Imran Khan

ریفرنڈم کروا دیں تو پتہ چل جائے گا کہ کشمیر کے لوگ کدھر کھڑے ہیں:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے 27اکتوبر 2019ء کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے حوالے سے ایک درخت بھی لگایا اور قوم سے خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا

کشمیریوں کو یہ حق دیا جائے گاکہ وہ پاکستان کے رہنا چاہتے ہیں یا انڈیا کے پاس جانے چاہتے ہیں یہ حق ان کو کبھی بھی نہیں ملا۔ حق تو کیا ملنا تھاکشمیر کے لوگوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، پھر دھاندلی شدہ الیکشن کے ذریعے ان کو کنٹرول کیا گیا۔اسی طرح کا ایک الیکشن 30سال پہلے ہوا ۔ اس الیکشن میں جب دھاندلی کی گئی تو لوگ سڑکوں پر آگئے۔ان کو وہاں قتل عام کیا گیا۔ اس آزادی کی تحریک میں تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔بجائے دنیا اس کا نوٹس لیتی ،ہندوستان کے لوگ اس کا نوٹس لیتے ان کی پولیٹیکل پارٹیزنوٹس لیتی ۔نریندر مودی نے جب دوسری مرتبہ الیکشن جیتا تو اس نے 5اگست کو ہم سب جانتے ہیں انہوں نے کشمیر کے اوپر کرفیو لگا دیا اور ساری ان کے بنیادی انسانی حقوق ختم کر دئیے اور آج تک ہمیں یہ ہی نہیں پتہ کشمیر میں حالات کیا ہیں۔ خبریں تھوڑی سی نکلتی ہیں لیکن کسی کو نہیں پتہ کشمیر میں حالات کیا ہیں کہ اصل میں کشمیر کے لوگوںکے اوپر کیا گزر رہی ہے۔
نریندر مودی نے جب یہ قدم اٹھایا تو انہوں نے کہا کہ میں کشمیر کے لوگوں کی خوشحالی کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہوں اب کشمیر کے لوگوں کو نریندر مودی نے جو کشمیر کی خوشحالی کیلئے منتر ا دیا ہوا تھا وہ ان کو کتنا پسند آیا ،ابھی جموں و کشمیر میں لوکل الیکشن ہوئے ہیں۔لوکل الیکشن میں ساری کشمیر کی پولیٹیکل پارٹی نے بائیکاٹ کیا۔ کنٹرول لوکل گورنمنٹ کا الیکشن ہوا اس میں بھی بی جے پی بری طرح پٹ گئی ہے۔ اگرنریندر مودی یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے یہ خوشحالی کاپیکج دیا ہے یا کشمیریوں کی خوشحالی کیلئے انہیں یہ جو جانوروں کی طرح اندر بند کر دیا ہے۔تو اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو یہ پسند ہے تو ریفرنڈم کروا دیں تو پتہ چل جائے گاکہ کشمیر کے لوگ کدھر کھڑے ہیں۔
آج کا میرا اصل مقصد کشمیر کے لوگوں کو پیغام دینا ہے، کہ سارا پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہمارے چاروں صوبے ،ہماری جتنی اقلیتیں ہندو، سکھ ،جتنے ہمارے بوڑھے، بزرگ ، بچے سب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ہمیشہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ میں نے بڑے بڑے مغربی لیڈر، صدر ٹرمپ سے لے کر ،برطانیہ ،فرانس ،جرمنی کے چانسلر جس جس کو میں ملا ہوں میں نے سب کو بتایا ہےکہ کشمیریوں کے اوپر کس طرح سے ظلم کیا جارہا ہے،سب کو پتہ چل گیا ہے ،یونائیٹڈ نیشن میں جو میں نے تقریر کی ہےاس سے سب کو پتہ چلاہے۔میں آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں پاکستان ہر فورم پر آپ کی سپورٹ کرے گا۔ میں یہ جو ایک خاص پیغام اپنی قوم کو دینا چاہتاہوں بہت ضروری ہے۔میں یہ بیان سنتا ہوں کہ آزاد کشمیر میں لوگ بات کرتے ہیں یا کئی اور بیان دے دیتے ہیں، جہاد کشمیر شروع کر دیں، پاکستانی فوج کشمیر میں چلا جائے ، ہمیں ہتھیار اٹھانے چاہیے۔ بڑی غور سے میری بات سنیں!جو یہ بات کر رہے ہیں وہ کشمیریوں سے بھی دشمنی کررہے ہیں پاکستان سے بھی دشمنی کررہے ہیں ۔کیوں کررہے ہیں ہندوستان بھی یہی چاہتا ہے۔ ہندوستان نے جو9لاکھ فوج کشمیر میں رکھی ہوئی ہے وہ دہشت گردی کیخلاف نہیں رکھی بلکہ وہ کشمیریوں پر دہشت گردی پھیلانے کیلئے رکھی ہے۔اس کا مقصد ہی ایک ہے کہ کشمیریوں کو اس طرح دبائو کہ وہ اپنی آزادی کا حق جو انہیں یونائیٹڈ نیشن نے دیا ہے وہ بھول جائیں۔ان کا مقصد ہی یہ ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ہندوستان خود بھی یہاں کچھ کروائے جیسے پلوامہ میں ہوا۔پلوامہ میں جو حملہ ہوا ، کشمیری نوجوان نے کیا تھا ،پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا کر پاکستان پر حملہ کر دیا۔ نریندر مودی کی حکومت چاہتی ہی یہی ہےکہ کسی طرح وہ پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرائیں اور یہ دنیا کو پتہ ہی نہ چلے کہ اصل میں وہ یہ کشمیرکے لوگوں کے حقوق کا جو قتل عام کر رہے ہیں دنیا کی نظرکشمیر سے اٹھے اور ساری نظر پاکستان پر پڑے۔اور وہ یہ کہیں کہ پاکستان کی دہشت گردی کی وجہ سے انہوں نے 9لاکھ فوج کشمیر میں رکھی ہوئی ہے۔اور انہوں نے اس کا بہانہ کر کے کشمیر کے لوگوں کو قتل عام کر نا ہے اور ظلم و ستم بڑھانا ہے۔ اس لیے میں یہ بار بار کہتا ہوں کہ یہ ایک پولیٹیکل تحریک ہے۔ہم نے کشمیر کی اخلاقی ، سفارتی، پولیٹیکل مدد کر نی ہے یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔ میں آج کشمیر کے لوگوں کو پھر سے یہ کہا چاہتا ہوں ،میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کا سفیر بنوں گا،میں آپ کا ترجمان بھی بنوں گا، میں آپ کا وکیل بنوں گا، میں آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا،اورآپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کا جو حق ہے آپ کو یونائیٹڈ نیشن نے جو حق دیا تھا ۔آپ کا حق تھا آپ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کریں آپ کیا کرنا چاہتے ہیں آپ کیا مستقبل چاہتے ہیں،جب تک آپ کو یہ حق نہیں ملتا میں آپ کیلئے جدوجہد کرتا رہوں گا دنیا بھر میں، دنیا میں جا کر بھی اور پاکستان میں بھی اور میں آپ کو پھر یقین دلانا چاہتا ہوں کہ سارا پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سکول کھل چکے ہیں ، ا یس او پیز پر عملدرآمد کے ساتھ

اپنا تبصرہ بھیجیں