molana fazlo rehman sekhar

معیشت، جمہوریت ،آئین ،ختم نبوت کا عقیدہ بچانے کیلئے نکلے ہیں:مولانا فضل الرحمن

EjazNews

مولانا فضل الرحمن نے سکھر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئین پاکستان کو بچانے کیلئے نکلے ہیں، ہم جمہوریت، عقیدہ ختم نبوت اور معیشت کو بچانے کیلئے نکلے۔ ان کا کہنا تھا ہمیں تو پابندیوں کا سامنا تھا ہی اس کے ساتھ ساتھ سینئر صحافیوں اور اینکرز کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب کوئی سینئر صحافی کسی دوسری جگہ پر جا کر نہیں بیٹھ سکے گا۔انہوں نے کہا کہ اب یہ مسئلہ صحافیوں کا بھی ہو گیا ہے اور میڈیامالکان کا بھی۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر مگرمچھ کے آنسو نہ بہائو صرف ہم نہیں دنیا کی حکومتیں بھی جانتی ہیں کہ تم نے کشمیر کا سودا کیاہے۔ان کا کہناتھا کہ کشمیریوں کو دھوکہ مت دو ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کا ہر شخص جبر محسوس کر رہا اور معیشت تباہ ہو چکی ہے۔معیشت کی کشتی ڈوب چکی ہے اور یہ ملک کے لیے رسک بن چکے ہیں۔ہم نے پچھلے 9مہینوں سے مارچ کیے اور عوام کی طاقت سے آج ہم اس قابل ہیں کہ اسلام آباد کی طرف ملین مارچ کریں اور ان سے ملک و قوم کو نجات دلائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کے آئوٹ ہونے کے بعد سری لنکا فل پرفارمنس میں ہے
لانگ مارچ کے شرکاء(تصویر ٹویٹر)

ان کا کہنا تھا کہ جو کہتے تھے یہ مٹھی بھر لوگ ہیں اب بتائو یہ مٹھی بھر لوگ ہیں یا پاکستان بھر لوگ ہیں۔اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہے ہیں دنیا کو بتا رہے ہیں کہ یہ حکومت پاکستان کے لوگوں کی نمائندہ حکومت نہیں۔ جب بھی جابر اس ملک پر مسلط ہوئے ہم نے ان کا مقابلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے بھی کسی ملک میں جبری مداخلت کی تو ہم نے وہا ں بھی کلمہ حق بلند کیا ہے ۔ہم چھوٹے لوگ ہوں یا بڑےلوگ ہوں طاقت ور یا کمزور اللہ نے ہمیں ہمیشہ کلمہ حق کی توفیق دی ہے۔ان کا کہناتھا کہ انسانوں کا طوفان اسلام آباد میں داخل ہو رہا ہے اور ایوانوں میں داخل ہوگا اور ایوانوں کے کچروں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا۔
آزادی مارچ کا آغاز کراچی میں سہراب گوٹھ سے ہوا تھا جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے علاوہ اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  بجٹ کے اہم خدوخال پر ایک نظر

اپنا تبصرہ بھیجیں