siachen pakistan

سیاہ چن کی رزم گاہ اور کوہ پیمائی

EjazNews

اکیس ہزار فٹ کی بلندی پر جہاں چاروں طرف سربفلک پہاڑ ہوں۔ حدنظر تک آبادی کا نام ونشان نہ ہو درجہ حرارت دن کے وقت صفر تک پہنچ جائے اور جو نہی شام ڈھلے وہ صفرسے بیس تیس درجے نیچے جا کر دم لے۔ دن کو ننگی آنکھوں سے پل بھر کے لئے دھوپ میں دیکھیں تو عارضی طور پر اندھا ہو جائیں۔ برفباری اور طوفان کا سلسلہ شروع ہو جائےتو زمین دوز ٹھکانوں میں کئی دن مقید ہو کر رہ جائیں۔ برف پگھلا کر شربت یا چائے کے لئے پانی درکار ہو تو اس عمل میں ڈھیر ساراوقت لگ جائے۔ تازہ سالن اور چپاتی کئی دن میسر نہ آئے۔ جسم و جان کو قدرتی حادثات سے بچا کر رکھنے میں پوری قوت صرف ہو جائے ان حالات میں ایسے کیمپ میں بھلا کون رہے گا۔
ہر طرف برف سے ڈھکے پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔ مہیب گلیشیر ہیں جن کا جسم موسم کی تندی اور اس میں تغیر و تبدل کے باعث چھنی ہے۔ شدت کی سردی اور سبزہ ناپید ہونے کی وجہ سے کوئی پرندہ بھی بھولے سے اس طرف کا رخ نہیں کرتا۔ مکمل خاموشی سے یخ بستہ تیز ہوائیں مزید گہرائی دیں۔ اس گردوپیش میں سولہ ہزار اونچی عمودی چٹان پر بسیراکرنا ہو، جہاں سخت برفباری اور جھکڑ کے دوران بیماری یا حادثے کی صورت میں بروقت طبی امداد پہنچاناممکن نہ ہو۔ کبھی کبھار گولہ باری کے مدہم دھماکے فضا میں گونج رہے ہوں تو ایسی چٹان پر بھلا کون اپنی پوسٹ لگائے گا۔
دن بھر کے کام کاج سے چور ہو کر یخ بستہ تنبوں کے اندر شام کو جب سونے کی کوشش کریں اور جب آنکھ بند ہو جائے تو پھر کبھی نہ کھلے برف کا ہزاروں ٹن بھاری تودہ( ایوا لانچ ) کی زد میں محو خرام لوگ آجائیں تو ان کانام ونشان نظر نہ آئے تو ایسی جگہ پر بھلا کون جا کر کام کرے گا۔
یہ چند مثالیں زیب داستان کے لئے بیان نہیں کی گئی حقیقت بیانی ہے۔ یہ اس داستان کے اقتباسات ہیں جسے بیان نہیں کیا گیا۔ قوم اس سے بے بہرہ ہے۔ ملک عزیز کے شمالی علاقوں کی یہ داستان فرض شناسی ،حب الوطنی اور دشوار چوٹیوں گھاٹیوں وادیوں میں ایثار اور قربانی کی داستان ہے۔ پاکستانی فوج کے سرفروش مجاہدوں کی ان کہی داستان ہے۔ جسے بیان کیا جانا چاہئے خود آگہی کے لئے خوابیدہ احساس کو جگانے کے لئے ،لاعلمی ،بے اعتنائی اور عدم د لچسپی کی بد قسمت کیفیت کو دور کرنے کے لئے۔ ضروت اس امر کی ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ اس کے فرزند کن نامساعد حالات کا دلیرانہ مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ رات کے اندھیرے میں برفانی تھپیڑوںکو سہ کر گر گس صفت چوک و ہوشیار رہ کہ جاگتے ہیں کہ ہم چین کی نیند سو سکیں۔ وہ کس قدر ذہنی اور جسمانی مصائب کا خندہ پیشانی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں تاکہ ہمیں چین و طمانیت نصیب ہو۔ وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے وہ ہمہ وقت سر بکف رہتے ہیں۔
پاکستان کا ازلی دشمن صریحاً جارحانہ اقدام کا مرتکب ہو کر شمالی علاقوں کے کچھ حصہ پر قابض ہو گیاجو تقسیم برصغیر کے وقت سے عملی طور پر پاکستان کے زیر تسلط رہا ہے۔ سیاچن گلیشیر کے نام سے بچہ بچہ واقف ہو گیا ہے۔ اس علاقہ میں اگر چہ آبادی نہیں ہے۔ آمدورفت کے وسائل تقریباًناپید ہیں،چرند پرند کا ادھر گزر نہیں۔سبزہ کا نام ونشان نہیں لیکن علاقہ پاکستان کا حصہ ہے۔ جغرافیائی اور فرجی لحاظ سے اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ دشمن کی پیش قدمی کو بروقت اگر روک نہ لیا جاتا تو ہمارے بہت سے معروف پاڑ جو دنیا کوہ پیمائی کا برسوں سے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اور جہاں ہر سال میں مہمیں آتی ہیں۔ اس کی دسترس میں آسکتے تھےاور کوہ پیمائی اس علاقے میں غیر محفوظ ہو جاتی۔ دشمن کے حوصلے بڑھ جاتے تو کھپلو ،سکردو کی وادیوں پر اس کی نظر مرکوز ہو سکتی تھی۔ کوئی دوسو کلو میٹر دور شاہراہ ریشم اس کاہدف ہو سکتا تھا۔ لیکن اس کے ناپاک ارادوں کی تکمیل میں پاکستان فوج بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔ اسے کچھ کاری ضربیں وقتاً فوقتاً لگتی رہی ہیں۔ جن کی اسے توقع نہ تھی حلق میں چھپکلی کچھ یوں پھنس گئی ہے کہ اس کی جان اجیرن کر رکھی ہے۔
قراقرم میں بلتورو گلیشیئر پر گور دشمع اور HEC معروف کیمپ ہیں جہاں برسوں سے اس علاقے میں کوہ پیما پڑاوکرتے ہیں۔ پڑاو سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ یہاں سایہ دار درخت اور سبزہ ہو گا۔ پتھروں کی باڑھ ہوگی اور شفاف ٹھنڈے پانی کے چشمے بہتے ہوں گے۔ ایسی کوئی بات نہیں گلیشئر کے اوپر ایک محفوظ جگہ ڈھونڈ لی گئی ہے۔ جہاں تنبوں کے علاوہ تیز دھوپ اور سردی سے بچاوکی کوئی اور صورت نہیں ہے۔ مختلف پڑاوں کا درمیانی فاصلہ عموما آٹھ دس میل ہوتا ہے۔ تیس پینتیس کلو گرام بوجھ اٹھا کر اس بلندی پر چلنا آسان نہیں ،ان کیمپوں کے قریب ہی فوجی جوانوں نے ٹھکانے بنا لئے ہیں۔ ان جگہوں کی بلندی تیرہ سے سولہ ہزار فٹ تک ہے ۔کنوائے سیڈل اسی سفر کی ایک منزل ہے ،اکیس ہزار فٹ کے قریب ہے۔
ان بلندیوں پر کئی کئی ہفتے قیام کرنا اور ناموافق موسمی حالات کا جیداری سے مقابلہ کرنا کیسے ہوتا ہے۔ کوئی کوہ پیما اتفاق سے مل جائے تو اس سے تفصیل ضرور پوچھئے ،اچھے خاصے صحت مند انسان کا دم اکھڑ جاتا ہے۔ تازہ برف پر چلیں تو گھٹنوں تک ٹانگیں اس میں د ھنس جاتی ہیں اور بہت جلدی سانس پھول جاتا ہے۔ جسم کو گرم رکھنے اور لہوکی گردش بر قرار رکھنے کے لئے خاصاً اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ بھوک نہیں لگتی لیکن کسی طور شکم پروری لازمی ہے۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کو گرم رکھنا اشد ضروری ہے۔ ورنہ یہ بیکار ہو کر سرجن صاحب کے نشتر کی نذر بھی ہو سکتی ہیں۔ نمونیہ کا خطرہ ہمیشہ لاحق رہتا ہے، پھیپھڑوں اور دماغ میں پانی جمع ہو جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ سردرد، متلی اور بھوک نہ لگنے کی وجہ سے بعض لوگوں پر شدید ردعمل کا اظہار ہوتا ہے، گھنٹوں بے سدھ پڑے رہتے ہیں۔ طبی امداد سے ہی انہیں ہوش میں لایا جاسکتا ہے۔ یہ چند ایک قدرتی نامساعد حالات ہیں جن کا ہمارے جوانوں کو دن رات سامنا ہے۔ اور جن کا بخوبی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ جب تک کہ خود جا کر ان کے ساتھ کچھ وقت نہ گزارا جائے۔ بلندی کی مخصوص بیماریوں اور اس علاقے میں قدرتی حادثات کے نتیجہ میں مقابلتاً زیادہ جانیں تلف ہوتی ہیں دشمن کے ساتھ لڑائی میں دونوں طرف جانی نقصان زیادہ نہیں ہوتا۔
شمالی علاقے کی اصطلاح گلگت ایجنسی اور بلتستان کے اس حصے پر جو27 جولائی1949ء کو کراچی جنگ بندی کے معاہدہ کے مطابق اس وقت پاکستان کے کنٹرول میں تھا استعمال ہوتی ہے۔ بلتستان میں سیز فائر لائن چھوربائلہ ، چو نکا، کھورا این جے9842تک شناخت کی گئی۔ اس سے آگے بے شمار گلیشیر شمال میں واقع ہیں۔ اس وقت چونکہ وہاں کسی ملک کے فوجی موجود نہ تھے اور علاقہ نہایت دشوار گزار تھا یہ طے پایا تھا کہ سیز فائر لائن کو اس طرف بڑھانے میں مقامی فوجی کمانڈر اور اقوام متحدہ کے مبصر باہمی صلاح مشورہ سے فیصلہ کریں گے۔ ?2مارچ1963ءکو پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی معاہدہ طے پایا جس کے مطابق مشترکہ حد مشرق کی جانب قراقرم پاس پر ختم ہوتی ہے جو کہ سیاچن گلیشیر کے شمال مشرق میں واقع ہے۔1965کی بات بھارت جنگ کے نتیجہ میں یہ سیز فائر لائن کچھ جگہوں پر تبدیل ہوئی۔ 2جولائی1966کو تاشقند معاہدہ کے مطابق پرانی سیز فائر لائن برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔ شمالی نقطہ فیصل این جے 9842ہی ہے۔ 1971ءکی پاک بھارت جنگ کے بعد سیز فائر لائن پھر تبدیل ہوئی لیکن اس مرتبہ دونوں ممالک کی فوجیں مقبوضہ علاقوں سے واپس نہیں گئیں۔ 2جولائی1972ء کو شملہ معاہدہ طے ہوا جس پر عمل کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے قومی سربراہوں نے چند ایک مشترکہ اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ موجودہ جگہوں پر قابض رہیں گے اور سیز فائر لائن کو درست کرتے ہوئے اب اسے لائن آف کنٹرول کیا جائے گا اس فیصلے کی رو سے بھی این جے9842ء کی پوزیشن اثر انداز نہ ہوئی۔
سیاچن گلیشیر اندرا کولی پاس کے نزدیک سے نکلتا ہے اور جنوب مشرق کی سمت 72کلومیٹر دور دریائے نوبرہ میں دہانہ کھولتا ہے۔ نوبرہ اور شیوک بعد میں دریائے سندھ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سیاچن گلیشیر کے مغرب میں سلتورو پہاڑی سلسلہ ہے جس میں واقع چند دروں کے ذریعے ہی اس گلیشیر تک رسائی ممکن ہے۔ مشرقی سمت سے گلیشیئر تک پہنچاتقریباً ناممکن ہے۔ این جے9842ء کو علاقے کی اہمیت کے مطابق ایک سیدھی لائن سے قراقرم پاس تک ملا دیا جائے (جو کام بہت عرصہ پہلے مقامی فوجی کمانڈروں اور اقوام متحدہ کے مبصروں کو سرانجام دے دینا چاہئے تھا) تواصولی طور پراس سے مغرب کی طرف واقع علاقہ پاکستان میں شامل ہوتا ہے اور یہی امر واقعہ ہے۔ جو بھارت کے ساتھ دو بڑی جنگوں کے باوجود تنازعہ بن کر سامنے نہ آیا تھا ۔بھارت نے اس علاقے میں قدم جمانے کی کوشش کی ہے۔ 1948ء میں پہلی مرتبہ سیاچن گلیشیئر کی جانب بھارتی فوجیوں پر مشتمل ایک کوہ پیما مہم بھیجی، دو سال بعد اس عمل کو دہرایا گیا۔ اس مہم جوئی کی خبریں بھارت اور بعض دیگر ممالک کے خصوصی پرچوں میں شائع ہوتی ہیں لیکن ہم نے اس کی طرف خاص توجہ نہ دی۔ 1983 میں وادی سلتورو میں کچھ بھارتی فوجیوں نے آکر کیمپ لگایا لیکن پاکستانی رد عمل کے نتیجے میں کیمپ اٹھالیا گیا۔ آئندہ سال اس علاقے میں بھارت نے چند مقامات پر کیمپ لگائے اس طرف سے احتجاج کا حسب توقع اثر نہ ہوا۔ چنانچہ پاکستانی فوج نے بھی مد مقابل جگہیں سنبھال لی ۔ دونوں جانب سے مقامی کمانڈروں کی فلیگ ملاقاتیں بے نتیجہ رہتی ۔ حکومتی سطح پر ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، بھارت کا موقف ہے کہ جارحیت کے نتیجے میں جہاں اس وقت ان کی فوجی چوکیاں ہیں انہیں لائن آف کنٹرول تسلیم کیا جائے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کو پہلے اپنی پرانی جگہ واپس جانا چاہئے اس کے بعد ہی بات چیت کا سوچا جاسکتا ہے۔1957ءسے لیکر بھارتی جارحیت تک زیادہ غیر ملکی کوہ پیما ٹیمیں حکومت پاکستان سے ضروری اجازت نامہ لیکر سیاچن گلیشیر کے علاقہ میں آچکی ہیں۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کے کنٹرول میں ہی رہتاچلا آیا ہے۔ اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ بھارت کی توسیع پسندی اور جارحیت کی پالیسی نے سیاچن گلیشیئر کے علاقے کو جنگی محاذ کی شکل دینے کی کوشش کیا ہے۔ جس کا کسی صورت جواز نہیں بنتا۔
اونچے پہاڑوں میں گھری ہوئی شک وادی میں جہاں دوپہر ڈھلتے ہی شام ہو جاتی ہے اور آس پاس کوئی آبادی نہیں ہے۔ وہاں ہمارے خوش ذوق اور خوش نویس جوانوں نے ایک بڑی چٹان پر تصویروں اور کھائی کے ذریعے اپنے ولولوں اور ارادوں کا اظہار کیا ہے۔
سیاچن گلیشیئر کا مسئلہ جو بھارت کی کھلم کھلا بد حیت کا پیدا کر دہ ہے۔ باہمی گفت و شنید اور اعلیٰ سطح پر سیاسی حل کا متقفی ہے۔ فوج کشی سے یہاںفیصلہ کن اور مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش بحث ہے۔ بارہ ماہ برف سے ڈھکی ہوئی بلندیاں تاریخ میں پہلے کبھی اور کہیں اییسی رزمگاہ شاید نہ بنی ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا، دنیا میں انسان کا پہلا مسکن

اپنا تبصرہ بھیجیں