Pakistani montain

ہمارے پہاڑ

EjazNews

پاکستان کے بلند و بالا اور باوقار پہاڑ ملک عزیز کابڑا قیمتی خزانہ ہیں۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے یہ پہرہ دار اور محافظ ہیں۔ ان کے شکم میں معدنیات کے خزانے محفوظ ہیں۔ ان پہاڑوں کی کوکھ سے جنم لیتے ہوئے گلیشیر ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے ہمارے کھیتوں کو سیراب اور معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جنوں، پریوں کے مسکن یہ پہاڑ قادر مطلق کی حمد وثناء میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ قدرت کے یہ عظیم شاہکار انسان کی جرات مندانہ ، بلند حوصلوں اور کوشش پہیم کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان دلکش و دلفریب پہاڑوں کانز دیک سے مطالعہ کرنے اور ان کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی غرض سے نڈر اور جواں ہمت مرد اور عور تیں مدتوں سے مہم جوئی میں مصروف ہیں اور نہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

سلسلہ ہائے کوہ:
پاکستان کو تین سلسلہ ہائے کوہ اپنی حفاظت میں لئے ہوئے ہیں۔ مشرق سے مغرب تک یہ عریض و طویل سلسلہ جو کہ قراقرم ہمالیہ اور ہندوکش پر مشتمل ہے پاکستان کو چین افغانستان اور روس سے علیحدہ کرتا ہے۔ ہمالیہ ملک کی شمالی سرحدوں کے شمال اور مشرق کی طرف پھیلا ہوا ہے۔ قراقرم ہمالیہ کے شمال مغربی جانب سے شروع ہو کر مغرب میں گلگت اور مشرق میں قراقرم کے پاس تک جا پہنچتا ہے۔ ہندو کش کا سلسلہ قراقرم کے شمال مغرب میں واقع ہے اور اس کی حدود افغانستان سے جا ملتی ہیں۔ سردیوں میں ان علاقوں کا درجہ حرارت 50 ڈگری تک نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے۔ دن کو تیز دھوپ برداشت نہیں ہوتی لیکن جونہی سائے ڈھلنے لگتے ہیں درجہ حرارت تیزی سے گرنے لگتا ہے۔ یہاں پر تیز ہوائیں جن کی رفتار ایک سو کلو میٹر فی گھنٹے سے زیادہ ہو سکتی ہے کوہ پیمائوں اور کوہ نور دوں کے لئے بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش صدیوں سے کوہ پیمائوں اور سیاحوں کے لئے کشش کا باعث بنے رہے ہیں۔ سندھ اور پنجاب کے زرخیز میدانوں سے لے کر چین اور صحرائے گوبی کی مرقع تک یہ پہاڑی سلسلے دروں وغیرہ کے ذریعے راستے فراہم کرتے ہیں۔ چینی بد ھوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان علاقوں کے پہلے سیاح تھے جنہوں نے کالے پہاڑوں (قراقرم ) رسے کے بنے ہوئے پلوں اور بڑے بڑے گلیشیر کا ذکر کیا ہے۔ 390ء میں فاہین نامی سیاح نے سنکیانگ سے برصغیر کا سفر درہ مننگا (4700میٹر) کا راستہ طے کیا۔ ہن یانگ 630ء میں قراقرم کے پہاڑوں سے گزرتا اس علاقے میں آیا تھا۔ مارکوپولو 1300ء میں وینس سے قبلائی خان کے دربار میں حاضری دینے کی غرض سے اسی علاقہ سے گزرا تھا۔ مارکو پولو کی بھیڑ اسی کے نام سے منسوب ہے۔ ابن بطوطہ چودھویں صدی میں یہاں آیا تھا۔ بعد میں اٹلی اور برطانیہ کے ڈیوک اور شہزادے یورپ اور امریکہ کے کھلاڑی ، مہم جو سائنس دان ،سیاح اور طالع آزان علاقوں میں سیروسیاحت، کوہ پیمائی ،تحقیق اور بعض دفعہ پوشیدہ مقاصد لے کر یہاں آتے رہے ہیں۔ ان علاقوں کی خوبصورتی اور شان و شوکت کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہاں 7ہزار میٹر سے زیادہ بلند ان گنت چوٹیاں ہیں۔ ساڑھے سات ہزار میٹر سے زیادہ بلند تیس کے قریب پہاڑ موجود ہیں اور 8ہزار میٹر سے بلند دنیا کی کل چودہ چوٹیوں میں سے پانچ یہاں واقع ہیں۔ ان کے علاوہ کئی چوٹیاں ایسی بھی ہیں جہاں انسان کا گزر ہوا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی نام دیا گیا ہے۔ یہاں جتنی زیادہ تعداد میں گلیشیر ہیں اتنے دنیا میں کہیں اور شاید نہ ہوں ۔ یہاں کے بعض دروں کی بلندی یورپ کے پہاڑوں سے زیادہ ہے۔ دیوسائی 3700میٹر بلندی پر واقع وسیع و عریض میدان اسی علاقے میں ہے۔ پھنڈر ، کھجور ہ ،ست پرا کی شفاف نیلی اور سبز جھیلیں یہاں پائی جاتی ہیں۔ پاکستان اور چین کو ملانے والی شاہراہ ریشم اسی علاقے میں سے گزرتی ہے۔ 3ہزار کلو میٹر لمبا دریائے سندھ کی گزر گاہ یہاں ہے۔ کافرستان اور بلتستان کی ثقافت شمشال اورشگھر کی پراسرار وادیاں بھی یہاں ملیں گی۔ اس طرح سے پاکستان کے پہاڑوں میں حسن اور پراسراریت کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان علاقوں کی کشش ناقابل بیان اور ناقابل فراموش ہے۔ جو غیر ملکی کوہ پیما اور سیاح ایک دفعہ ان علاقوں میں آتے ہیں ان میں سے اکثروبیشتر کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ بار بار یہاں آئیں اور فطرت کی رنگینیوں سے محظوظ اور سرشار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  سویڈن کی ترقی کا راز
پہاڑوں پر جانے والے جانتے ہیں کہ یہاں پر زندگی کتنی پرلطف اور خطرناک ہے

پہاڑوں کی بلندیاں :
دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات پاکستان کے پہاڑوں کی بلندی لکھتے وقت خوش فہمی یا کم فہمی سے کام لیا جاتا ہے۔ چند ایک کا مقام دنیا کے دیگر پہاڑوں کے مقابلہ میں غلط طور پر بڑا ظاہر کیا گیا ہے اور اس صورت حال میں کچھ ایسی تحریر میں بھی شامل ہیں جنہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ اگر پہاڑوں کی بلدی کا جائزہ لیا جائے تو
کے ٹو 8611، نانگا پربت 8125، گیشربرم1۔8068، براڈ پیک8047 ، گیشر برم2۔ 8035، گیشر برم 3۔7952، گیشر برم4 ۔7925، دستیگل سر7885، کینانگ کش 7852، میشر برم7821، راکا پوشی7788، تبورا1۔7785، کنجوت سر7760، سلتورو کانگری7742، ٹرائیور7720، ترچیمر7706، چھوگلیزا7654، شش پارے7619، سیکیاکانگری7544، پیومری کش7492۔
گلیشئیر:
صدیوں کی مسلسل برفباری اور موسمی تغیر و تبدل کے باعث پہاڑی علاقوں میں برف کی دبیز تہیں جم جاتی ہیں۔ پہاڑوں کے دامن سے یہ تہیں آہستہ آہستہ سرکتی جاتی ہیں۔ آس پاس کے علاقے سے ان میں مٹی، پتھر اور معدنیات گھل مل جاتی ہیں۔ برف کے دریا سے اسے تشبیع دی جا سکتی ہے۔ یہ تودے گلیشیر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ بوجھ دباؤ اور اندرونی حرارت کی وجہ سے گلیشیر کے نچلے حصوں سے برف پگھل کر پانی کی شکل میں رسنے لگتی ہے اورگلیشیئر کے دہانے سے ندی نالے روپ دھار لیتے ہیں ۔گلیشیر کی لمبائی ، چوڑائی اور گہرائی کئی کلومیٹر ہوتی ہے ۔ تازہ برف باری کے بعد گلیشیئر کے اوپر کی سطح جیسے طویل و عریض سفید چادر ہو۔ لیکن اس کے نیچے خطرناک گہری دراڑیں مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ گلیشیر کی رفتار عموماً بہت کم ہوتی ہے اور بادی النظر میں اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ اچانک بپھرکر کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سیاچین گلیشیئر:
یہ گلیشئیر بلتستان کے شمال مشرقی کونے میں واقعہ ہے۔ اندرا کولی سے نکل کر جنوب مشرق کی سمت ستر کلو میٹر دور جا کر دریائے نوبرا میں جاملتا ہے۔ اس کے مغربی پہلو میں سیالا، بلافانڈلا ،گیانگ لا اور یا سمالا درے واقع ہیں۔ مقامی زبان میں لادرے کو کہتے ہیں۔ اس گلیشیر کے علاقے میں واقع پہاڑ ریمواکے 12 شرپی کانگری، سلتورو کانگری، تیرم کانگری وغیرہ پر غیر ملکی کوہ پیمامہمیں جاتی رہی ہیں۔ سیاچن گلیشیر بلاشبہ پاکستان کا حصہ ہے۔ لیکن اس کا کچھ حصہ اب ہندوستان کے غاصبانہ قبضہ میں ہے۔ اس صورت حال میں ہماری غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کاعمل دخل بھی ہے۔ سفارتی سطح پر مسئلہ کا حل تلاش کرنا اپنی جگہ درست ہے لیکن ایسی بات چیت کی پشت پر جب تک واضح نصب العین بلند حوصلہ متحدہ قوم اور مضبوط مسلح افواج کی طاقت نہ ہو تو ایک عیار دشمن کی جارحیت سے پیدا شدہ مسئلے کا منصفانہ حل کی توقع کر نا عبث ہے۔ بھارت کے دور رس عزائم کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ قراقرم کے پہاڑوں کے مہم جو بلتورو گلیشیر سے بخوبی واقف ہیں۔ کیونکہ پہاڑوں کے دامن تک پہنچنے کے لئے انہیں اس پر چار پانچ دن چلنا پڑتا ہے۔ اس کی لمبائی ساٹھ کلو میٹر اور چوڑائی پانچ کلو میٹر ہے۔ یہ گلیشیر کے ٹو سے جنم لیتا ہے اور راستے میں علاقے کے متعدد پہاڑوں سے نکلتے ہوئے گلیشیر اس میں ملتے جاتے ہیں اس کا دہانہ پیترو جا کر کھلتا ہے اور اس کا پانی آخر کار در یائے شگھر میں گرتا ہے۔
ہس پر اور بیافو گلیشیر تقریبا ساٹھ کلو میٹر لمبےہیں۔ یہ دونوں گلیشیر نگر اور اسکولے کے در میان واقع وادی ہنزہ میں کریم آباد سے کوئی پچاس کلو میٹر آگے پسو، گلکن ،بتورو گلیشیر پہاڑوں سے نکل کر شاہراہ ریشم کو آکر چھوتے ہیں۔ ان کے علاوہ مناپن ،چھو گولگما،ر کھیوٹ گلیشیر بھی کافی جانے پہچانے گلیشیر ہیں۔
پہاڑوں تک پہنچنے کے راستے:
متعدد سلسلہ ہائے کوہ تک پہنچنے کے لئے سکردو، گلگت اور چترال پہلے جانا پڑتا ہے۔ پھر وہاں سے مختلف پہاڑوں کے دامن تک جاتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے کہ کوہ پیما اور سیاح ہفتہ دس دن تک چک لالہ کے ہوائی اڈہ سے جہاز میں جانے کے لئے موافق موسم کا انتظار کیا کرتے تھے اور بعض اوقات ایسی ہی دشواری میں شمالی علاقوں سے واپسی پر پیش آتی۔ موسم پر کسی کو اختیار تھا اور نہ ہی متبادل اور تسلی بخش ذرائع میسر تھے۔ اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد سے اگر ہوائی جہاز کے ذریعے سکردو اور گلگت جانا مشکل ہو تو یہ لوگ بسوں و یگنوں میں سفر کر کے منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد سے سکردو کا فاصلہ 760 کلو میٹر اور گلگت کا 630 کلو میٹر ہے۔ یہاں سے ایبٹ آباد مانسہرہ ،تھاکوٹ ، پتن، چلاس اور جگلوٹ فارم تک شاہراہ ریشم پر گلگت اور سکردو کے راستے ایک ہی ہیں۔ لیکن سکردو جانے کے لئے جگلوٹ فارم کے نزدیک دریائے سندھ کو پل کے ذریعے کراس کرتے ہیں اور پھر اس دریا کے ساتھ ساتھ ہی یہ سڑک سکردو تک لے جاتی ہے۔ ستاگاچو، دھمبود داس، کت زاراسفرمیں چند آبادیاں ہیں۔ یہ سڑک کھجورہ جھیل اور سکردو کے ہوائی اڈے کے پاس سے گزرتی بلتستان کے صدر مقام سکردو پہنچتی ہے۔بس اور ویگن اچھی حالت میں ہوں اور ڈرائیو تجربہ کار ہو تو اسلام آباد سے سکردو، گلگت کا سفر سولہ اٹھارہ گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے۔ کوہ پیما اور سیاح عام طور پر سڑک کا سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پوری ٹیم اور اس کا سازو سامان ایک ساتھ جاتے ہیں۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہوائی جہاز کا سفر غیر یقینی ہوتا ہے اور اس صورت میں راولپنڈی ، اسلام آباد کے ہوٹلوں میں مجبوراً قیام مہنگا پڑتا ہے۔ ان سڑکوں پر اب چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹ، پیٹرول پمپ اور رہائش گاہیں بننے لگی ہیں اگرچہ اس سمت میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے تاکہ سیاحوں کا سفر آرام دہ ہو۔
ترجمیر اور ہندوکش کے دیگر پہاڑوں تک رسائی کے لئے پشاور سے ہوائی جہاز کے ذریعے چترال جا سکتے ہیں یا پھر اسلام آباد سے نوشہرہ ، مالاکنڈ، دیر، دروش سے ہوتے ہوئے سڑک کے ذریعے بھی چترال پہنچ سکتے ہیں۔ اس میں اگرچہ ایک بڑی دشواری ہے۔ دیر سے آگے لوہاری پاس سردیوں میں برفباری کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند ہو جاتا ہے۔ اس مشکل کو رفع کرنے کی غرض سے چند سال پہلے یہاں ایک ٹنل پر کام شروع کیا گیا تھا جس پر بعد میں مالی وسائل کی کمی کے باعث کام روک دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے کا معاملہ اب شاید پھر حکومت کے زیر غور ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  برٹش کولمبیا :جہاں قدرتی نظارے قدم روک لیتے ہیں
ان سرسبز وادیوں اور پہاڑوں میں دنیا کی تاریخ چھپی ہوئی ہے

شاہراہ ریشم:
شاہراہ ریشم یاقراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) انجینئرنگ کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ یہ شاہراہ قراقرم اور ہمالیہ کے دشوار گزار پہاڑوں سے گزرتی ہے۔ اسلام آباد سے درہ خنجراب (4703 میٹر) تک اس شاہراہ کی لمبائی 850 کلو میٹر ہے۔ اس سڑک کی تعمیر کا ابتدائی کام 1958ء میں آرمی انجینئروں نے وادی سندھ روڈ کی شکل میں اپنے ذمہ لیا تا کہ دور دراز کے علاقوں میں رہنے والوں کو نقل و حرکت کی بنیادی سہولتیں میسر آسکیں۔ دس سال بعد ہمارے عظیم ہمسایہ دوست چین نے اس کٹھن کام میں پاکستان کا ہاتھ بٹانا شروع کیا۔ 1978ء میں تھا ہکوٹ کے خوبصورت پل کے افتتاح سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس شاہراہ کی تعمیر میں جغرافیائی حالات ،ناموافق موسم اور سازوسامان کی کمی اور پھر اسے لانے لے جانے کی دشواریاں انجینئروں کے لئے بڑے چیلنج تھے جن کا انہوں نے بڑی جوانمردی اور انتہائی محنت و لگن سے کامیاب مقابلہ کیا۔
اس شاہراہ کی تعمیر کے دوران پانچ سو کے قریب پاکستانی اور چینی انجینئروں نے جان کی قربانی دی۔ گلگت سے چند کلو میٹر دور دینور کے مقام پر چینی قبرستان اور کریم آباد میں گنیش پل کے پاس پاکستانی مجاہدوں کی یاد گار نصب ہے۔ اس شاہراہ کی بنیادوں میں چینی اور پاکستانی کاریگروں کا خون دونوں ممالک کے مابین اخوت اور بھائی چارے کے جذبے کو دوام دینے کا ضامن ہے۔ شاہراہ ریشم حویلیاں ، ایبٹ آباد، مانسہرہ ،تھاکوٹ ، بھشام ، پتن ، گلگت ،ہنزہ، پسو،سست سے ہوتے ہوئے درہ خنجراب جا کر ختم ہوتی ہے۔ راولپنڈی سے گلگت کاور میانی فاصلہ 630 کلو میٹر ہے جو کہ ایک دن میں طے کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بہتر ہو گا کہ ایک رات بھشام یا پتن میں گزار کر بقیہ سفر اختیار کیا جائے۔ اس طرح علاقہ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا اور سفر سے بہتر طور پر لطف اندوز ہو سکیں گے۔
اس شاہراہ کی تعمیر کے بعد کاشغر (سکیانگ ) اور کراچی تک کا فاصلہ 3400 کلو میٹر ہے اور کاشغر سے شنگھائی کے بندر گاہ 5700 کلو میٹر دور پڑتی ہے۔ چین کی تجارت پر اس فرق کا مثبت اثر پڑ اہے۔
شاہراہ قراقرم پر اکثربرف کے تودے اور چٹانوں کے ٹکڑے گرتے رہتے ہیں اور بعض اوقات گلیشیر اسے وقتی طور پر ٹریفک کے لئے دشوار بنادیتے ہیں۔ چنانچہ اسے اچھی حالت میں رکھنے کے لئے ضروری سامان سے لیس آرمی انجینئروں کے دستے مختلف جگہوں پر تعینات ہیں۔ یہ شاہراہ چونکہ کافی بلندی سے ہو کر گزرتی ہے اس لئے بعض مسافروں کو سانس لینے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ اپنی گاڑی میں ایک دو آکسیجن کے سلنڈرر کھ لئے جائیں تا کہ ضرورت پڑنے پر وہ استعمال کئے جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاناما سٹی :سی فوڈ کا دارالحکومت

اپنا تبصرہ بھیجیں