hazrat hajra

حضرت ہاجرہ علیہا السلام

EjazNews

جس ظالم بادشاہ کا ذکر ہم نے حضرت سارہؑ کی تحریر میں پڑھا تھا اس نے حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو باندی بناکر رکھ چھوڑا تھا۔ یہ بھی بہت پارسا تھیں ،جب یہ ظالم سارہ کو رخصت کرنے لگا تو اس کی لونڈی ہاجرہ کو بھی ان کی خدمت کے لئے دے دیا۔ جب سارہ ہاجرہ کو ساتھ لے کر حضرت ابراہیم ؑ کے پاس پہنچیں اور سارا واقعہ بیان کر نے کے بعد ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بخش دیا اور حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے نکاح کر لیا تو ان سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے جن کا بیان قرآن مجید میں ہے ،ابھی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام دودھ پیتے بچے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو حکم دیا کہ اسمٰعیل ؑ اور ان کی ماں ہاجرہ کو لے کر مکہ میں چھوڑ آئو جہاں اس وقت جنگل تھا اور کوئی آبادی نہ تھی اور اللہ کے علم ازلی میں یہ بات مقدر تھی کہ مکہ کی آبادی اسمٰعیل ؑ کی وجہ سے ہوگی۔ چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ ہاجرہ کو مع ان کے شیر خوار بچے اسمٰعیل ؑ کے مکہ میں لے آئے۔ حضرت ہاجرہ حضرت اسمٰعیل ؑ کو دودھ پلاتی تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دونوں ماں بیٹے کو ایک بڑے درخت کے نیچے بٹھا دیا جو اس مقام پر تھا جہاں آج آب زمزم ہے ،مسجد کے بلند حصے میں اور مکہ میں اس وقت آدمی کا نام و نشان بھی نہیں تھا اور اس وقت وہاں دانہ تھا نہ پانی۔ کچھ بھی نہیں ،حضرت ابراہیمؑ ان دونوں کو وہاں چھوڑ گئے اور جاتے وقت ایک کھجور کا تھیلہ اور ایک پانی کا مشک دے گئے تھے ۔ ان کے چلتے وقت حضرت ہاجرہؑ بھی ان کے پیچھے چلیں اورکہنے لگیں۔
ترجمہ:’’اے ابراہیم آپ ہمیں اکیلے چھو ڑکر کہاں جارہے ہو نہ یہاں آدمی ہے نہ یہاں کوئی چیز ہے ،ہاجرہ نے کئی دفعہ اس کو کہا لیکن کسی خاص مصلحت سے ادھر دیکھا تک بھی نہیں اور نہ کچھ جواب دیا۔ آخر ہاجرہ نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا ہی کرنے کام حکم دیا ہے ،حضرت ابراہیم ؑ نے جوا ب دیا ہاں تب ہاجرہ نے کہا کہ اب جائو ہمارا رب ہماری حفاظت فرمائے گا۔ ضائع نہیں کرے گا یہ کہہ کر واپس آگئیں۔‘‘
اور حضرت ابراہیم علیہ السلام چلے گئے۔ جب اس پہاڑی پر پہنچے جہاں دکھلائی نہیں پڑتے تھے تو ادھر دیکھا جہاں اب بیت اللہ ہے اور وہیں ہاجرہ اور اسمٰعیل کو چھوڑ کر آئے تھے ،دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر یہ دعا فرمائی جو قرآن مجید میں آتی ہے:
ترجمہ:’’ اے میرے پروردگار میں نے اپنی بعض اولاد کو ایک بے آب و دانہ مکان میں بسا دیا ہے جو تیرے عزت والے گھر کے پاس ہے۔ اے میرے رب تاکہ یہ نماز قائم کریں تو ان کے گزران کے لیے ایسا کر دے کہ کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اوران کو طرح طرح کے میوے کھلاتا رہ تاکہ وہ تیری شکر گزاری کریں۔‘‘(سورہ انعام)
ادھر حضرت ہاجرہ ؑ کا یہ حال گزرا کہ وہ حضرت اسمٰعیل کو دودھ اور مشک میں سے پانی پلاتی رہیں جب پانی ختم ہو گیا تو خود پیاسی ہوئیں اور بچہ کو بھی پیاس لگی۔ بچہ کو دیکھا تو وہ پیاس کے مارے تلے اوپر ہو رہا ہے اور تڑپ رہاہے جب بچہ کا یہ حال نہ دیکھ سکیں تو پانی کی تلاش میں ’’صفا‘‘ پہاڑ (جو بالکل قریب تھا) پر چڑھیں۔ شاید کوئی آدمی نظر پڑے اس سے پانی مانگیں لیکن کوئی نہیں دکھائی دیا۔ وہاں سے اتریں اور اپنا کرتہ سمیٹ کرنا لے کے نشیب میں اس طر ح دوڑیں جیسے کوئی مصیبت زدہ دوڑتا ہے ،نالے کے پار جا کر ’’مردہ ‘‘پہاڑ پر چڑھیں وہاں بھی کوئی آدمی د کھائی نہیں دیا۔ سات چکر طے کئے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں نے جب ہی سے صفا و مروہ کا پھیرا (حج میں)داخل کر لیا۔ جب ساتویں پھیرے میں مردہ پہاڑ پر چڑھیں تو انہوں نے ایک آواز سنی۔ اپنے آپ کہنے لگی چپ رہ۔ پھر کان لگایا تو وہی آواز سنی، اس وقت پکارا اٹھیں ،خدا کے بندے میں نے تیری آوازسنی تو کچھ میری مدد کر سکتا ہے تو کر۔ پھر دیکھا تو جہاں آب زمزم ہے وہا ںاللہ کے فرشتے جبرائیل ؑ ملے ،انہوں نے اپنی ایڑھی یا پیر مار کر زمین کھود ڈالی اور پانی نکل آیا۔ حضرت ہاجرہ ؑ حوض کی طرح اس کو بنانے لگیں۔ ہاتھ سے اس کے گرد مینڈ بنائی اور پانی چلو سے لے کر اپنی مشک میں بھرتی جاتی تھیں جوں جوں پانی لیتی جاتیں تھیں وہ چشمہ اور جوش مارتا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ اللہ اسمٰعیل ؑ کی والدہ پر رحم کرے۔ اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دتیں یا یوں فرمایا اگر چلو بھر بھر کر مشک میں پانی نہ لیتیں تو آب زمزم ایک بہتا چشمہ ہوتا۔ حضرت ہاجرہ ؑ نے پانی پیا اور اپنے بچے کو بھی پلایا ۔ فرشتے نے ان سے کہا تم جان کا ڈر نہ کرو یہاں اللہ کا گھر ہے، یہ بچہ اور اس کا باپ دونوں مل کر اس گھر کوبنائیں گے اور اللہ اپنے گھر والوں کو تباہ نہیں کر سکتا ،اس وقت کعبہ کا یہ حال تھا کہ ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا۔ دائیں اور بائیں طرف سے برسات کا پانی نکل جاتا تھا۔ حضرت ہاجرہ ؑ نے ایک مدت اسی طرح گزاری چند روز کے بعد قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ یا کچھ گھر والے جو کداء (مکہ کی جانب) سے آرہے تھے ادھر سے گزرے۔ وہ مکہ کے نشیب میں جب گزرے تو انہوں نے ایک پرندہ دیکھا جو وہاں گھوم رہاتھا وہ کہنے لگے یہ پرندہ جو گھوم رہا ہے ضرور پانی پر گھوم رہا ہے تو اس میدان سے واقف ہیں ہم نے یہاں کبھی پانی نہیں دیکھا۔ انہوں نے ایک یا دوآدمی خبر لینے کے لیے بھیجے۔ وہ آئے دیکھا تو پانی موجود ہے، پھر اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کر آئے۔ ان کو پانی کی خبر دی وہ بھی آئے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسمٰعیل ؑ کی والدہ وہیں بیٹھی تھیں۔ ان لوگو ں نے کہا تم ہم لوگوں کو یہاں رہنے (اور سکونت کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ انہوں نے کہا تم ٹھہر سکتے ہو۔ مگر پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا ،ان لوگوں نے اسے قبول کرلیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جرہم کے لوگوں نے وہاں رہنے کی ایسے وقت میں اجازت مانگی جب کہ خود اسمٰعیل ؑ کی والدہ یہ چاہتی تھیں کہ یہاں بستی اور آبادی ہوجائے اورآدمی کی صورت نظر آئے۔
بہر حال جرہم کے لوگ وہاں ٹھہر گئے اور اپنے با ل بچوں کو بلا بھیجا وہ بھی وہا ں آباد ہوگئی جب مکہ میں کئی گھر بن گئے اور اسمٰعیل ؑ جوان ہوئے ،انہوں نے عربی زبان جرہم کے لوگوں سے سیکھ لی اور جوان ہو کر ان کی نگاہ میں بہت اچھے نکلے، جرہم کے لوگ ان سے محبت کرنے لگے اوراپنے خاندان کی ایک عورت سے ان کی شادی کر دی۔ (بخاری)
اس واقعہ سے تم خود نتیجہ نکال سکتی ہو کہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے جنگل میں رہنا اختیار کیا اور اپنے خاوند حضرت ابراہیم ؑ کی فرمانبرداری کر کے جہاں بسا گئے تھے وہیں بسی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بڑ ی بڑی برکتیں ظاہر فرمائیں۔ جنگل میں منگل ہوا ۔ ان کی وجہ سے مکہ آباد ہوا اور صفا و مروہ کی دوڑ اور سعی ان کی یادگار اب تک قائم ہے۔ ہر حاجی اور حاجن ان کی یادگار مناتے ہیں اور قیامت تک یہ ان کی یادگار قائم رہے گی۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کو حکم ہوا کہ حضرت اسمٰعیل ؑ کی قربانی کرو تو قربانی کرنے کیلئے لے چلے۔ لے جانے کے بعد شیطان انسانی شکل میں ہو کر حضرت ہاجرہ یعنی اسمٰعیل علیہ السلام کی ماں کے پاس آیا۔ اور کہنے لگا بڑی بی تم کو خبر بھی ہے کہ ابراہیم ؑ کو کہاں لے گئے ،وہ ذبح کرنے لے گئے ہیں ۔ خدا کے راستے میں ان کی قربانی کریں گے ۔ حضرت ہاجرہ ؑ نے فرمایا بوڑھے تیری مت ماری گئی ہے، کہیں باپ بھی بیٹے کو ذبح کرتا ہے۔ شیطان نے کہا اللہ نے ابراہیم ؑ کو حکم دیا ہے کہ اسمٰعیل ؑ کو ہمارے راستے میں ذبح کرو ۔ اس پر حضرت ہاجرہ ؑ نے کہا تو پھر کوئی حرج نہیں اور ہمیں کوئی عذر نہیں۔ ہماری جان خدا کے لیے حاضر ہے۔ ان کی اس اطاعت اور صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل ؑ کو ذبح سے بچا لیا اور دنبہ کی قربانی کرائی اور یہ قربانی ان کی یادگار ہے جو ہر سال منائی جاتی ہے۔ لہٰذا تم بھی خدا کے حکموں پر چلو اورصبر سے کام لو۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں