shaniha sahiwal

ساہیوال میں ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کے ساتھ سڑک کے بیچوں بیچ فائرنگ کرنے والے کون تھے؟

EjazNews

لاہور میں فیروز پور روڈ پر رہنے والی فیملی نے ایک گاڑی کرائے پر لی ۔گاڑی میں سوار ہوئے بورے والا میں شادی پر جانے کیلئے، ساہیوال کے مقام پر اس گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے ڈرائیورسمیت میاں ، بیوی کو قتل کر دیا گیا۔فوری طور پر بیان سامنے آیا یہ دہشت گرد تھے ۔ گاڑی جیسے لاہور سے نکلی اس کا پیچھا کیا جارہا تھا۔ وہاں بسوں پر سوار لوگوں نے ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوگیا۔
پھر کچھ بیان سامنے آئے کہ گاڑی چلانے والا ڈرائیور ذیشان دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھتاتھا۔افواہوں کو جان بوجھ کر پھیلا یا گیا۔ وزیراعظم کے درد بھرے پیغامات بھی نشر ہوئے ۔وزیراعظم نے متاثرہ بچوں سے ملاقات کی۔ پولیس میں اصلاحات کے بلند و بانگ دعوے بھی کیے گئے۔ انسداد دہشت گردی کے اہلکارو ں کو گرفتار کر لیا گیا۔ جس کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک کے جج ارشد حسین بھٹہ نے سانحہ ساہیوال کے مقدمے کی سماعت کی اور فیصلہ سنایا۔ سانحہ ساہیوال کے ملزمان میں صفدر حسین، احسن خان، رمضان، سیف اللہ، حسنین اور ناصر نواز عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ ملزمان کے وکلا نے سرکاری گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل کی جبکہ عدالت نے مقتول ذیشان کے بھائی احتشام سمیت مجموعی طور پر 49 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔
سانحہ ساہیوال میں قتل ہونے والے خلیل کے کم عمر بچوں عمیر، منیبہ اور ان کے بھائی جلیل سمیت دیگر نے بھی اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مدعی مقدمہ عبدالجلیل نے مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کرنے سے انکار کیا تھا جبکہ سانحہ ساہیوال کے زخمی گواہوں نے بھی ملزمان کو شناخت نہیں کیا۔عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمان کی فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ میں بھی ملزموں کی شناخت نہیں ہوئی جبکہ جائے وقوع سے ملنے والی گولیوں کے خول بھی فرانزک کے لیے تاخیر سے بھیجے گئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس کو اسلحہ فراہم کرنے والے انچارج نے سانحہ ساہیوال کا سارا اسلحہ واپس کرنے کا بیان دیا۔ پنجاب میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ساہیوال مقدمے کے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم اس سانحہ کے بعد متاثرین سے ملتے ہیں، چیک تقسیم کرتے ہیں۔ بچوں سے ملاقات کرتے ہیں اور درد بھرے ٹویٹ بھی کرتے ہیں۔اتنے ہائی پروفائل مقدمہ میں اتنا عرصہ گزرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ جن کو ہم ملزم سمجھ رہے تھے۔وہ تو شک کی بنیاد پر آزاد ہو گئے ہیں ،تو پھر ملزم کون ہیں؟۔اتنی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کے ساتھ سڑک کے بیچوں بیچ فائرنگ کر نے والے کون تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  محنت او رخدمت کر کے پاکستان کا نقشہ بدل رہے تھے، ہماری حکومت کا مشاہدہ کیا ہے:میاں نواز شریف

اپنا تبصرہ بھیجیں