working women

کسب معاش سے سبکدوشی

EjazNews

اسلام نے عوت کو گھر کا انتظام اوربچوں کی تربیت کی ذمہ داری سپرد کر کے معاش کی ذمہ داری سے فارغ کر دیا ہے اور عورت کے کھانے پینے کپڑے لتے وغیرہ کی ذمہ داری مرد پر ڈال دی ہے جسے اگر مرد پورا نہ کر سکے تو عورت قانونی طور پر طلب کر سکتی ہے موجودہ تہذیب کے لطف و کرم کے برعکس کہ اس نے عورت کے نازک صنف پر دوھری ذمہ داری ڈال دی ہے بچوں کی پیدائش اور پرورش دوسری کسب معاش کی اسلام نے ان ذمہ داریوں سے اس کوآزاد کیا ہے۔
حضرت حکیم بن معاذالقشیری فرماتے ہیں:
ترجمہ:”میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول بیبیوں کاحق مردوں پر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا جب کھاﺅ تو اس کو بھی کھلاﺅ اور جب خود پہنوں تو اس کو بھی پہناﺅ اور اس کے چہرے پر مت مارو اور برا بھلا نہ کہو اور گھر کے اندر ہی رکھو ۔ “ (احمد ،ابوداﺅد)
نیک بیوی بہترین خزانہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
ترجمہ: ”بہترین مال ذکر الٰہی کرنے والی زبان اورشکر گزار دل اور نیک بیوی جو ایمان پر مومن کی اعانت کرتی ہے۔“
نکاح میں عورتوں کی مرضی:
دنیا کے عام دستور کے مطابق لڑکی سے مرضی اور غیر مرضی معلوم نہیں کی جاتی۔ والدین اور اقارب اپنی مرضی سے جہاں چاہتے ہیں جس سے چاہتے ہیں نکاح کردیتے ہیں خواہ لڑکی راضی ہو یا ناراض ہو لیکن اسلام نے اس معاملہ میں عورتوں کو پوری آزادی دی ہے کہ بغیر لڑکی کی اجازت کے نکاح ہی نہیں کیا جاسکتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بیوہ کا نکاح اس کے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے اور نہ کنواری کا اس کی اجازت کے بغیر کیا جائے۔ لوگوں نے کہا اس کی اجازت کیا ہےفرمایا اگر وہ پوچھنے پر خاموش رہے تو اس کی اجازت معلوم ہو گئی۔ “ (بخاری و مسلم)
اس حدیث میں بیوہ عورتوں سے نکاح کے بارے میں مشورہ لینے کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ اس پر تیار ہیں تو ان کا نکاح کر دیا جائے۔ مجبورنہیں کیا جاسکتا۔ بعض مذاہب میں بیوہ عورتوں کو نکاح کی اجازت ہی نہیں ۔ وہ ساری زندگی یا تو نفس کشی کریں یا حرام کاری کرائیں۔ اسلام نے ان کو اجازت دی ہے کہ وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہیں اور ان کے سرپرستوں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ ان کا نکاح کر دیں۔ قرآن مجید میں فرمایا ”وانکحو الایامی“ تم رانڈ اور بیوہ عورتوں کا نکاح کر دیا کرو۔ نکاح و طلاق وغیرہ کی پوری تفصیل پہلے بیان کی جا چکی ہے ۔اس میں دیکھ لیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی بادشاہت

اپنا تبصرہ بھیجیں