period-pain

ماہواری میں ہونے والے درد کے بارے میں جانئے

EjazNews

عورت کی تولیدی مدت (عمرکا وہ حصہ جس میں عورت بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے) کے دوران ہر ماہ عورت کی بچہ دانی سے ایک خونی رطوبت جاری ہوتی ہے۔ یہ عمل ہر ماہ چند دن جاری رہتا ہے۔ اس کو ماہواری ،ایام ماہواری یا حیض کہتے ہیں۔ یہ ایک صحت مندانہ عمل ہے اور اس طریقے کا حصہ ہے۔ جس کے ذریعے جسم حمل کے لیے تیار ہوتا ہے۔
زیادہ تر عورتیں ماہواری کو اپنی زندگی کا معمول کا حصہ سمجھتی ہیں لیکن اکثر وہ یہ نہیں جانتیں کہ ماہواری کیوں آتی ہے اور کبھی کبھی اس میں تبدیلی کیوں ہو جاتی ہے۔
ماہواری کا نظام (حیض کا نظام):
ہر عورت کا ماہواری کا نظام مختلف ہوتا ہے۔ اس کا آغاز عورت کی ماہواری کے پہلے دن سے ہوتا ہے۔ زیادہ تر عورتوں کو ہر 28 دن بعد ماہواری آتی ہے لیکن کچھ عورتوں کی ماہواری کا درمیانی عرصہ کم ہوتا ہے اور انہیں ہر 20 دن بعد ماہواری آتی ہے جبکہ کچھ عورتوں کو اتنی کم کہ ہر 45 دن بعد ماہواری آتی ہے۔
ماہواری کے پورے نظام کے دوران، عورت کی بیضہ دانیوں میں تیار ہونے والے ہارمون ایسٹروجن اور پروجسٹرون کی مقدار تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ماہواری نظام کے پہلے نصف حصے میں بیضہ دانیاں، زیادہ تر ایسٹروجن تیار کرتی ہیں جس کی وجہ سے خون اور بافتوں (ٹشو) کی ایک موٹی تہہ، بچہ دانی میں بننےلگتی ہے۔ جسم، یہ استرنما تہہ اس لیے تیار کرتا ہے کہ اگر عورت اس مہینے میں حاملہ ہو جائے تو پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کے لیے ایک نرم بچھونا تیار رہے۔
ماہواری کے مسائل:
اگر آپ کو اپنی ماہواری کے سلسلے میں مسائل پیش آرہے ہیں تو آپ اپنی ماں، بہنوں یا سہیلیوں سے بات کرنے کی کوشش کریں ممکن ہے کہ آپ کو پتا چلے کہ ان کے ساتھ بھی ایسے مسائل ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کی مدد کرسکیں۔
ماہواری میں تبدیلی:
کبھی کبھی بیضہ دانی، بیضہ جاری نہیں کرتی۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے جسم کم مقدار میں پرو جسٹرون تیارکرتا ہے اور اس وجہ سے اس عادت میں تبدیلی آتی ہے کہ عورت کو کتنی مرتبہ اور کتنی مقدار میں ماہواری آتی ہے۔ لڑکیوں کو، جن کی ماہواری کا نظام ابھی شروع ہوا ہی ہو، یا عورتوں کو جنہوں نے بچے کو دودھ پلانا حال ہی میں ترک کیا ہوممکن ہے کہ ہر چند ماہ بعد ماہواری آئے یا کم مقدار میں ماہواری آنے یا ماہواری کی مقدار بہت زیادہ ہو۔ ان کا ماہواری کا نظام وقت گزرنے کے ساتھ باقاعدہ ہوجاتا ہے۔
وہ عورتیں جو ہارمون کے ذریعہ خاندانی منصوبہ بندی کرتی ہیں، کبھی کبھی انہیں مہینے کے وسط میں ماہواری آتی ہے۔ بڑی عمر کی وہ عورتیں، جو ابھی’’ سن یاس‘‘ میں داخل نہ ہوئی ہوں، ممکن ہے، ان کو زیادہ مقدار میں ماہواری آئے یا اپنی نوجوانی کے مقابلے میں زیادہ مرتبہ ماہواری آئے۔ جوں جوں وہ ’’سن یاس ‘‘کے قریب ہوتی جاتی ہیں ممکن ہے کہ انہیں چند ماہ تک ماہواری نہ آئے اور پھر ماہواری دوبارہ آنے لگے۔
ماہواری کے ساتھ درد:
ماہواری کے دوران بچہ دانی سکڑتی ہے تاکہ اپنے اندر موجود استر (تہہ) کو دھکیل کر باہر کر سکے۔ سکڑنے کے اس عمل کی وجہ سے پیٹ یا پیٹھ کے نچلے حصوں میں درد ہوسکتا ہے۔ کبھی کبھی اسے اینٹھن یامروڑ کہا جاتا ہے۔ درد، ماہواری شروع ہونے سے پہلے یا شروع ہونے کے فوراً بعد ہوسکتا ہے۔
کیا کرنا چاہیے:
• اپنے پیٹ کے نچلے حصے کو ملیں۔ اس طرح کسے ہوئے پٹھے (عضلات) ڈھیلے پڑ جائیں گے۔
• پلاسٹک کی کسی بوتل یا کسی اور تھیلی میں گرم پانی بھر یں اور اسے اپنے پیٹ یا پیٹھ کے نچلے حصے پر رکھیں یا پھر گرم پانی ، میں بھیگا ہوا موٹا کپڑا استعمال کریں۔ •
رس بھری کی پتیوں، ادرک یا گل بابونہ (Chamomile) کی چائے پئیں۔ آپ کے علاقے کی عورتیں ممکن ہے اور کسی طرح کی چائے کے بارے میں جانتی ہوں جو اس قسم کے درد میں فائدہ پہنچاتی ہو۔ •
اپنا روز مرہ کا کام جاری رکھیں۔
ورزش کرنے اور پیدل چلنے کی کوشش کریں۔
• درد دور کرنے والی کوئی ہلکی سی دوا لے لیں۔
اگر آپ کو زیادہ مقدار میں ماہواری آرہی ہے اور کسی طریقے سے فائدہ نہیں ہورہا تو ضبط ولادت (برتھ کنٹرول) کی ایک ہلکی دوا6 سے 12 مہینوں تک لینا مفید ہو سکتا ہے۔
ماہواری سے قبل کی علامات:
کچھ عورتیں اور لڑکیاں اپنی ماہواری شروع ہونے سے چند دن پہلے بے آرامی سی محسوس کرتی ہیں۔ ان دنوں وہ ایک یا کئی علامتیں اپنے اندر پاتی ہیں۔ علامتوں کا یہ مجموعہ ’’پی ایم ایس‘‘ کہلاتا ہے۔ جن عورتوں میں پی ایم ایس ہوتا ہے وہ یہ علامتیں محسوس کرسکتی ہیں۔
• چھاتیوں میں دکھن۔
• پیٹ کے پورے نچلے حصے میں درد۔
قبض (جب آپ پاخانہ خارج نہ کرسکیں)۔
زیادہ تھکن محسوس کرنا۔
پٹھوں کادُ کھنا خصوصاً پشت یا پیٹ کے نچلے حصے میں۔ •
• چہرے کا چکنا ہونا یا اس پر کیل مہاسے ابھرنا۔
• درد جو شدید ہو اور اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو۔
بہت سی عورتیں، ان میں سے کم از کم ایک علامت ہر ماہ محسوس کرتی ہیں اور کچھ عورتوں میں یہ تمام علامات ملتی ہیں۔ ایک عورت کی ایک ماہ کی علامات، دوسرے ماہ کی علامات سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ بہت سی عورتوں کے لیے ان کی ماہواری شروع ہونے سے پہلے کے چند دن بے آرامی کے ہوتے ہیں لیکن کچھ عورتیں کہتی ہیں کہ اس عرصے میں وہ اپنے آپ میں زیادہ تخلیقی صلاحیتیں محسوس کرتی ہیں اور خود کو بہتر انداز سے کام کرنے کے لائق پاتی ہیں۔
کیا کرنا چاہیے:
ہر عورت کے لیے ’’پی ایم ایس‘‘ میں مختلف طریقے مفید ہوتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ کسی عورت کے لیے پی ایم ایس میں کون سی چیز فائدہ دے گی ، عورت کو چاہیے کہ وہ مختلف چیزیں آزمائے اور غور کرے کہ کون سی شے استعمال کرنے سے وہ خود کو بہتر محسوس کرتی ہے۔ سب سے پہلے، ماہواری کے درد کو دور کرنے کے لیے دئیے گئے مشوروں پرعمل کرنے کی کوشش کریں۔
یہ مشورے بھی مفید ہو سکتے ہیں:
کم نمک کھائیں۔ نمک کی وجہ سے آپ کے جسم میں زیادہ پانی موجود رہتا ہے جو آپ کے پیٹ کے نچلے حصے میں درد کو بڑھا دیتا ہے۔
کیفین استعمال کرنے سے بچنے کی کوشش کریں۔ (کافی، چائے اور کچھ ٹھنڈے مشروبات مثلاً کولا میں کیفین پائی جاتی ہے) ۔
مکمل اناج، مونگ پھلیاں، تازہ مچھلی، گوشت اور دودھ استعمال کریں یا وہ غذائیں ہیں جن میں پروٹین زیادہ ہوں۔ جب آپ کا جسم ان غذاؤں کو استعمال کرے گا، وہ زائد پانی سے چھٹکارا حاصل کرے گا، اس طرح آپ کا پیٹ کم بھرا ہوا، اور کم سخت محسوس ہوگا۔
نباتی دوائیں استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی قریبی بڑی عمر کی عورتوں سے پوچھیں کہ کون سی نباتی دوا مفید ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تمام لڑکیوں کے جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں، پریشان نہ ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں