hazrat mosa

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کا ذکر خیر

EjazNews

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کا نام یوخاند ؑ ہے آپ فرعون کے زمانے میں تھیں فرعون بڑا ظالم بادشاہ تھا اس نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ بھڑکی جو مصر کے ہر ہر قبطی کے گھروں میںگھس گئی اور بنی اسرائیل کے مکانات میں وہ نہیں گئی جس کی تعبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت برباد ہو جائے گی اور اس کے خدائی دعوے کی بدترین سزا ملے گی اس لیے فرعون نے اپنی سلطنت کے چاروں طرف یہ احکام جاری کر ادئیے کہ بنی اسرائیل کے جو بچے پیدا ہوں ان کی سرکاری طورپر دیکھ بھال کی جائے اور اگر لڑکا پیدا ہو تو قتل کر دیا جائے اورلڑکی پیدا ہو تو چھوڑ دی جائے اسی طرح بنی اسرائیل کے ہزاروں بچے قتل کر دئیے اور بنی اسرائیل کو سخت کاموں میں لگا دیا۔ایسے نازک وقت میں موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پرورش اس کے ہاتھوں کرائی اور ان کو قتل سے بچایا اور ان کی ماں کو بھی، کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں بڑی نیک و فرماں بردارتھیں ان کو خدائی الہام ہوتا تھا ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر خیر فرمایا ہے۔
سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا:
ترجمہ: ”اور ہم نے تم پر اور ایک بار بھی بڑا احسان کیا ہے جب کہ ہم نے تیری ماں کو وہ الہام کیا جو کیاجانا تھا کہ تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دے تو دریا اسے کنارے لا ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا اور میں نے اپنی طرف سے خاص محبت تجھ پر ڈال دی تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ ر ہی تھی کہ اگرتم کہو تو میں اسے بتادوں جو اس کی نگہبانی کرے اس تدبیر سے ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غمگین نہ ہوں۔“
تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی یوں تفسیر لکھی ہے کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وہی بھیجی جس کا اب تم سے بیان ہو رہا ہے تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا۔ کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں۔ تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنالو۔ دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ آﺅ۔ چنانچہ وہ ہی کرتی رہیں ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے گئیں اب تو تمہاری والدہ کلیجہ تھام کر رہ گئیں اور اس قدر غم زدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا۔ اظہار کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا۔ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے اور جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے۔ وہی ان کے سامنے آجائے جس کی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بے گناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے وہ انہی کے تیل سے ان کے یہاں روشن ہوا ور خدا کے ارادے بے روک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے۔ ان ہی کا کھائے، ان ہی کے یہاں تربیت پائے۔ خود فرعون اور ان کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا رگ رگ میں محبت سما گئی۔ لوگ پرورش کرنے لگے، آنکھوں کا تارا سمجھنے لگا۔ شاہزادوں کی طرح نازو نعم سے پلنے لگے اور شاہی دربار میں رہنے لگے خدا نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی ۔ گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے خدا کے ارادے کون ٹالے اور جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے جو دیکھتا آپ کاوالہ وشیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو۔ شاہی خوراکیں کھا اور عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا۔ کھولا، بچے کو دیکھا اور پالنے کا ارادہ کیا۔ لیکن دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آرہی تھی وہ بھی موقع پر پہنچ گئی۔ کہنے لگی کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے تو میں ایک گھرانہ بتلاﺅں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاﺅ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں، آپ انھیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں۔ جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا۔ آپ نے جھٹ منہ لگا کر دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے یہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی اپنے ہی بچے کو دودھ پلائیں، تنخواہ و انعام ، عزت و اکرام بھی پائیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی ملے۔ اسی لیے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخض اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی کرے اس کی مثال ام موسیٰ کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچہ کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے ۔پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور رنج و غم جاتا رہے۔
اس واقعہ سے تم نصیحت کرو ۔ جو خدا پر بھروسہ رکھتا ہے خدا اس کی ضرور امداد کرتا ہے اور اس کی تکلیف اور پریشانیوں کو دور کر تا ہے دین و دنیا میں اس پر برکتیں نازل فرماتا ہے اور اس کی یادگار کو قیامت تک باقی رکھتا ہے۔ سب اس کی تعریف کرتے ہیں اگر تم بھی خدا کی اطاعت کرو گی اس پر بھروسہ کروگی تویقینا خدا تمہاری بھی امداد کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں