colistrol

کولیسٹرول کیا ہے؟

EjazNews

خون میں کولیسٹرل ایک مومیائی مادہ ہے جو متعدد غذائی اشیاء میں پایا جاتا ہے۔ ان میں دودھ ، پنیر ، انڈے ،مکھن، گھی، مچھلی، گائے، بکری اور مرغی کا گوشت شامل ہے۔ یہ قدرتی طور پر پیدا ہونے والا چکنائی جیسا مواد ہے جس کا کیمیائی فارمولا بہت پیچیدہ ہے۔ یہ خلیوں کی تعمیر اور ہارمونز کی پیدائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ کولیسٹرول کی کچھ مقدار جسمانی خلیوں کی درست کار کردگی کے لیے بھی ضروری ہوتی ہے۔ مثلاً کولیسٹرول کی موجودگی جنسی ہارمونز کی تیاری اور وٹامن ڈی کو جزو بدن بنانے کے عمل کے لیے ناگزیر ہے۔ نوخیز بچوں میں دماغ کے خلیوں کی نشوونماکے لیے کولیسٹرول درکار ہوتا ہے۔ بہت سے خلیوں کی جھلیوں کو بھی معمولی سی مقدار میں کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ صحت مند کارکردگی برقرار رکھ سکیں۔
کولیسٹرول کے ذرائع اور کیمیائی عمل:
خون میں کولیسٹرول دو بڑے ذریعوں سے داخل ہوتا ہے۔ ایک ذریعہ خارجی ہے یعنی روز مرہ غذا کے ذریعے یہ ہمارے خون میں شامل ہوتا ہے۔ ایک سبزی خور فرد اپنی غذا کے ذریعے روزانہ 200 سے 400 ملی گرام جبکہ گوشت خور روزانہ 400 سے 600ملی گرام کولیسٹرول حاصل کرتا ہے۔
خون میں پائے جانے والے کولیسٹرول کی بڑی مقدار ہمارے اپنے جگر کی پیداوار ہوتی ہے۔ فطری نظام کے تحت اگر خوراک کے ذریعے روزانہ حاصل کیے جانے والے کولیسٹرول کی مقدار کم ہو جائے تو جگر بذات خود کچھ زیادہ مقدار میں اسے پیدا کرنے لگ جاتا ہے۔ لیکن یہ صورت حال کمی کے عرصہ میں صرف ابتدائی چند ہفتوں تک برقرار رہتی ہے۔ بعد ازاں جگر بھی اضافی مقدار بنانا چھوڑ دیتا ہے۔
کولیسٹرول کے معرض وجود میں آنے کا عمل بہت پیچیدہ اور کئی ضمنی پیچیدگیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ (خلیوں کے مخصوص حصے ،خام قسم کامادہ حاصل ہونے پر انزائمز کے عمل کے ساتھ اسے تشکیل دیتے ہیں)۔
مناسب یہی ہے کہ ہم ان کی پیدائش کے عمل کو چھوڑ کر اس طریقہ کار پر نظر ڈالیں جو خارج سے (غذا کے ذریعے )حاصل ہونے والے کولیسٹرول کو جزو بدن بنانے کے لیے ہمارا جسم اختیار کرتا ہے۔ کولیسٹرول بذات خود خون یا پانی میں تحلیل نہیں ہو سکتا۔ کئی اور غذائی اجزاء کی طرح اعضائے ہضم اور انتڑیوں کے ذریعے جذب ہونے کے بعد کولیسٹرول جگر میں منتقل ہو جاتا ہے اور پھر وہاں سے جزو بدن بنے کے اگلے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ جگر میں یہ پانی میں حل ہو جانے والے داروں ایپولپو پروٹین( APOLIPOPROTEIN )اور فاسفو پیڈز( PHOSPHOLIPIDS )سے مل کر کائیلو مائیکرون بناتا ہے۔ کائیلو مائیکرون( CHYLOMICRONS) پیچیدہ قسم کے اجزاء ہوتے ہیں جنہیں لیپوپروٹینز (LIPOPROTEINS )کہا جاتا ہے۔ یہ پروٹین اور چکنائی کا ملغوبہ ہو تا ہے۔
لیپوپروٹین کی اقسام :
تین اقسام کی لیپوپروٹینز، دوران خون کے ذریعے جگر سے کولیسٹرول جسم کے مختلف حصوں میں پہنچاتی ہیں۔ یہی تین قسموں کی لیپوپروٹیزدل کی بیماریاں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب خون دل سے نکل کر شریانوں میں جاتاہے تو ان لیپوپروٹینز کو الگ الگ شناخت کیا جا سکتا ہے۔ انتہائی گاڑے ذرے نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور کم گاڑھے (کثیف)ذرے اوپر رہتے ہیں۔
انتہائی کم کثیف لیپوپروٹین (VLDL) :
چکنائی کے بڑے ذرے کائیلو مائیکرون ٹرائی گلائیرائیڈز اور فیسٹی ایسڈز کہلاتے ہیں اور انتہائی کم کثیف لیپوپروٹین بناتے ہیں۔ جیسا کہ نام ظاہر کرتا ہے۔ یہ ذرات بہت کم وزن اور کثافت رکھتے ہیں۔ کم کثیف لپوپروٹین کی کچھ مقدار توانائی کے لیے استعمال ہوتی ہے جبکہ بقیہ چربی کے ذخائر میں جمع ہو جاتی ہے۔ اس کی اچھی خاصی مقدار اخراج کے لیے واپس جگر میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہی کم کثیف لپوپروٹین انٹرمیڈیٹ ڈسٹی لپوپروٹین (DL) اور لوٹ منسٹی لپوپروٹین (LDL )میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
کم کثیف لیپوپروٹین (LDL) :
لیپوپروٹین کی یہ فلم( VLDL )کی پیداوار یا تبدیل شدہ شکل ہوتی ہے جس میں سے ٹرائی گلائسرائیڈز الگ ہو چکے ہوتے ہیں۔ خون میں پائی جانے والی اس لیپوپروٹین کی قسم کولیسٹرول کی بہت زیادہ مقدار رکھتی ہے۔ اس پروٹین کا ایک بڑا حصہ چکنائی کے ذخیرے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بقیہ تمام تر مقدار اخراج کے لیے جگر میں بھی دی جاتی ہے۔ اس پروٹین یعنی( LDL )کی زیادہ مقدار کا خون میں موجود ہونا یقینی طور پر نقصان دہ ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ شریانوں کی دیواروں پر چپک جاتی ہے اور پھربتدریج شریانوں کو سخت اورتنگ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بند کرنے کا عمل شروع کر دیتی ہے۔ LDL کو ماہرین عموماً برا کولیسٹرول کہتے ہیں۔ صحت مند بالغ افراد میں LDL کی موجودگی اگر 100 ملی لٹر میں 130 ملی گرام ہو تو اسے غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ اس سے آگے یہ مقدار جتنی زیادہ ہوگی اسے ہارٹ اٹیک کے لیے اتنی زیادہ خطرناک سمجھا جائے گا۔
زیادہ کثيف لیپوپروٹین (HDL) :
لیپوپروٹین کی اس قسم کو ’’اچھا کولیسٹرول‘‘ کہا جاتا ہے جو جگر اور چھوٹی آنت کی دیواروں میں تشکیل پاتی ہے۔ دوران خون میں شامل ہو کر یہ اردگرد کی بافتوں سے کولیسٹرول کو اٹھا لیتی ہے۔ خون کی گردش اس لیپوپروٹین کو واپس جگر میں لے جاتی ہے جہاں سے کولیسٹرول صفرا کے ذریعے خارج ہو جاتا ہے۔ اس طرح HDL جسم کی صفائی کرتی ہے اورکولیسٹرول کی اضافی مقدار سے چھٹکارا پانے میں مدد دیتی ہے۔ عام طور پر عورتوں میں HDL کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورتوں میں ہارٹ اٹیک کے واقعات کم ہوتے ہیں۔ سن یاس تک تو اس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ جن افراد کے خون میں HDL کی مقدار 25 ملی گرام سے کم ہو انہیں ہارٹ اٹیک کا شدید ترین خطرہ رہتا ہے۔ چاہے ان کا کولیسٹرول لیول معمول کی حدود میں ہی کیوں نہ ہو۔ (یعنی 200 ملی گرام سے کم)۔
کولیسٹرول کی تشکیل کے بارے میں ہمارا علم ابھی ادھورا ہے۔ ماہرین ابھی خلیوں کے( RECEPTORS )کی کئی قسموں اور لیپوپروٹینز کے اجزا پر تحقیق کر رہے ہیں۔ 1985ء میں گولڈ سٹیئن اور براؤن کو کولیسٹرول میٹابولزم میں ملوث( RECEPTORS )کی دریافت کے زبردست کام پر نوبل انعام دیا گیا تھا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دنیا میں 25سے 30فیصد تک لوگوں کے خلیوں کے ان (RECEPTORS )میں کسی حد تک نقص پایا جاتا ہے۔ ان کی کارکردگی میں پایا جانے والا فرق ہی اس بات کی دلیل ہے کہ آخر کیوں ایک ہی خاندان کے کچھ افراد بقیہ افراد جیسی غذا کھانے کے باوجود کولیسٹرول کا لیول زیادہ رکھتے ہیں۔
موروثی عوامل اور لیپوپروٹین کی خلیوں میں تفصیل کے درمیان تعلق بھی اب نئی تحقیق کا موضوع ہے۔ ماہرین کو توقع ہے کہ اگلے دس برسوں میں کولیسٹرول کی تخلیق کا عمل انسان زیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے کے قابل ہو جائے گا۔ تاہم نئی دریافت ہمیں کچھ بھی بتائے،موجودہ حقیقت یہ ہے کہ کولیسٹرول۔۔۔ ایک قاتل ہے۔
ٹرائی گلائسرائیڈز (TRIGLYCERIDES) :
یہ چکنائی ہی کی ایک قسم ہے جو جگر پیدا کرتا ہے۔ اس میں تین طرح کے چکنائی کے تیزاب پائے جاتے ہیں جو گلائی سیرول کی طرف سے مہیا کی جانے والی ایک ریڑھ کی ہڈی سے چپکے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہائی کولیسٹرول اور LDL کی زیادہ مقدار شریانوں کو بند کرنے کا تسلیم شدہ سبب ہے۔ لیکن ماہرین ٹرائی گلائسرائیڈز کے ایسے کردار کے بارے میں حتمی رائے نہیں رکھتے۔ البتہ فر منگم سٹڈی کے نتائج اشارہ دیتے ہیں کہ ٹرائی گلائسرائیڈز کی زیادہ مقدار بذات خود دل کی شریانوں کے لیے رسک فیکٹر ہے۔ ایسے افراد جو شوگر کے مریض ہیں ۔موٹاپے کا شکار ہیں یا پھر گردے کے امراض میں مبتلا ہیں۔ ان میں ٹرائی گلائسرائیڈز لیول عموماً اونچا ہوتا ہے۔ ایک نارمل بالغ میں ٹرائی گلائسرائیڈز لیول عموما 100سے 200ملی گرام ہوتا ہے۔ اگر بقیہ تمام رزلٹ اطمینان بخش ہوں تو پھر ان کی مقدار 300 ملی گرام تک شریانوں کے لیے خطرناک نہیں سمجھی جاتی۔ تاہم 300سے زیادہ مقدار غذا اور دوا دونوں کے ذریعے علاج کا تقاضا کرتی ہے۔ زیادہ تر واقعات میں ٹرائی گلائسرائیڈز کی زیادہ مقدار صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب دیگر غیر معمولی رسک فیکٹر موجود ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  درد کا نیا علاج
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں