mian Muhammad Nawaz Sharif

نواز شریف کی صحت کے ساتھ جو کھیل ہو رہا ہے اس کے براہ راست ذمہ دار وزیراعظم ہیں:مسلم لیگی رہنما

EjazNews

گزشتہ رات سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اچانک صحت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں نیب آفس سے لاہور کے سروسز ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز کر رہے ہیں جبکہ اس بورڈ میں سینئر میڈیکل سپیشلسٹ گیسٹروم انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اور فزیشن بھی شامل ہیں۔میڈیکل بورڈ کی جانب سے نواز شریف کے لیے بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور معدے کی ادویات تجویز کی گئیں۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کی عیادت کے لیے سروسز ہسپتال پہنچے۔جہاں انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کی ۔ان کا کہنا تھا ‘نوازشریف کے خون کے خلیات خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے، اللہ کا شکر ہے کہ نوازشریف کے منہ یا ناک سے خون نہیں نکلا۔ان کا کہنا تھا ‘شریف خاندان اور ڈاکٹروں کو فکر ہے کہ نوازشریف کے اچانک کس طرح خون کے خلیات میں کمی واقع ہوئی۔خون کے خلیات عام طور پرڈیڑھ سےچار لاکھ تک ہوتے ہیں لیکن نواز شریف کے وہ کم ہوکر صرف 15 ہزار تک پہنچ گئے تھے، نوازشریف کے خطرناک حد تک خون کے خلیات میں کمی اور اس کی اطلاع نہ دینا بدترین غفلت ہے۔اور اس غفلت کے مرتکب افراد کی تحقیق ہونی چاہئے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال اور مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کی جس میں احسن اقبال کا کہنا تھا نواز شریف کو سنگین بیماری لاحق تھی لیکن پاکستان تحریک انصاف کے میڈیا سیل نے اس کا مذاق اڑایا جو بدقسمتی سے پاکستانی سیاست پر سیاہ دھبہ ہے جو پی ٹی آئی نے متعارف کرایا ہے جس میں مخالفین کی بیماری اور المیوں پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام گوگل، یاہو یا کسی بھی سرچ انجن پر جا کر 20ہزار سے کم پلیٹلیٹس کے بارے میں سرچ کریں کہ یہ کس حد تک سنگین ہے اور ایم بی بی ایس کی ڈگری کا حامل کوئی بھی ڈاکٹر یہ بتا سکتا ہے کہ پلیٹلیٹس 20 ہزار سے کم ہونے کے بعد انسان کو جسم کے اندر کسی بھی عضو سے خون رسنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس صورتحال میں مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا نواز شریف کے ذاتی معالج نے 7بجے ان کے کم پلیٹلیٹس کی رپورٹ حکام کو بھیجی اور اس کی سنگینی سے آگاہ کردیا تھا لیکن وہ رات 12بجے تک اس رپورٹ کو نظر انداز کر کے سوتے رہے اور ان رپورٹس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا حالانکہ انہیں 30 منٹ کے اندر نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کے انتظامات کرنے چاہیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ کابینہ کے اجلاس میں کیا اہم بات ہوئی؟

جب یہ رپورٹس میڈیا اور سوشل میڈیا پر آئیں اور مسلم لیگ کے کارکن اپنے قائد کی اس خطرناک حالت کا سن کر مشتعل ہو کر وہاں پہنچے تو اس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا اور اس موقع پر افسوس کی بات ہے کہ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے رپورٹس اور ہسپتال منتقلی کا مذاق اڑایا جو نہایت شرمناک، افسوسناک اور تیسرے درجے کی سیاست ہے، جو پی ٹی آئی اس ملک میں متعارف کرا رہی ہے اور ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت کے ساتھ جو کھیل ہو رہا ہے اس کے براہ راست ذمہ دار وزیراعظم ہیں اور اگر خدانخواستہ ان کی صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو عمران خان ذمہ دار ہوں گے اور ہم انہیں کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا فائنل کی دوڑ سے باہر،نیوزی لینڈ اب فائنل کھیلے گا

انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی پچ پر تو یوٹرن لیا جا سکتا ہے لیکن معیشت کے اندر جو یوٹرن لیتا ہے وہ بدترین بداعتمادی پیدا کرتا ہے جس سے معیشت کا پہیہ کریش کر جاتا ہے لہٰذا یہ یوٹرنز کی سیاست نے پاکستان میں سرمایہ کاری کو تباہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خراب صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی ادارے اگلے تین سالوں میں پاکستان کی شرح نمو ڈھائی سے 3فیصد تک کی پیش گوئی کر رہے ہیں جبکہ ہماری آبادی 2.4فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے تو اس لحاظ سے شرح نمو کو صفر تصور کیا جائے گا۔

مسلم لیگی کارکن سروسز ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے 2018 میں 5.8فیصد شرح نمو دکھائی تھی اور اب یہ حکومت بتا رہی ہے کہ 5سال مکمل ہونے پر پاکستان کی شرح نمو 5فیصد پر پہنچے گی تو 2023 میں پاکستان میں وہاں بھی نہیں ہو گا جہاں ہم نے 2018 میں چھوڑا تھا۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے اس ملک کو بہتر بنانے اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے جو محنت کی تھی، آج اسے چکنا چور ہوتے ہوئے دیکھ کر ہم شدید مضطرب ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ سیاسی انتقامی کارروائیوں میں مسلم لیگ کے قائدین کی صحت سے کھیلنا بند کریں۔
مسلم لیگ (ن) کی پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب کا اس پریس کانفرنس میں کہنا تھا ڈاکٹر عدنان نے نیب کو خط لکھ کر بتایا کہ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور ان کے ٹیسٹ کرنے کی اجازت مانگی جس کے بعد ان کا ٹیسٹ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ کل 4 بجے نواز شریف کے ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد 8 بجے شام میں یہ رپورٹ شیئر کردی گئی تھی جو سوشل میڈیا پر بھی موجود ہے لیکن یہ رپورٹ آنے کے باوجود نیب نے اپنی ایک اور ٹیم بلائی اور پھر رات 12 بجے نواز شریف کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے یہ مجرمانہ غفلت وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  30 سال سے 39سال تک افراد کی ویکسی نیشن شروع

گا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے 2018 میں 5.8فیصد شرح نمو دکھائی تھی اور اب یہ حکومت بتا رہی ہے کہ 5سال مکمل ہونے پر پاکستان کی شرح نمو 5فیصد پر پہنچے گی تو 2023 میں پاکستان میں وہاں بھی نہیں ہو گا جہاں ہم نے 2018 میں چھوڑا تھا۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے اس ملک کو بہتر بنانے اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے جو محنت کی تھی، آج اسے چکنا چور ہوتے ہوئے دیکھ کر ہم شدید مضطرب ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ سیاسی انتقامی کارروائیوں میں مسلم لیگ کے قائدین کی صحت سے کھیلنا بند کریں۔
مسلم لیگ (ن) کی پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب کا اس پریس کانفرنس میں کہنا تھا ڈاکٹر عدنان نے نیب کو خط لکھ کر بتایا کہ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور ان کے ٹیسٹ کرنے کی اجازت مانگی جس کے بعد ان کا ٹیسٹ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ کل 4 بجے نواز شریف کے ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد 8 بجے شام میں یہ رپورٹ شیئر کردی گئی تھی جو سوشل میڈیا پر بھی موجود ہے لیکن یہ رپورٹ آنے کے باوجود نیب نے اپنی ایک اور ٹیم بلائی اور پھر رات 12 بجے نواز شریف کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے یہ مجرمانہ غفلت وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں