سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا ہر دور حکومت جدوجہد میں گزرا

EjazNews

1981وزیر خزانہ و سپورٹس پنجاب، 1985 ءمارشل لاءکے خاتمے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ ، اکتوبر 1990ءپہلی مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم نامزد ہوئے،6نومبر 1990ءکو پہلی مرتبہ وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ سابق صدر غلام اسحق خان نے بدعنوانی اور نااہلی پر مبنی ایک چارج شیٹ جاری کر کے برطرف کر دیا اور اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔26نومبر 1993ءمیں سپریم کورٹ نے نواز شریف کی بحالی کا حکم جاری کر دیا ، ان کی کابینہ کی برطرفی غیر قانونی قرار پائی اور ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے۔ تاہم یہ حکومت زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور جنرل کاکڑ فارمولے کے تحت میاں نواز شریف اور غلام اسحق خان دونوں مستعفی ہو گئے۔
3فروری 1997ءکو دوسری مرتبہ وزیراعظم نامزد ہوئے۔17فروری 1997ءکو وزارت عظمی کا حلف اٹھالیا۔ 12اکتوبر 1999ءجنرل پرویز مشرف نے طیارہ سازش کیس کے الزام میں تختہ الٹ دیا۔ جنوری 2000ءکو ہائی جیکنگ ، قتل اوراقدام قتل کے الزام میں سماعت شروع ہو گئی۔ 6اپریل 2000ءکو عدالت نے ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو درست قرار دے دیا انہوں نے مشرف کا طیارہ اترنے کی روکنے کی کوشش کی جبکہ طیارہ کا ایندھن ختم ہونے والا تھا۔ وہ قتل کے الزام میں عمر بھر کے لیے جیل کی سزا ہوئی لیکن کچھ دوست ممالک کے درمیان میں آنے کے بعد انہیں بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔22جولائی 2000ءکو عدالت نے انہیں ہائی جیکنگ،اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزام میں 14سال کی سزا سنائی۔ان پراثاثے ڈکلیئر نہ کرنے اور ٹیکس چوری کے الزام بھی تھے۔ دسمبر 2000ءمیں انہیں عالمی طاقتوں کے دباﺅ پر بیرون ملک بھجوا دیا گیا۔وہ سعودی عرب میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرتے رہے۔ 29اکتوبر 2000ءکو میاں محمد شریف، نواز شریف کے والد کادوران جلاوطنی سعودی عرب میں انتقال ہوگیا۔ وہ اس وقت پاکستان میں ہی تھے نواز شریف نے پاکستان آنے کی کوشش کی تو انہیں صرف 4گھنٹے کے لیے جنازے میں شرکت کی اجازت مانگی گئی جو نہیں دی گئی۔ 7سال بعد سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف پر جلاوطنی کی پابندی ختم کر دی ، سپریم کورٹ نے اس معاہدے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
18فروری 2008ءمیں پاکستان میں پارلیمانی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب رہی ،مسلم لیگ ن کو 67نشستیں ملیں یہ دوسرے نمبر پر تھی یہ الگ بات ہے سیاست میں کوئی سیکنڈ پوزیشن نہیں ہوتی 20فروری 2008ءپاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مشترکہ حکومت بنانے کا اعلان کیا۔25دسمبر 2008ءمیاں نواز شریف نے معاہدہ توڑنے کا اعلان کر دیا ان پر دونوں جماعتو ں میں عدلیہ کی بحالی پر کچھ تنازعات پیدا ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی حدت میں اضافہ ایک حقیقت، انسان ہی ذمہ دار
مریم نواز اور میاں محمد نواز شریف

26 مئی 2009ءسپریم کورٹ نے نواز شریف کو انتخابات لڑنے اور پبلک آفس ہولڈ کرنے کا اہل قرار دے دیا۔ قبل ازیں فروری 2009ءمیں سپریم کورٹ نے انہیں فوجداری مقدمہ کے تحت نااہل قرار دے چکی تھی ان پر آئینی پابندی بھی تھی۔ آئین تیسری مرتبہ صدارت کی اجازت نہیں دیتاتھا۔ 17جولائی 2009ءکو سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو منسوخ کر دیااور نواز شریف پر ہائی جیکنگ اور اس سے متعلقہ تمام مقدمات سے بری قرار دے دیا۔19اپریل 2010ءاس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے 18ویں ترمیم پر دستخط کر دئیے، پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ مدت کے بعد انتخابات ہوئے ان انتخابات میں میاں نواز شریف کی جماعت نے ملک بھر میں واضح اکثریت حاصل کرلی ۔
جب میاں محمد نواز شریف نے اقتدارسنبھالا تو ملک میں دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ عام تھی ۔2013ءکے اخبارات اور ٹی وی کی فوٹیج نکال کر دیکھ لیں آپ دنگ رہ جائیں گے کہ لوڈشیڈنگ کی صورتحال کیا تھی۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے ملک کے حالات کو بہت بہتر کیا ۔ملک میں بجلی کے نئے کارخانے لگائے ۔ لیکن پانامہ اور اقامہ کیس کو پی ٹی آئی نے اس طرح استعمال کیا کہ نواز شریف اقتدار کے ایوانوں میں نہیں رہ سکے لیکن ان کی جماعت نے پانچ سال تک اقتدار میں رہی۔ ان کا بائی پاس ہوا جس کو مخالف پارٹیوں نے مزاق بنایا ۔ ان کی اہلیہ کی وفات سے پہلے بھی نا ہنجان لوگوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد ان کی بیماری کو لے کر بھی ایسی ایسی گفتگو کی گئی کہ اللہ کی پناہ۔
نوازشریف کا سیاسی اقتدار ختم
وزیر خزانہ: 25اپریل1981ءتا 28فروری 1985ء
وزیراعلیٰ پنجاب: 9اپریل 1985تا 30مئی 1988ء
نگران وزیراعلیٰ پنجاب: 31مئی1988تا دسمبر 1988ء
وزیراعلیٰ پنجاب : 2دسمبر 1988ءتا 6اگست 1990ء
وزیر اعظم پاکستان: 9نومبر1990تا 6اپریل1993ء
وزیراعظم پاکستان: 26مئی 1993ء تا 18 جولائی 1993ء
لیڈر آف دی اپوزیشن: 19 اکتوبر1993تا 12اکتوبر1999ء
وزیراعظم پاکستان: 5جولائی 2013ءتا 28جولائی2017ء

یہ بھی پڑھیں:  محترمہ بے نظیر بھٹوکے بعد آنے والوں کیلئے ان کی جمہوری روایات مشعل راہ ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں