Irqa-Protest

عراق میں حکومتی تشدد سے ایک ماہ میں 250 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

EjazNews


غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عراق میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اضافے پر حکومت کے خلاف شروع ہونے والا پرتشدد احتجاج کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوا تھا۔4 روز سے احتجاج کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جہاں عوام سڑکوں پر نکل آئی اور عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی اور کرپٹ عہدیداران کے خلاف احتجاج کیا۔معاشی مسائل اور کرپشن کے خلاف احتجاج نے عراق میں سکیورٹی صورتحال خراب کردی ہے۔گزشتہ روز عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے ان کی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کو وارننگ دی تھی۔سیکیورٹی فورسز نے وزیر اعظم کی وارننگ پر عمل نہ کرنے والے سکول اور یونیورسٹی کے طالب علموں پر بھی آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔جبکہعادل عبدالمہدی کے اتحادی رہنما مقتدا الصدر نے بھی بغداد میں کرفیو لگائے جانے کے بعد انتخابات کا مطالبہ کردیا۔
عراق میں یکم اکتوبر سے ہونے والے مظاہروں میں اب تک تقریباً 250 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مصری صدر محمد مرسی کا قید میں انتقال

اپنا تبصرہ بھیجیں