بنگلہ دیشی کرکٹر شکیب الحسن پر آئی سی سی کی دو سالہ پابندی

EjazNews


شکیب الحسن بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی ہیں۔ان پر الزام ہے کہ جنوری 2018 میں سہ ملکی سیریز اور 2018کی انڈین پریمیئر لیگ کے دوران بکیز نے کرپشن اور میچ فکسنگ کے لیے ان سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے اس بارے میں آئی سی سی کو آگاہ نہیں کیا۔جنوری 2018 میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان سہ ملکی سیریز کے دوران ان سے اسی طرح کا رابطہ کیا گیا دوسری مرتبہ رابطہ کرنے پر بھی انہوں نے آئی سی سی کو آگاہ نہیں کیااور قوانین کے برخلاف رپورٹ نہ کرنے کے مرتکب قرار پائے۔ان پر تیسرا الزام ہے جس میں کہا گیا کہ 2018 کی انڈین پریمیئر لیگ کے دوران سن رائزرز حیدرآباد اور کینگز الیون پنجاب کے دوران 26اپریل کو کھیلے گئے میچ میں ان سے پھر ایک مرتبہ ایسے ہی روابط کیے گئے ۔اس بارے میں بھی انہوں نے اپنے بورڈ، لیگ یا ٹیم کے متعلقہ حکام کو کوئی اطلاع نہیں دی۔
آئی سی سی کے قانون کے تحت اگر کوئی کھلاڑی کرپٹ سرگرمیوں کی پیشکش کے حوالے سے اپنے بورڈ، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یا متعلقہ حکام کو رپورٹ نہ کرے تو وہ جرم کا مرتکب ہوتا ہے جس کے تحت کم از کم 6ماہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا دی جا سکتی ہے۔
اس بارے میں آئی سی سی اس لیے زیادہ متحرک ہے تاکہ کھلاڑیوں کو فوری طور پر قانون کی گرفت میں لا کر کھیل کو ہر سطح پر کرپشن سے پاک کیا جا سکے۔
شکیب پر دو سال کی پابندی عائد کی گئی ہے اور وہ دو سال تک مزید کسی بھی قسم کی کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے البتہ انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی جس کے سبب ان کی ایک سال کی سزا معطل کر دی گئی۔
آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ شکیب نے آئی سی سی کی جانب سے عائد پابندیوں کو تسلیم کر لیا ہے ۔
شکیب الحسن نے اپنے بیان میں کہا کہ میں اپنے اوپر لگائی گئی پابندی پر بہت افسردہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف جنگ میں آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ کھلاڑیوں پر انحصار کرتا ہے اور میں نے اس سلسلے میں اپنی ذمے داری ادا نہیں کی۔میں بھی چاہتا ہو ں کہ کھیل کرپشن سے پاک ہو

یہ بھی پڑھیں:  ترقی پانیوالے 72پرنسپل میڈیکل آفیسرز کن ہسپتالوں میں تعینات ہوئے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں