wife+husband

بانجھ پن کیا ہوتا ہے؟

EjazNews

اکثر مرد اور عورتیں یہ سمجھتےہیں کہ وہ بچے پیدا کرسکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر 10 جوڑوں میں ایک جوڑا ایسا ہوتا ہے جس کے یہاں حمل ٹھہرنے میں دشواری ہوتی ہے، کچھ عورتیں اور مرد بچے نہیں چاہتے۔ لیکن ایسے جوڑے جنہیں بچوں کی خواہش ہوتی ہے، بانجھ پن ان کے لیے افسوں جھنجھلاہٹ اور مایوسی کا سبب بن جاتا ہے۔
کسی جوڑے کے یہاں بچہ نہ ہو تو زیادہ تر عورت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن پچاس فیصد معاملوں میں مرد بانجھ ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر مرد یقین نہیں کرتا کہ اس میں کوئی خرابی ہے یا یہ ایسا مسئلہ ہے جس کے ذمے دار دونوں ہیں۔ وہ طبی معائنے سے انکار کر دیتا ہے یا اس پر سخت غصے کا اظہار کرتا ہے۔ اس کی وجہ معاشرے کا وہ رویہ ہے جس میں مرد کے بانجھ پن کو شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا ہے اور مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بچے پیدا کر کے اپنی مردانگی کا اظہار کرے۔ بانجھ پن کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان میں سے بعض وجوہات کا علاج ہوسکتا ہے لیکن بعض کا کوئی علاج نہیں ہے۔
بانجھ پن کیا ہے؟:
جب ایک جوڑا مہینے میں چند مرتبہ جنسی عمل سے گزرے جس میں خاندانی منصوبہ بندی کا طریقہ استعمال نہیں کیا جائے، اور ایک سال تک ان کے یہاں بچہ کی حمل نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس جوڑے میں بانجھ پن موجود ہے۔ اگر کسی عورت کے یہاں مسلسل تین مرتبہ حمل ضائع ہو گیا ہو، تب بھی عورت میں بانجھ پن کی شکایت ہوسکتی ہے۔
ایسا مرد یا عورت بھی بانجھ ہوسکتی ہے، جس کے یہاں پہلے بچہ ہو چکا ہوں،آخری بچے کی پیدائش کے بعد بھی بانجھ پن پیدا ہوسکتا ہے۔ کبھی کبھی صرف عورت یا مرد بانجھ نہیں ہوتا بلکہ دونوں کی مشتر کہ خرابی یہ مسئلہ پیدا کردیتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں، صحت مند ہوتے ہیں لیکن کوئی بھی ڈاکٹر اور کوئی بھی طبی ٹیسٹ یہ وجہ نہیں بتاسکتا کہ ان کے یہاں بچہ کیوں نہیں ہورہا۔ شراب نوشی کی کثرت، سگریٹ، تمباکو اور منشیات کا استعمال بھی مرد یا عورت میں بانجھ پن کا سبب بن سکتا ہے۔
مرد میں بانجھ پن:
مرد کے اندر بانجھ پن ان وجوہات سے ہوتا ہے:
1۔ وہ مطلوبہ مقدار میں منی پیدا نہ کر سکے۔ یا اس کی منی میں عورت کی نالیوں میں گزرنے یا عورت کے انڈے سے ملکر اسے بار آور کرنے کی صلاحیت نہ ہو۔
2۔ بالغ ہونے کے بعد اسے گلسوئے کی بیماری ہو چکی ہو۔ جس نے اس کے خصیوں کو نقصان پہنچایا ہو۔ اس صورت میں جنسی عمل کے دوران مرد کا اخراج تو ہوتا ہے لیکن اس کے مادے میں وہ جرثوے (کیڑے، تخم) نہیں ہوتے جو بار آوری پیدا کرتے ہیں۔
3۔ منی، عضوئے تناسل سے باہر نہ آئے کیوں کہ اس کی اندرونی نالی میں حالیہ یا ماضی کی کسی جنسی بیماری کی وجہ سے خراشیں یازخم ہوں۔
4۔خصیے دانی کی رگوں میں سوجن ہوگئی ہو۔
5۔جنسی عمل کے دوران اسے درج ذیل میں سے کوئی مسئلہ پیش آتا ہو۔
عضو تناسل سخت نہ ہوتا ہو۔
• عضو تناسل سخت تو ہوجائے لیکن عمل کے دوران اس کی سختی قائم نہ رہے۔
• جنسی عمل مکمل ہونے سے پہلے اخراج ہوجائے۔
6۔| ذیباطیس، تپ دق یا ملیریا جیسے امراض بھی مرد میں بانجھ پن پیدا کر سکتے ہیں۔
عورت میں بانجھ پن
عورت میں بانجھ پن کی اہم وجوہات یہ ہیں:
1۔ اس کے رحم یا بیض نالیوں میں زخم ہو۔ نالیوں کے اندر زخم یا زخم کے باقی رہ جانے والے نشانات عورت کے انڈے کو حرکت کرنے سے اور مرد کی منی کو انڈے تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔ اگر زخم، رحم کے اندر ہو تو اس کی وجہ سے بار آورانڈا رحم کی دیوار سے نہیں جڑ پاتا۔ بعض اوقات عورت کے اندر زخم پیدا ہو جاتے ہیں لیکن چونکہ وہ بیمار نہیں ہوتی اس لیےان کا علم نہیں ہوتا۔ برسوں بعد جا کر اسے پتا چلتا ہے کہ وہ بانجھ ہے۔
عورت کے اندر زخم ان اسباب سے ہو سکتے ہیں:
جنسی عمل سے منتقل ہونے والی کسی بیماری سے پیدا شدہ زخم جونالیوں یا رحم کے اندر تک ہو۔ ( پیٹرو کی سوجن)۔
غیرمحفوظ اسقاط حمل یازچگی میں پیچیدگی کی وجہ سےرحم میں انفیکشن یا خرابی ہوگئی ہو۔
حمل روک آلہ اندر رکھتے وقت صفائی کا خیال نہ رکھا گیا ہو جس کی وجہ سے انفیکشن ہو گیا ہو۔
فرج، رحم، نالیوں یا بیضہ دانیوں کے آپریشن سے ہونے والی کوئی خرابی۔
2۔ عورت کے اندر انڈانہ بنتا ہو۔ اگر جسم میں وقت پر مطلوبہ ہارمونز خاصی تعداد میں پیدا نہ کرے تو بانجھ پن ہوسکتا ہے۔ اگر ماہواری کے درمیان 25 دن سے کم یا35 دن سے زیادہ عرصہ ہوتا ہو تو عورت کے جسم میں انڈا نہیں بنتا۔
بعض اوقات اگر عورت کا وزن اچانک کم ہوجائے یا وہ بہت موٹی ہو ،تب بھی انڈ نہیں بنتا۔
3۔ رحم میں بڑھوتری (رسولی) ہوگئی ہو۔ رحم کی رسولی کی وجہ سے حمل نہیں ٹھہرتا احمل برقرار نہیں رہتا۔
4۔ بعض پیاریاں مثلاً ذیباطیس، تپ دق اور ملیریا بھی عورت کی بارآوری کو ختم کر دیتی ہیں۔
خاندانی منصوبہ بندی محفوظ ہے:
خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کو اکثر بانجھ پن کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن نس بندی کے علاوہ، خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں سے بانجھ پن پیدا نہیں ہوتا۔ صرف حمل روک آلہ (آئی یو ڈی) عورت کے جسم کے اندر رکھتے وقت اگر صفائی کا خیال نہ کیا جائے تو اس سے رحم یا نالیوں میں انفیکشن ہوجاتا ہے، جو بانجھ پن کا باعث بن سکتا ہے۔
کام کی جگہ یا گھر پر موجود خطرات جو بانجھ پن پیدا کر سکتے ہیں:
یہ خطرات کئی طرح سے بار آوری کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جن میں منی اور انڈا بننے سے صحت مند بچے کی پیدائش تک شامل ہے۔
آلودہ ہوا، غذا یا پانی:
جو کھیتوں اور کارخانوں میں استعمال ہونے والی خطرناک کیڑے مار دواؤں یا زہریلے کیمیائی مادوں سے آلودہ ہو۔
سگریٹ ، تمباکو، شراب یا اسڑانگ کافی کا استعمال:
وہ عورتیں جو سگریٹ نوشی کرتی ہیں، تمباکو استعمال کرتی ہیں، شراب پیتی ہیں یا کڑک کافی استعمال کرتی ہیں، ان کے یہاں حمل ٹھہرنے میں خاصا وقت لگتا ہے اورحمل بھی اکثر ضائع ہوجاتا ہے۔ سگریٹ اور شراب کثرت سے استعمال کرنے والے مردوں میں منی کے کیڑے (تخم) کم بنتے ہیں اور یہ اکثر ناقص اور کمزور ہوتے ہیں۔
سخت گرم ماحول میں کام کرنا:
بار آور ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مرد کی منی کے کیڑے ٹھنڈے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مرد کے خصیے، ایک تھیلی میں اس کے جسم سے باہر ہوتے ہیں۔ جب خصیے بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں تو وہ تندرست منی کے کیڑے (تخم) بنانا بند کر دیتے ہیں۔ مثلاً یہ ان مردوں کے ساتھ ہوسکتا ہے جو بہت تنگ کپڑے پہنتے ہوں جس کی وجہ سے ان کے خصیے جسم کے اندر چلے جاتے ہوں، یا وہ گرم پانی سے نہائیں یا گرم جگہوں، مثلاً بوائلر ، فرنس (بھٹی) یا طویل سفر کرنے والے ٹرک میں گرم انجمن کے نزدیک بیٹھتے ہوں۔ خصیے جب ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، وہ تندرست تخم بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
دوائیں:
بعض دوائیں بھی بار آوری کو متاثر کرتی ہیں۔ اس لیے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جب آپ حاملہ ہونا چاہتی ہوں،تو اس دوران مرد، عورت دونوں کوئی دوا استعمال نہ کریں۔ اگر کسی بیماری کی وجہ سے دوا استعمال کرنا ضروری ہو تو کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اسے بتائیں کہ آپ حاملہ ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اگر آپ میں یا آپ کے شریک حیات میں بانجھ پن ہے تو:
جنسی عمل اس وقت کرنے کی کوشش کریں جب آپ کا بار آوری کا موزوں وقت ہو۔ مرد ہر روز لاکھوں منی کے کیڑے (تخم) بناتا ہے لیکن ایک صحت مند عورت مہینے میں صرف ایک انڈا جاری کرتی ہے، انڈا بننے اور جاری ہونے کا یہ وقت عورت کا بار آوری کا وقت کہلاتا ہے۔ اور مہینے کے دوران ہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ حاملہ ہوسکتی ہے۔ اکثر عورتوں میں بار آوری کا یہ عرصہ، ماہواری کے پہلے دن سے 10 دن بعد شروع ہوتا ہے اور تقریبا 6 دن جاری رہتا ہے۔ جب آپ کی بار آوری کے دن ہوتے ہیں تو آپ کا جسم کئی طریقوں سے اس کا اظہار کرتا ہے۔ اسے جانچنے کا سب سے آسان طریقہ فری سے خارج ہونے والی رطوبت میں تبدیلی ہے۔
علاج:
مردہ عورت دونوں کو طبی معائنہ کرانا چاہیے کہ ان میں سے کسی کو جنسی بیماری تو نہیں ہے؟ اگر کسی ایک کو بھی کوئی جنسی بیماری ہوں تو دونوں کا علاج ضروری ہے۔ یہ بات یقینی بنائیں کہ جو بھی دوا دی جائے وہ پوری طرح استعمال ہو
صحت کی اچھی عادتوں کو اپنائیں:
• اچھا اور صحت بخش کھانا کھائیں۔ اگر آپ بہت زیادہ دبلی یا بہت موٹی ہیں اور آپ کی ماہواری با قاعدہ نہیں ہے، تو اپنا وزن بڑھائیں یاکم کریں۔
سگریٹ ،تمباکو ،منشیات یا شراب سے پرہیز کریں۔
• کافی، بلیک ٹی اور کولا مشروبات میں کیفین ہوتی ہے، ان سے بچیں ۔
• آرام زیادہ کریں اور ورزش کریں۔
اگر ایک سال بعد حاملہ نہ ہوں تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔ کچھ سادہ اور کم خرچ ٹیسٹ ایسے ہیں جن سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ بچہ نہ ہونے کی کیا وجہ ہے۔ مثلاً ایک ڈاکٹر خوردبین سے مرد کی منی کا جائزہ لے کر یہ بتا سکتی ہے کہ اس کے تخم تندرست ہیں یا نہیں۔ وہ آپ کے پیٹرو، فرج، رحم اوربیض نالیوں کا معائنہ بھی کرسکتی ہے کہ ان میں کوئی انفیکشن یا رسولی وغیرہ تو نہیں ہے۔ وہ آپ کو یہ بھی سکھا سکتی ہے کہ ہر روز اپنے جسم کا درجہ حرارت لے کر یہ کس طرح معلوم کیا جائے کہ بیضہ دانیاں انڈا بنا رہی ہیں یا نہیں۔
یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ ان ٹیسٹوں سے صرف مسئلے کا علم ہوگا، ٹیسٹ مسئلہ حل نہیں کریں گے۔ بعض اوقات بہت مہنگی دوا یا آپریشن سے بانجھ پن دور نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:  بریسٹ کینسر:آپ نے خود اپنی حفاظت کرنی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں