abubakar albaqdadi

داعش کے لیڈر البغدادی کی شناخت کیسے ہوئی؟

EjazNews

عراق میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے داعش کے چیف ابوبکر البغدادی کو اتنی جلدی کیسے پہچان لیا گیا کہ یہ واقعی اس کی لاش ہے۔ اس سلسلے میں امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی رپوٹو ں سے پتہ چلتا ہے کہ لاشوں کو شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی اب DNAسے کئی قدم آگے بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ابھی امریکی کمانڈوز اسے ہلاک کرنے کے بعد ہیلی کاپٹر پر سوار ہی ہوئے تھے کہ ہیلی کاپٹر کی دھول بیٹھنے سے پہلے ہی البغدادی کو شناخت کیا جاچکا تھا۔امریکی اخبارات کے مطابق اب جو نیا طریقہ دریافت کیا گیا ہے اسے یو ایس سپیشل آپریشن کمانڈSDCOMکا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ اس وقت وضع کیا گیا جب 2011ء میں اسامہ بن لادن کی شناخت کے سلسلے میں بعض مسائل پیدا ہوئے تھے۔
یہ طریقہ شناخت کے DNAکا بھی تجزیہ کرتا ہے ۔ لیکن اب کمانڈوز کو ایسے آلات سے لیس کر دیا گیا ہے کہ اب ا نہیں لیبارٹری نہیں بھیجنا پڑتا ،بلکہ اسی جگہ یہ سب کام ہو جاتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی کمانڈوز نے جب کمپائونڈ پر حملہ کیا تو داعش کے کئی محافظ مارے گئے جس کے بعد ا لبغدادی ایک سرنگ کی طرف دوڑا جو آگے سے بند تھی۔ یہاں اس نے خود کش جیکٹ سے خود کو اڑا دیا جس سے اس کے ساتھ تین بچے بھی شامل تھے ۔ البغدادی کی لاش کا نچلا حصہ اگرچہ مسخ ہو گیا تھا لیکن چہرہ سلامت تھا۔ اس لئے امریکی کمانڈوز نے ایسی ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جو چہرے کو شناخت کر سکتی ہے۔ اسے ٹیکنالوجی میں بائیو میٹرک فیشٹل ریکسگنیشن سکینر کا نام دیا گیا ہے۔ امریکی خبر رساں ایجنسی فوکس نیوز کے مطابق افغانستان میں جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکہ نے مشتبہ افراد اور دہشت گردوں کے چہروں اور فنگر پرنٹس کا ایک بہت بڑا ریکارڈ مرتب کر لیا تھا اور جدید ترین سکینرز بھی تیار کئے تھے۔ اب ایک نیا طریقہ Voice Printکے نام سے متعارف کرایا گیا ہے جس میں دہشت گردو ں کی آواز کو سکین کر کے ان کی شناخت اور بعد میں تصدیق کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ ماضی قریب میں DNAکے ذریعے شناخت کرنے میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین 44بینکوں پر منی لانڈرنگ کے الزاما ت،ایکشن کہیں نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں