hazrat ismail

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی شکر گزار بیوی

EjazNews

ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی ہاجرہ ؑ کو اور اپنے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک بنجر علاقہ میں آباد کر کے ملک شام واپس چلے گئے تھے۔ ان کے چلے جانے کے بعد جرہم قبیلہ والے مکہ میں آئے اورحضر ت ہاجرہ ؑ کے پاس آباد ہو گئے اور اسمٰعیل علیہ السلام جب جوان ہوگئے تو جرہم قبیلہ کی ایک لڑکی سے نکاح کر لیا۔ لیکن دنیاوی حیثیت سے بڑی تنگدستی تھی۔ شکار وغیرہ سے گزر اوقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام شکار کے لیے باہر تشریف لے گئے تھے اتفاق سے ان کی عدم موجودگی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بال بچوں کی دیکھ بھال کے لیے تشریف لائے اور اپنے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے گھر پر آئے۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی یعنی اپنی بہو سے دریافت فرمایا کہ اسمٰعیل کہاں ہیں؟ بیوی نے جواب دیا روزی کی تلاش میں گئے ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے پوچھا تمہارا گزر کیسے ہوتا ہے معاش کا کیا حال ہے اس نے کہا بہت تنگی سے گزرتی ہے غرض کہ ان سے خوب شکایت کی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا جب تمہارا خاوند آجائے تومیری طرف سے ان کو سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنےدروازے کی چوکھٹ کو بدل ڈالیں۔
حضرت ابراہیم ؑ یہ کہہ کر وہاں سے روانہ ہو گئے جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام گھر آئے تو اپنے باپ کی خوشبو پائی۔ بی بی سے پوچھا کوئی آیا تھا اس نےکہا ایک بوڑھا ایسی ایسی صورت کا آیا تھا اس نے تم کو پوچھا میں نے کہہ دیا کہ وہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں پھر مجھ سے پوچھا تمہارا گزر کس طرح ہوتی ہے میں نے کہا تنگی اورتکلیف سے۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے فرمایا اور بھی کچھ انہوں نے کہا ہے، اس نے کہا ہاں آپ کوسلام کہا ہے کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالو۔ حضرت اسمٰعیل ؑ نے کہا ارے وہ میرے والد تھے انہوں نے یہ حکم دیا ہے کہ میں تجھے چھوڑ دوں۔ اب تو اپنے گھر والوں میں چلی جا۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے اس کو طلاق دیدی اور جرہم کی ایک دوسری عورت سے نکاح کر لیا۔ پھر اللہ کو جتنے دن منظور تھے ابراہیم ؑ اپنے ملک میں ٹھہرے رہے اس کے بعد پھرآئے تو پھر اسمٰعیل علیہ السلام گھر میں نہ ملے وہ ان کی دوسری بیوی کے پاس گئے۔ پوچھا اسمٰعیل کہاں ہے۔ اس نے کہا روزی کمانے کی فکر میں گئے ہوئے ہیں۔ ابراہیم ؑ نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے کیونکر گزرتی ہے اچھی تو رہتی ہو۔ اس نے کہا اللہ کا شکر ہے ہم بہت خیرو خوبی کیساتھ خوش گزران سے رہتے ہیں۔ ابراہیم ؑ نے پوچھا تم کھاتے کیا ہو اس نے کہا گوشت، پوچھا پیتی کیا ہو، اس نے کہا پانی، پھر حضرت ابراہیم ؑ نے دُعا کی۔ اے اللہ ان کے گوشت پانی میں برکت دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دنوں مکہ میں اناج کا نام نہ تھا۔ نہیں تو ابراہیم علیہ السلام اس میں برکت کی دُعا کرتے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خاصیت اللہ نے مکہ ہی میں رکھی ہے۔ اگر دوسرے ملک والے صرف گوشت اور پانی پر گزران کریں تو بیمار ہو جائیں۔
بہر حال ابراہیم نے اس نیک بخت بہو سے کہا جب تمہارا خاوند آجائے تو میری طرف سے ان کوسلام کہنا اور کہنا یہ چوکھٹ بہت عمدہ ہے اس کو حفاظت سے رکھو۔ ابراہیم ؑ یہ کہہ کر روانہ ہو گئے ۔ جب اسمٰعیل ؑ یہ کہہ کر روانہ ہو گئے ۔ اسمٰعیل ؑ گھر میں آئے تو باپ کی بھنک پا کر اپنی بیوی سے دریافت کیا۔ بیوی نے کہا وہ آپ کو پوچھتے تھے۔ میں نے جواب دیا کہ وہ باہر گئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا تمہاری گزر ان کس طرح ہوتی ہیں میں نے کہا بہت اچھی طرح۔ اسمٰعیل ؑ نے پوچھا اور بھی کچھ کہا ہاں آپ کوسلام کہا ہے۔ اور یہ کہا ہے کہ تمہارے دروازے کی چوکھٹ عمدہ ہے اس کو حفاظت سے رکھنا۔ تب اسمٰعیل ؑ نے کہا کہ صاحب میرے والد تھے۔ اور انہوں نے یہ حکم دیا ہے کہ میں تجھے اپنی زوجیت میں رکھوں۔ (بخاری ، مسلم)
حضرت ابن مسعود اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے ملنے کے لیے حجاز سے آئے۔ وہ گھر میں موجود نہ تھے ان کی بیوی نے آپ کوٹھہرانا چاہا مگر آپ نے ٹھہرنے سے انکار فرمایا۔ پھر انہوں نے عرض کیا کہ تھوڑی دیر ٹھہرجائیے تاکہ آ پکا سر دھو ڈالوں۔ آپ نے اس کو قبول فرمایا وہ ایک پتھر لائیں اور آپ نے سواری پر کھڑے کھڑے پتھر پر پاﺅں رکھ لیا۔ انہوں نے ایک دوسری طرف سے سر دھو کر پتھر کو دوسری جانب رکھنے کیلئے اٹھایا تو دیکھا تو پتھر پر آپ کے قدم کا پورا نشان موجود ہے۔ پھر دوسری جانب رکھا تو دوسرے قدم کا بھی نشان پڑ گیا اور خدائے تعالیٰ نے اس پتھر کو باعظمت نشانیوں اورشعائر اسلام سے بنا دیا۔ (تاریخ مکہ)
یہ صابرو شاکرہ بیوی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی خدمت میں رہیں اور حضرت ابراہیم ؑ بھی ان سے بہت خوش رہتے تھے۔ اور یہ ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دادی ہوئیں۔ سچ ہے۔ ”لئن شکر تم لا زید نکم “ ۔۔۔اگر تم شکر گزاری کرو گے تو ہم تم کو زیادہ دیں گے۔
اب تم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہو گا کہ پہلی بیوی کو ناشکری کی وجہ سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے اپنی زوجیت سے علیحدہ کر دیا اور وہ سب بھلائیوں سے محروم ہو گئی اور دوسری شکر گزاری کی وجہ سے بیوی رہیں اور نبی آخر الزماں کی دادی بنیں ۔ لہٰذا تم بھی صبر و شکر سے کام کرو اور نیک اور فرماں بردار بننے کی کوشش کرو۔

یہ بھی پڑھیں:  حکایات:حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ظالم بادشاہ

اپنا تبصرہ بھیجیں