kashmir-black day

ذراء سوچئے کشمیریوں پر یہ ظلم و ستم کیوں ڈھایا جارہا ہے

EjazNews

ذرا سوچئے آپ کے سامنے آپ کے ماں باپ دوائی کے بغیر ایڑھیا رگڑ رہے ہوں اور آپ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔؟
ذراء سوچئے اگر آپ کا بچہ دودھ کے لیے ترس رہا ہے اور مارکیٹ کی تمام دکانیں بند ہیں تو کیا آپ گھر سے نکل کر دودھ خرید پائیں گے۔؟
ذراء سوچئےآپ مزدور ہیں اور 85دنوں تک آپ نے کوئی مزدوری نہیں تو گھر کیسے چلے گا۔؟
ذرا سوچئے آپ ملازمت پیشہ شخص ہیں کیا آپ 85دنوں تک آپ کو سیلری نہ ملے تو آپ کیا کریں گے۔؟
ذرا سوچئے یہ کشمیری لوگ کیوں لڑ رہے ہیں۔ ان کے بچے شہید ہو رہے ہیں۔ کیوں۔؟
ذراسوچئے آپ کا گھر مقبوضہ کشمیر میں ہوتا آپ پر یہ بیت رہی ہوتی تو آپ کیا کرتے۔؟
ذرا سوچئے انسانیت کا پرچار کرنے والے وہ تمام ادارے کہاں ہیں جن کو ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرنی چاہئے۔؟
ذرا سوچئےآزاد کشمیر کے ان لوگوں پر کیا بیت رہی ہے جن کو دریا کے سا پار موت کا سناٹا دکھائی دے رہا ہے اور وہاں ان کے اپنے ہیں ،ان پر کیا بیت رہی ہے۔؟
ذرا سوچئے کشمیری اگر چاہتے تومضبوط معیشت والے ملک کے ساتھ مل جاتے پر وہ شہید ہو کر دفن بھی پاکستانی پرچم میں ہوتے ہیں؟
ذرا سوچئے کہ مقبوضہ کشمیر میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں کوئی شہید نہ ہو آخر اتنی شہادتیں کیوں؟
ذراسوچئے کہ آج مقبوضہ کشمیرکا ایک رپورٹر بھی انڈین میڈیا کو پاکستان کیخلاف بیان نہیں دیتا، ان کی پوری کوشش کے باوجود؟
ذرا سوچئے ہم نے اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کیلئے کیا کیا ہے ؟
ہم جہاں بھی ہیں ، جوبھی کام کرتے ہیں جس طرح کا کام بھی کرتے ہیں، ہم پر فرض بنتا ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کیلئے اپنی آواز کو بلند کریں اپنے اپنے انداز میں ۔ اپنے اپنے طریقے سے۔ اپنی اپنی سوچ کے مطابق ۔
مقبوضہ کشمیر کے دریا ،وہاں ہوائیں ، کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی طویل سرحد پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ہمارے اور کشمیریوں کے رشتے صدیوں پر محیط ہیں اور رہیں گے۔ 1947ء سے پہلے کشمیری ڈوگرہ راج کیخلاف لڑتے رہے ہیں اور جب آزادی ملنے کا وقت آیا تو ایک اور دشمن نے ان کی زمین پر قبضہ کر لیا اور آج تک قابض ہے ۔ وہ اپنے اس حق کی جنگ لڑ رہے ہیں جو پیدائشی طورپر ان کو ملنا چاہئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  معیشت، جمہوریت ،آئین ،ختم نبوت کا عقیدہ بچانے کیلئے نکلے ہیں:مولانا فضل الرحمن

اپنا تبصرہ بھیجیں