑی جیل خانے میں بند ہیں کیا یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات ہے۔ کیا یورپ میں پھیلے ہوئے کشمیری نہیں جانتے کہ ان کے یہاں کیا ہو رہا ہے۔ کیا انڈیا میں رہنے والے کروڑوں لوگ یا وہ طالب علم جو وہاں مقبوضہ کشمیر سے پڑھنے آئے ہوئے ہیں وہ نہیں جانتے کہ ان کے یہاں کیا ہو رہا ہے۔ کشمیر کا ہر فرد یہ کہانی بیان کر رہا ہوگا کہ یہ دورئہ جھوٹ پر مبنی ہے۔
راہول گاندھی انڈیا کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں ۔ ان کا طیارہ سرینگرہ ائیر پورٹ پر اترتا ہے تو انہیں ائیر پورٹ سے باہر ہی نہیں جانے دیا جاتا کیا یہ دنیا سے ڈھکی چھپی بات ہے ۔ یورپی پارلیمنٹ کا جو وفد انڈیا سے ہو کر واپس جارہا ہے کیا وہاں میڈیا کے نمائندے نہیں ہیں جو رپورٹ کریں گے کہ ہمیں وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے یہ صرف ایک ڈھونگ ہے۔
آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا موازنہ کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔ انہیںشاید اتنا نہیں معلوم کہ آزاد کشمیر میں ہر پاکستانی کو جانے کی اجازت ہے۔ کیا انڈیا کے مقبوضہ کشمیر میں ہر ہندوستانی جاسکتا ہے۔ آزاد کشمیر کے لوگ پاکستان میں پڑھ سکتے ہیں، کاروبار کر سکتے ہیں اور کررہے ہیں بڑے بڑے کاروبار ان کے ہیں، کیا انڈیا میں ایسا ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بھر میں کرونا وائرس سے 2لاکھ 65ہزار سے زائد اموات

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں ارمیلا متونڈکر ایک انڈین ایکٹریس ہیں ۔انہوں نے کانگریس کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا ۔ آپ جانتے ہیں کہ ان پر الزام لگا کہ ان کا شوہر ایک پاکستانی ہے۔ کیونکہ ارمیلا کا شوہر مسلما ن تھا اور مقبوضہ کشمیر کا رہنے والا تھا لہٰذا مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کے اندر بھی اپنا نہیں سمجھا جاتا یہ بات جان لیجئے۔
پلوامہ حملے کے بعد انڈیا میں کام کرنے والے کشمیری مزدوروں اورطالب علموں کے ساتھ کیسا ظلم ہوا، کیا کسی سے ڈھکا چھپا ہوا ہے۔ ظلم کی انتہا دیکھیں کہ جب مقبوضہ کشمیر میں فوجی قافلوں کا سڑکوں سے گزر ہو گا تو مقامی لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں ہوگی یہ ہے مقبوضہ کشمیر۔
تین ماہ ہونے کو ہیں وہاں انسان ایک بڑی جیل میں قید ہیں اور انڈین کے پرائم منسٹر ایک ڈھونگ رچا رہے ہیں کہ ہم یورپی وفد کو کشمیر کا دورہ کروا رہے ہیں یہ ڈھونگ اب نہیں چل سکتے کیونکہ دنیا بے وقوف نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا سے ہانک کانگ پہنچے والے 52مسافروں کا کورونا مثبت ، آسٹریلیا کی فضائی پابندیاں عائد

یو این او کے ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹس کی باتیں سنیں ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں 5اگست سے کرفیو ہے۔ وہاں پرٹیلی فون اور انٹرنیٹ بند ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہاں قتل و غارت گری ہو رہی ہے۔ کیا اب بھی کوئی سوچ سکتا ہے کہ دنیا بے وقوف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں