molana fazul rehman

جمعیت علمائے اسلام کو مارچ کی اجازت مل گئی پر شرائط کے ساتھ

EjazNews

پاکستان میں لانگ مارچ ، دھرنے کوئی نئی بات نہیں ہے یہ ہر حکومت کے دور میں تقریباً کیے جاتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے دور میں نواز شریف کو نظر بند کر دیا گیا لیکن وہ گھر سے نکلے اوربراستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے ان کا مطالبہ تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کیا جائے ۔ ان کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے یہ مطالبہ مان لیا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔
جب نواز شریف کی حکومتی تو ان کیخلاف موجودہ حکومت نے مارچ کیا اور اسلام آباد میں طاہر القادری کے ساتھ کافی دنوں تک بیٹھے رہے۔ طاہر القادری اور ان کے پیروکاروں تو وہیں پر رہتے تھے لیکن موجودہ وزیراعظم عمران خان کے چاہنے والے صبح کو کام پر اور رات کو دھرنے پر آجایا کرتے تھے ۔ سپریم کورٹ کی دیواروں پر گندے کپڑے اور پی ٹی وی پر حملہ بھی اسی دھرنے میں کیا گیا تھا۔ جس کے مقدمات درج ہیں۔
اب آئی وزیراعظم عمران خان کی حکومت ۔اس حکومت کیخلاف مولانا فضل الرحمن دھرنے اور لا نگ مار چ لے کر نکل رہے ہیں ۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ ان کا لانگ مارچ کس قدر کامیاب ہوتا ہے اور وہ کتنی حد تک لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چل پاتے ہیں اور اسلام آباد میں کتنے لوگوں کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور جن جماعتوں کی حمایت کا وہ اعلان کر رہے ہیں وہ ان سے کس قدر تعاون کرتی ہیں ۔
لیکن وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت جمعیت علمائے اسلام کے مجوزہ مارچ کو اسلام آباد آنے کی اجازت دے گی۔ حکومت جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے۔ اگر یہ مارچ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے وضع کردہ قانون اور آئین کے دائرے میں ہوا تو حکومت کو اعتراض نہیں۔
اس سے قبل وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ نئی پیش رفت اس وقت منظر عام پر جب مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے وزیراعظم کواسلام آباد میں مذاکرات بارے بریفنگ دی۔
جے یو آئی کے آزادی مارچ کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 27 اکتوبر کو حکومت مخالف آزادی مارچ اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا کی چوتھی لہر کے پیش نظر دوبارہ ملک بھر میں پابندیاں کا اطلاق ہوگیا

اپنا تبصرہ بھیجیں