hazrat ayob

حضرت ایوب صابر ؑ کی صابرہ بیوی کا ذکر خیر

EjazNews

حضت ایوب علیہ السلام اللہ کے نبی تھے آپ کوبڑی بیماری لگ گئی تھی۔ سب ملنے جلنے والوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا صرف آپ کی بیوی حضرت رحمت رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے ساتھ مصیبت کے وقت بھی رہیں ان کا اجمالی بیان قرآن مجید میں آیا ہے۔
ترجمہ:ایوب کی اس حالت کو یاد کیجئے جب کہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی اور تو رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انھیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کے اہل و عیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اپنی خاص مہربانی سے اور دیا تا کہ سچے بندوں کے لیے نصیحت کا باعث ہے۔
اس آیت کریمہ میں حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہے جو اولاد یا مالی اور جسمانی تھیں۔ ان کے بہت سے قسم کے جانور تھے۔ کھیتیاں، باغات وغیرہ تھے۔ اولادیں ، بیویاں، غلام ، لونڈی ، جائیداد اور مال و متاع سبھی کچھ خدا کادیا ہوا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ جسم میں بھی جذام پھوٹ پڑا اور زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے گھن کرنے لگے۔ شہر کے ایک کونے میں آپ کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ یہی ایک تھیں جوان کی خدمت کرتی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے کہ سب سے بڑا اورسخت امتحان نبیوں کو ہوتا ہے پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے لوگوں کا پھر ان سے کم درجہ والوں کا اور روایت ہے کہ ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں مضبوط ہے تو امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے حضرت ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ ”صبر ایوب“ زبان زد عوام ہے۔ یزید بن میسرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ کی آزمائش شروع ہوئی تو اہل و عیال مر گئے مال فنا ہو گیا کوئی چیز ہاتھ تلے باقی نہ رہی۔ آپ خدا کے ذکر میں اور بڑھ گئے اور کہنے لگے اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے بڑے احسان کئے مال دیا اولادیں دیں، اس وقت میرا دل بہت مشغول تھا۔ اب تو نے سب کچھ لے کر میرا دل ان فکروں سے پاک کر دیا۔ اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہیں رہا۔ اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ میرا بہت ہی بڑا حاسد بن جاتا۔ ابلیس لعین اس قوت سے اور اس وقت کی اس حمدو ثنا سے جل بھن کر رہ گیا۔ آپ کی دعاﺅں میں یہ بھی دعا تھی کہ خدایا جب تو نے مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے ہے کہ اس وقت میں نے کبھی غرور کیا نہ کسی پر ظلم و ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں تیری عبادتوں میں رات گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لئے نہیں پیدا کیا گیا کہ میں تیری رضا مندی کی طلب میں رہوں لیکن میں نے اپنے راحت و آرام کو ترک کر دیا تھا۔ (ابن ابی حاتم )
مدتوں تک ان بلاﺅں میں مبتلا رہے ۔ آپ کو لوگوں نے بنی اسرائیل کے کوڑا پھینکنے کی جگہ ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے پھر آپ پر اللہ تعالیٰ نے رحم و کرم کیا تمام بلاﺅں سے نجات بخشی ، اجر دیا اور تعریفیں کیں۔ وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ پورے تین سال آپ اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا، صرف ہڈیاں اور چمڑا رہ گیا تھا۔ آپ راکھ میں پڑے رہتے تھے۔ صرف آپ کی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ کے پاس تھیں جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ اے نبی اللہ آپ خدا سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم سے ٹال دے۔ آپ فرمانے لگے بیوی صاحبہ سنو۔ ستر سال تک مجھے اللہ نے صحت و عافیت میں رکھا۔ اگر ستر برس تک اس حال میں رہوں اور صبر کروں تو بھی بہت کم ہے اس پر بیوی صاحب کانپ اٹھیں ۔ اب وہ نیک بخت بیوی روزانہ شہر میں جاتیں، تیرا میرا کام کاج کرتیں اور جو ملتا لے آتیں اور آپ کو خود ہی کھلاتیں پلاتیں۔ آپ کے دو دوست اور دلی خیر خواہ دوست تھے۔ انھیں فلسطین میں جا کر شیطان نے خبر دی کہ تمہارا دوست بہت سخت تکلیف میں ہے تم جاﺅ اور ان کی خیر گیری کرو اور اپنے یہاں سے کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاﺅ وہ پلا دینا، اس سے انھیں شفا ہو جائے گی۔ چنانچہ دونوں آئے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے۔ بلبلا کر رونے لگے، آپ نے پوچھا کہ تم کون ہو، انہوں نے یاد دلایا تو آپ خوش ہوئے انھیں مرحبا کہا تو وہ کہنے لگے کہ جناب شاید آپ کچھ چھپائے ہوں گے۔ اور بظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے آ پ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا۔ میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری۔ انہوں نے کہا اچھا ہم آپ کے لیے شراب لائے ہیں اسے پی لیجئے شفا ہو جائے گی۔ یہ سنتے ہی آپ سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا، تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے وہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں۔ ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچہ کے حصہ کی روٹیاں انہیں دے دیں یہ لے کر حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں آپ نے کہا یہ آج کہاں سے لائی ہیں ؟ انہوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی واپس جاﺅ۔ ممکن ہے کہ بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اوررو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔ آپ روٹی لے کر واپس چلیں۔ ان کی ڈیوڑھی میں ایک بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا۔ دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں اوپر گئیں دیکھا تو واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لیے مچل رہا ہے اور گھر بھر کاناک میں دم کر رکھا ہے۔ یہ دیکھ کر زبان سے بے ساختہ نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقع پر پہنچی۔ ٹکیا دیدی اور واپس لوٹیں۔راستے میں شیطان بصورت طبیب ملا کہنے لگا تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاﺅ فلاں قبیلے کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفا ہو جائےگی پھر توبہ کر لیں۔ جب آپ حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا شیطان خبیث کا تجھ پر جادو چل گیا ہے۔ میں اگر تندرست ہوا تو تجھے سوکوڑے ماروں گا۔ ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں۔ گھر گھر پھر آئیں لیکن کہیں کام نہ لگا۔ مایوس ہو گئیں شام کو پلٹنے کے وقت حضرت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کر دی۔ اس نے آپ کو بہت کھانے پینے کا سامان دیا جسے لے کر آپ آئیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے پوچھا یہ آج اتنا سامان اور اتنا اچھا کھانا کہاں سے مل گیا ہے فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کر دیا تھا آپ نے کھا لیا۔ دوسرے دن بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کو کاٹ کر فروخت کر دیا اور کھانا لے آئیں آج یہی کھانا دیکھ کر آپ نے فرمایا واللہ میں ہرگز نہ کھاﺅں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتلا دے کہ یہ کیسے لائی۔ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سر کے سب بال کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی:
ترجمہ: ”اے میرے رب مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔ “
حضرت نوف ؓ فرماتے ہیں کہ جو شیطان حضرت ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا ہوا تھا اس کا نام مبسوط تھا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموماً آپ سے عرض کرتی تھیں کہ خدا سے دعا کرو۔ لیکن آپ نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنی اسرائیل کے کچھ لوگ آپ کےپاس سے نکلے اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضروری کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بے ساختہ آپ کی زبان سے یہ دعا نکلی۔
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لیے آئے لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے حضرت ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا کہ جو آج تک آپ کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے خدایا کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھر کھالیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔ اس وقت آسمان سے آپ کی تصدیق کی گئی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر فرمایا ، پروردگار ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دئیے ہوں۔ اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے اتار ۔ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔ پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے۔ اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاﺅں گا جب تک کہ مجھے ان تمام مصیبتوں سے نجات نہ دے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں ۔ چنانچہ دعا قبول ہوئی اور سجدہ سے سر اٹھانے سے پہلے ہی وہ تمام تکلیفیں اور بیماریاں آپ سے دور ہو گئیں جو آپ پر نازل ہوئی تھیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاﺅں میں گھرے رہے پھر ان کے دوستوں کے آنے کا اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑا کرتے دیکھتا اوران میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا کہ ایسا نہ ہواس نے خدا کانام کبھی بے حق لیا ہو۔ آپ اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہو گئے تھے کہ آپ کی بیوی آپ کا ہاتھ پکڑ کرپاخانہ پیشاب کے لیے لے جاتیں ایک مرتبہ آپ کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انھیں آنے میں دیر لگی۔ آپ کو سخت تکلیف ہوئی اس وقت آسمان سے ندا آئی کہ اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو پھر وہاں سے جو پانی نکلے اس کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جنتی حلہ نازل فرمایا جس کو آپ پہن کر یکسو ہو کر بیٹھ گئے جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ کو نہ پہچان سکیں تو آپ سے پوچھنے لگیں کہ اے خدا کے بندے یہاں ایک بیمار آدمی تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کہاں گئے۔ کہیں انھیں بھیڑ ئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں۔ تب آپ نے فرمایا: نہیں نہیں میں ہی وہ بیمارایوب ہوں بیوی صاحبہ کہنے لگیں اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے آپ نےفرمایا نہیں نہیں خدا نے شفا دے دی ہے اور یہ رنگ و روپ بھی اسی نے مجھ کو بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کا مال بھی واپس دے دیا تھا۔ آپ کی وہی اولاد آپ کو واپس ملیں اور ان کےساتھ ویسے ہی اور بھی وحی میں آپ کو یہ بھی خوش خبری سنا دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ قربانی کرو اور استغفار کرو۔ تیرے گھر والوں نے تیرے بارے میں نافرمانی کی تھی اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو صحت و عافیت فرمائی آسمان سے ان کے اوپر سونے کی ٹڈیاں برسائیں جنہیں لے کر آپ نے اپنے کپڑوں میں جمع کرنا شروع کر دیا تو آواز آئی کہ اے ایوب تو ابھی تک آسودہ نہیں ہوا آپ نے جواب دیا کہ اے اللہ تیری رحمت سے کون آسودہ ہوسکتا ہے۔ (بخاری)
مروی ہے کہ آپ سے فرمایا گیا کہ تمہارا اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو سب کو یہاں دنیا میں لادوں اگر تم کہو تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں اس کا عوض دوں آپ نے دوسری بات پسند فرمائی ۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کابدلہ دونوں آپ کو ملا۔ یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا اور ہمارے سچے عابدوں کے لیے نصیحت اور عبرت تھی۔ آپ اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ تمام اس لیے ہوئیں کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لیے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں بے صبری اور ناشکری نہ کرنے لگیں۔ اور لوگ انھیں خدا کے بڑے بندے نہ سمجھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے۔ اللہ کے مقدورات پر اس امتحان میں انسان کو صبر و سہار کرنا چاہیے۔ (ابن کثیر)
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص میں فرمایا:
ترجمہ: ہمارے بندے ایوب علیہ السلام کو یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا (ہم نے کہا تھا) تم اپنا پاﺅں مارو یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے اور ہم نے اس کا پورا کنبہ عطا کیا اور بھی اسی کے ساتھ اپنی خاص رحمت سے اور عقلمندوں کے لیے نصیحت ہے اور تم اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک جھاڑ و لیکر مارو اور قسم کے خلاف مت کرو۔ ہم نے ایوب علیہ السلام کو بڑا صابر اوربڑا نیک بندہ پایا اور وہ بڑی رغبت کرنے والے تھے۔“
حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا بیان قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے۔ لیکن اس مصیبت میں آپ کی بیوی نے بھی بڑے صبر اور بڑی ہمت سے کام لیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے زخموں کو دھوتیں ۔ خون و پیپ کو صاف کرتیں اور آپ کو کھلانے پلانے کے لیے محنت مزدور ی کر کے لاتیں اور صدہا مصیبتوں کو برداشت کرتیں اور حضرت ایوب علیہ السلام کی خدمت کرتیں۔
سبحان اللہ ! کیا ہی صابرہ بی بی تھیں تم ان سے عبرت حاصل کرو اورہر دکھ اور مصیبت میں اپنے خاوند کی مدد اور خدمت کرو گی تو صابرہ ہو کر جنت میں جاﺅ گی۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت خنساءرضی اللہ عنہا کی بہادری

اپنا تبصرہ بھیجیں