Garlic

صحت کیلئے لہسن کے فوائد

EjazNews

مغربی دنیا تو ان کی اہمیت و افادیت کی طرف اب متوجہ ہوئی ہے جبکہ برصغیر کے مقامی طرز علاج میں زمانہ قدیم سے لہسن کو اہمیت دی جارہی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین بڑی تیزی کے ساتھ یہ حقیقت تسلیم کر رہے ہیں کہ لہسن، ہائی بلڈ پریشر ،دل کی شریانوں کے مرض ،خون کے لوتھڑے بننے کے عمل یہاں تک کہ کینسر کے مرض سے تحفظ دیتا ہے۔ واشنگٹن میں پوری دنیا سے 50 کے قریب سائنس دان اور فزیشن اس بات پر تبادلہ خیال کرنے اور اس موضوع کو زیر بحث لانے کے لیے اکٹھے ہوئے کہ بیماری کی روک تھام اور صحت کی افزائش میں لہسن کا ٹھیک ٹھیک کردار کیا ہے؟ اس اجتماع نے دنیا بھر کو ان کی اہمیت کا قائل کردیا۔

لہسن کے فوائد :
کیمیائی تجزیے کے مطابق ان میں 200 سے زیادہ کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ امید افزا صورت حال دیکھ کر امریکہ کے ممتاز طبی ادارے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ نے لہسن کے بھرپور تحقیق و مطالعہ کے لیے 20 ملین ڈالرز کے فنڈز مختص کیے۔ امریکہ ہی میں فرسٹ ورلڈ کانگریس آن گارلک کے منتظم ڈاکٹر رابرٹ لین نے میڈیکل برادری پر زور دیا کہ ان کی طبی افادیت کو ہائی خود بھی سمجھیں اور عوام کو بھی اس سے آگاہ کریں۔ ایشیا میں صورت حال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ جاپانی چینی اور برصغیر کے لوگ ان کی طبی افادیت سے صدیوں سے آگاہ ہیں اور اسے اپنی روز مرہ غذا میں شامل کرتے ہیں۔

جگر میں کولیسٹرول بننے کا عمل روک دینا :
ایک نارمل فرد میں 70سے 80 فیصد کولیسٹرول جگر میں بنتے ہیں اور بقیہ 20 سے 30 فیصد روز مرہ غذا کے ذرے بدن میں پہنچتے ہیں۔ ان میں سلفر کے مرکبات ،جگر میں کولیسٹرول کی تشکیل روک دیتے ہیں۔ چنانچہ خون میں کولیسٹرول کی مجموعی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ جب منفی کولیسٹرول لین LDL اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی مقدار کم ہوتی ہے تو مثبت کولیسٹرول یعنی HDL کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی کا خالص نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دل کی بیماری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سرکہ۔۔۔۔حیرت انگیز فوائد کا حامل

امریکہ کی یونیورسٹی آف و سکون سن میں کچھ جانوروں کو لہسن کی خوراک پر کچھ دن رکھنے کے بعد ان کے خون کا تجزیہ کیا گیا تو ان میں بھی LDL کولیسٹرول لیول کم ہوگیا۔
امریکہ کے فیڈرل ڈیپارٹمنٹ آف ایگر یکلچر اور امریکی ریاست پینسلوینیا کے تعاون سے ٹیگور میڈیکل کالج اودے پور میں ایک مطالعہ مرتب کیا گیا۔ اس مطالعہ کے دوران 432 دل کے مریضوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان تمام مریضوں کو ایک بار ہارٹ اٹیک ہوچکا تھا۔ایک گروپ کو روزانہ دودھ کے ساتھ لہسن کا جوس دیا گیا۔ دوسرے گروپ کو اس سے محروم رکھا گیا ۔نتائج نےواضح طور پر ان کے مفیداثرات ثابت کیے۔ جن افراد کو لہسن کا جوس دیا جاتا رہا تھا۔ ان کا بلڈ پریشر اور بلڈ کولیسٹرول واضح طور پر کم ہوگیا۔ ان افراد میں دوسرے گروپ کے افراد کے بر عکس دو سراہارٹ اٹیک بھی کم دیکھنے میں آیا اور شرح اموات بھی معمولی رہی۔لہسن والے گروپ میں 50 فیصد کم اموات رونما ہوئیں۔ جو مریض لہسن کھاتے رہے تھے ان کی عموی صحت اور جنسی کارکردگی بھی بہتر ہو گئی۔ مزید براں ا ن کے استعمال کے نتیجہ میں جوڑوں کے درد اور دمہ کے واقعات بھی کم ہوگئی۔ مجموعی طور پر اس مطالعے کے دوران باقاعدہ استعمال کے حق میں اور حوصلہ افزا رہے۔ ان کے باقاعدہ استعمال سے کولیسٹرول پر مثبت اثرات یقینی طور پر آپ کو ہارٹ اٹیک کے شدید ترین خطرے سے نکال لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  غذا سے علاج

خون میں لوتھڑے (CLOTS) بننے کا عمل رکنا :
ان کے کیمیائی اثرات خون میں لوتھڑے بننے کا رجحان ختم کردیتے ہیں۔ کیونکہ یہ فائبرینوجین پروٹین کی مقدار کم کر دیتا ہے اور خون کے لوتھڑے بنانے والے مادے کا پیدا ہو ناروک ?دیتا ہے۔ خون میں لوتھڑے بننے کی بے قاعدگی سے خون کی گہری نالیوں میں رکاوٹیں، پھیپھڑوں میں بندش ،سٹروک اور ہارٹ اٹیک جیسے خطرناک واقعات جنم لیتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں افراد انہی وجوہات کے نتیجہ میں موت کے منہ میں چلے جاتے نہیں۔ اب تو ماہرین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ بلڈ کلاٹ میں خون کے لوتھڑوں سے بچائو بہتر ذریعہ اسپرین کی بجائے لہسن ہے۔

نائٹروسامینکی بندش :
لہسن میں پائے جانے والے کچھ مرکبات نائٹروسامین کی تشکیل کا عمل بھی روک دیتے ہیں۔ اس کیمیائی مادے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ معدے میں کینسر کا سبب بنتا ہے۔ بھنے ہوئے گوشت اور جھلسے ہوئے کھانے کینسر کو بڑھاتے ہیں۔ جو بالغ افراد باقاعدگی سے لہسن کا استعمال کرتے ہیں انہیں معدے کا کینسر بہت کم ہوتا ہے۔ اس کی مثال چین اور اٹلی کے باشندے ہیں۔ امریکن نیشنل کینسرانسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے چینی سائنس دانوں کے تعاون سے 3000 بالغ افراد پر اس بات کا تجربہ کیا کہ لہسن کا استعمال معدے پر کس طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے۔ پین سٹیٹ یونیورسٹی پہلے ہی رپورٹ دے چکی ہے کہ لہسن معدے ،غذائی نالی، حلق ،منہ اور بڑی آنت میں کینسر کا خطرہ کامیابی کے ساتھ دور کر سکتا ہے۔

غیر موثر اجزاء کو موثر بنانا :
جسم میں غیر موثر اجزاء کی موجودگی بہت سے افعال اور اثرات کو غیرموثر کردیتی ہے۔ ان کے طبی اجزاء اس صورت حال کو ختم کردیتے ہیں۔ روس میں تو کسان سٹرابیری کے پودوں کے ساتھ لہسن کے پودے بھی کاشت کرتے ہیں تاکہ سٹابری تباہ کن اثرات سے محفوظ رہے۔ قدیم معاشروں میں لہسن کا ہار گلے میں پہنایا جا تاتھا تاکہ مریض نزلہ زکام سے صحت یاب ہو جائے۔لہسن انسانی بدن میں مدافعتی نظام کو طاقتور بناتا ہے۔ بالخصوص انفیکشن سے تحفظ کے لیے مثبت کار آمد ہے۔ باقاعدگی سے لہسن کھانے والے افراد کھانسی اور نزلہ زکام کا بہت کم شکار ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  غذا اور صحت:انار کھائیں بھوک لگائیں

مغربی دنیا لہسن کے طبی فوائد سے تیزی سے آگاہ ہو رہی ہے۔ کیلی فورنیا میں گارلیک ایوی ایشن نے ایک تحریک شروع کی ہے تاکہ امریکہ میں تازہ لہسن کے استعمال کو فروغ حاصل ہو سکے۔ ریاست نیویارک میں ان کے کاشت کاروں نے ہر سال 14 ستمبر کو ’’گارلک ڈے‘‘ منانا شروع کر دیا ہے۔

لہسن میں پائی جانے والی تیز چھبنے والی بو اس میں موجود سلفر کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لہسن کو کچی حالت میں استعمال کرنا زیادہ موثر نہیں سمجھا جاتا۔ ادویات بنانے والی چھ کمپنیوں نے کامیابی کے ساتھ ان کی بو کو ختم کرلیا ہے۔ ان کی گولیاں اور کیپسول آج کل بہت سے ملکوں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔

احتیاط :
خالی پیٹ لہسن کھانے پر معدہ خراب ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگوں میں تو معدے کا السر اور خون کا ضیاع بھی ہو جاتا ہے۔ کچھ افراد کو دیگر غذائی اشیاء کی طرح ان سے الرجی ہوتی ہے۔ اگر آپ بھی ایسا محسوس کریں تو ان کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔ لیکن ہر حالت میں لہسن کا استعمال اعتدال کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس کا آغاز روزانہ ایک تری کے ساتھ کریں اور روزانہ پانچ تک لے جائیں۔ اگر چہ صبح کے وقت اس کا استعمال بہتر ہے لیکن اس کی بو کی وجہ سے کچھ لوگ اسے رات کو کھانا پسند کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں