loving bards

محبت صرف فلموں میں نہیں ہوتی اس کا حقیقت سے بھی تعلق ہے

EjazNews

یہ 4جنور ی2018ءکا دن تھا ۔ہیدر اور ڈیوموشر کی زندگی کا اہم ترین دن تھا، اس روز ا س نے سرطان کے مرض میں مبتلا بستر مرگ پر پڑی اپنی منگیتر سے ہسپتال میں شادی کا جشن منایا۔ شادی شدہ موشر نے بستر مرگ پر سفید جوڑا پہنا۔ ہیدر نے اسے انگوٹھی پہنائی اور ہسپتال کے کمرے میں موجود اس کے تمام دوستوں اور رشتہ داروں نے خو ب جشن منایا۔ لیکن ان سب کی آنکھوں میں آنسو موتیوں کی طرح تہر رہے تھے انہیں معلوم تھا کہ ڈیو موشر کا یہ آخری دن ہے۔ اور اور اس شادی کے محض 18گھنٹے بعد ہسپتال کے کمرے میں 31سالہ موشر نے آخری ہچکی لی اور اپنے خالق حقیقی سے جاملی۔
31سالہ ڈیو موشر سرطان کے مرض میں مبتلا تھی۔ دسمبر کو انہوں نے خو ب ہلا گلا کیا۔ ڈیوڈ موشر اپنے جسم میں چھپے ہوئے سرطان کے پھیلتے ہوئے مرض سے قطعی نا آشنا تھی۔ اس نے پچھلی کرسمس اپنے منگیتر کے ساتھ بہت دھوم دھام سے منائی تھی اور بڑے پلازہ کے ڈانسنگ فلور پر دونوں نے گھنٹوں ڈانس کیا تھا۔ اس کے چند ہی مہینوں بعد اتفاقیہ طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے پر ایک تکلیف دہ حقیقت سامنے آئی۔ ڈاکٹروں نے اس کی طرف دیکھا اور افسوسناک لہجے میں بولا کہ میڈم آپ چوتھے درجے کے سرطان میں مبتلا ہیں بچنے کی کوئی امید نہیں۔ تب 31سالہ نفسیات دان چند ہی ہفتوں میں بستر مرگ پر پہنچ گئی۔ کونیکٹی کٹ کے سینٹ فرانسیسز ہسپتال میں اس کا علاج شروع ہوا۔ بظاہر پچھلے سال 30دسمبر کو شادی طے تھی مگر ڈاکٹروں کے ایما پر شادی کی تاریخ 22دسمبر کر دی گئی۔ اسے سرطان سے لڑتے ہوئے ایک سال ہو چکا تھا۔ اب ہمت جواب دے چکی تھی اور ڈاکٹروں کے بقول وقت بہت کم رہ گیاتھا۔ تب 22دسمبر کو ہسپتال کے اس کمرے میں مسٹر موشر اور ہیدر کے سبھی دوست جمع ہوئے۔مگر 2016ءمیں وہ ایک باہمت عورت کی طرح سرطان کے آگے ڈٹ گئی تھی۔ میں زندہ رہنا چاہتی ہوں یہ مرض مجھے ہرا نہیں سکتا۔ لیکن بقول ڈاکٹر سرطان کو شکست دینے میں وہ کامیاب ہو گئی۔ چوتھے مرحلے پر کوئی مریض بھی ہفتہ دو ہفتہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ پاتا وہ تو ایک سال تک سرطان کے بھیانک خلیو ں سے لڑتی رہی۔ اس کے شوہر کو پتہ تھا کہ اس کی زندگی بہت ہی کم رہ گئی ہے لیکن وہ ہر صورت میں اس مرنے والی لڑکی سے شادی کا خواہش مند تھا۔ چنانچہ 22دسمبر کو ہسپتال کے کمرے میں خوب ہلا گلا ہوا اور اس کے ٹھیک 18گھنٹے بعد مریضہ نے اپنی آنکھیں موند لیں۔
یہ کہانی پڑھنے کے بعد لگتا ہے کہ محبت آج بھی دلوں میں راج کرتی ہے اور یہ مرد اورعورت کے درمیان ایک ایسا گہرا رشتہ ہے جسے توڑا نہیں جاسکتا ۔

یہ بھی پڑھیں:  نوجوان کی دلہن کے بغیر انوکھی شادی

اپنا تبصرہ بھیجیں