Pakistan Peoples party

پیپلز پارٹی احتجاج کی سیاست کیوں نہیں کرتی؟

EjazNews

بھٹو کے فرسٹ کزن ممتاز علی بھٹو پیپلز پارٹی کے بانی رہنماﺅں میں شامل تھے ۔28نومبر 1933ءکو پیدا ہونے والے ممتاز علی بھٹو سندھ کے 8ویں گورنر اور13ویں وزیراعلیٰ تھے ۔ لیکن ان کاعرصہ اقتدار بہت کم رہا۔22ستمبر 1971ءکووزیر اعلیٰ بنے اور محض چند ماہ بعد 20اپریل 1972کو اقتدار سے الگ ہو گئے گورنر سندھ کاعہدہ چھوڑنے کے چند دنوں بعد یکم مئی کو انہوں نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا لیکن یہ وزارت اعلیٰ کے منصب پر بھی جم کر حکومت نہ کر سکے اور ان کی جگہ غلام مصطفی جتوئی نے لی وہ محض 20دسمبر 1973ءکووزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ ممتاز علی بھٹو پہلی مرتبہ 5مارچ 1965ءکو 32برس کی عمر میں ایوب خان کی قومی اسمبلی کے ممبر بنے30مارچ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلان کے ساتھ ہی وہ ایوب خان کا ساتھ چھوڑ کر بھٹو کے قافلے میں شامل ہو گئے وہ ایگزیکٹو کمیٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے ۔انہوں نے 17مارچ 1977ءکو ایوب کھوڑو اورقاضی فضل اللہ کا مقابلہ کیا۔ ممتاز بھٹو قاضی فضل اللہ ، عبید اللہ کو شکست دے کر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اور اپنے کزن کے دور حکومت میں وہ پہلے گورنر اور پھر وزیراعلیٰ بنے۔ بھٹو انہیں ٹیلنٹٹ کزن بھی کہا کرتے تھے یہ سارا ٹیلنٹ آخری دنوں میں رفو چکر ہو گیا ۔ 1989ءمیںسندھ نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 2017ءمیں یہی سندھ نیشنل پارٹی پاکستان تحریک انصاف میں زم کر دی گئی اب وہ اور ان کا خاندان پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑے گا۔ واحد بخش بھٹو کے بارے میں اتنا ہی پتہ چلتا ہے کہ وہ 1898ءسے 25دسمبر 1931ءتک حیات رہے وہ بھی سینٹرل لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر تھے یہ اسمبلی 1919ءکے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد 14اگست 1947ءکو یہ اسمبلی برطرف کر دی گئی۔
قائد عوام کہلائے جانے والے ذوالفقار علی بھٹو نے نومبر 1967ءمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور پھر اسی کے ہو رہے۔ وہ پاکستان کے چوتھے صدر تھے 20دسمبر 1971ءسے 13اگست1973ءتک آئین کے نفاذ تک وہ صدر مملکت رہے بعد ازاں 14اگست کو صدر مملکت کا عہدہ چھوڑنے کے بعد انہوں نے پاکستان کے 10ویں وزیراعظم کے طور پر اقتدارسنبھالا وہ چند ماہ قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہے ان کا یہ دورانیہ14اپریل 1972ءسے 15اگست 1972ءتک ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو 15جون 1963ءسے 31اگست 1966 ءتک ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ رہے۔
ایوب کابینہ میں شمولیت سے پہلے انہوں نے سکندر مرزا کی کابینہ میں شمولیت اختیار کی اور کئی وزارتیں انجوائے کیں بعد ازاں 1963ءمیں ایو ب دور میں کئی وزارتوں پر فائز ہوئے۔ معاہدہ تاشقند کے بعد ان کا ایوب خان سے اختلاف ہوا اور وہ حکومت سے باہر نکل آئے۔ ان کی دوسری بیگم نصرت بھٹو بھی ایرانی النسل کرد خاتون تھیں۔ مرتضیٰ 1954،صنم بھٹو 1957، اور شاہنواز 1958ءمیں پیدا ہوئے 1960ءمیں وہ پانی و بجلی کے وزیر تھے بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہد ہ میں بھی انہوں نے نمایاں کر دار ادا کیا۔ یحییٰ خان نے ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب کو ملتے جلتے الزامات میں اڈیالہ جیل میں بند کیا تھا۔ وہ تو بھٹو کی قسمت اچھی تھی کہ پہلے باہر آگئے۔ سندھ میںان کی سیاست کو کسی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے پائے کا رہنما ان کے دور میں سندھ میں پیدا ہی نہیں ہوسکا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو ملک کے لاکھوں عوا م کی حمایت حاصل تھی ان کی فلور کراسنگ کا سوا ل ہی پیدا نہیں ہوتا تھا تاہم پیپلز پارٹی سے بہت سے لوگوں نے فلور کراسنگ کیا۔ یوں تو ذوالفقار علی بھٹو سکندر مرزا اور ایوب خان کی کابینہ میں بھی شامل رہے۔ لیکن یہ ان کی سیاسی تربیت کازمانہ تھا۔ پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد وہ اسی پارٹی سے وابستہ رہے اوراگر پارٹی چھوڑ دیتے تو شاید ان کی جان بخشی بھی ہو جاتی۔
بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو21جون 1953ءسے 27دسمبر 2007ءتک زندہ رہیں۔اس دوران ان کی پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ بھی ہوئی۔مگر پارٹی پر ان کی گرفت انتہائی مضبوط رہی۔ وہ دو مرتبہ وزیراعظم بنیں۔ پہلی مرتبہ 19اکتوبر 1993ءسے 5نومبر 1996ءتک اور دوسری مرتبہ 2دسمبر 1988 سے 5اگست 1993 ءتک وزیراعظم رہیں ان کی پہلی وزارت عظمیٰ غلام اسحق خان اور دوسری ان ہی کے منتخب کردہ سردار فاروق خان لغاری نے برطرف کی۔اپنی دوسری حکومت کی برطرفی کے بعد وہ 1997ءسے اکتوبر 1999ءتک لیڈر آف دی اپوزیشن بھی رہیں اور 27دسمبر کو اپنے انتقال تک وہ پاکستان کے مقبول ترین رہنما کے طور پر پہچانی جاتی تھیں۔ بھٹو خاندان کے شاہنواز بھٹو سوئزر لینڈ میں زیر تعلیم تھے اور وہ بھٹو کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ اسی زمانہ میں 18جولائی 1985ءکو 26سالہ شاہنواز بھٹو کو فرانس کے شہر نیس میں مردہ حالت میں پایا گیا۔بھٹو خاندان کو یقین ہے کہ ان کو کسی سازش کے تحت زہر دیا گیا مگر اس کا مقدمہ درج ہوا نہ کوئی کارروائی ہوئی۔ ان کی اہلیہ ریحانہ کے ساتھ فرانسیسی حکام نے تفتیش کی۔ کچھ عرصہ انہیں مشکوک فہرست میں شامل رکھا۔ بعد ازاں انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت مل گئی اور وہ فرانس سے امریکہ چلی گئیں۔ میر مرتضیٰ بھٹو کی موت 18دسمبر 1994ءکو ہوئی میر مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو میں کچھ سیاسی اختلافات تھے۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے سندھ میں اپنی الگ سیاست کی انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شہید بھٹو گروپ کی بنیا درکھی۔ شہید بھٹو گروپ کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ حتیٰ کہ میر مرتضیٰ بھٹو خود بھی بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں اپنی سیاسی پارٹی کو مقبول بنانے میں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور زلمی اور لاہور قلندرز نے ٹیموں کی مضبوطی کیلئے نئے کھلاڑی شامل کر لیے
جب مولانا فضل الرحمن نے مذہبی عنصر کو سیاست میں شامل کر نے کی کوشش کی تو اس کی سب سے زیادہ مخالفت بلاول بھٹوزرداری نے کی اور اس وقت بھی وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔

20ستمبر 1995ءکو موت کے وقت ان کے ساتھ غلام مصطفی جتوئی کے برادر ان لاءاور پاکستان پیپلزپارٹی کے قائمقام صوبائی سربراہ آصف جتوئی بھی جاں بحق ہوئے۔ اب بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے ہاتھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کمان ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے چاروں بیٹوں میں سے تین بیٹے دنیا میں نہیں ہیں۔ بے نظیر بھٹو شہید کی گئیں، شاہ نواز بھٹو کی موت پر اسرار حالت میں ہوئی، جبکہ میر مرتضیٰ بھٹو 70کلفٹن جاتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق ہوئے ان کی موت اب تک سر بستہ راز ہے ۔ صنم بھٹو اور ان کی فیملی ادب و فن کی دنیا سے منسلک ہے۔ وہ ایک سیاسی دانشور کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہیں اندرون سند ھ میں پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی سربراہ غنویٰ بھٹو کی سیاست بھی کافی محدو د ہے اور ان کا بیٹا اب سیاست میں کوئی قابل ذکر اور فعال کر دار ادا نہیں کر رہا۔ وہ بھی عملی طور پر سیاست سے کنارہ کش ہیں۔ میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد انہوں نے 1997ءمیں بھٹو شہید گروپ کی قیادت سنبھالی۔ 3فروری 1997ءکو انہوں نے ضمنی انتخاب لڑا۔ غنویٰ بھٹو کو اس انتخا ب میں شکست ہوئی۔ممتاز علی بھٹو کے والد نبی بخش بھٹو بھی جونا گڑھ کی سیاست میں انتہائی متحرک تھے وہ بھی نواب آف جونا گڑھ کے آئینی مشیر تھے ان کا عہدہ کانسٹی ٹیوشن ایڈوائزر تھا۔ نواب آف جونا گڑھ کی جانب سے انگریزوں کے ساتھ مذاکرات بھی وہی کیا کرتے تھے۔
بیگم نصرت بھٹو کو مادر جمہوریت بھی کہا جاتا ہے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی دوسری چیئر پرسن تھیں 4اپریل 1979ءکو بھٹو کی پھانسی کے بعد انہوں نے ہی پارٹی کو سنبھالا اور 10جنوری 1984ءتک وہ پارٹی کی سربراہ رہیں یہ مشکل ترین دور تھا۔ جنرل ضیاءکی آمریت کا مقابلہ انہوں نے مردانہ وار کیا۔ بھٹو خاندان کے تقریباً تمام ہی افراد کو ایک ہی طر ح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انگریز سر کار سے پریشان شاہ نواز نے افغانستان میں پناہ لی ۔ان کے پوتے میر مرتضی بھٹو کو افغانستان میں جلا وطن ہونا پڑا۔ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے بھی جلا وطنی کا وقت گزارا۔
بیگم نصر ت بھٹو لاڑکانہ میں اپنی آبائی نشست سے دو بار منتخب ہوئیں دونوں بار وہ بھاری اکثریت میں منتخب ہوئیں اور بے نظیر کابینہ میں وہ سینئر وزیر بھی رہیں بھٹو خاندان واحد خاندان ہے جس کے تقریباً تمام افراد پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں اقتدارکے ایوانوں میں رہے اور بیشتر افراد غیر طبعی موت مرے ۔انہیں لاڑکانہ میں ان کے آبائی گاﺅں میں دفنا دیا گیا۔
یہ بھٹو خاندان کا ایک مختصر ترین تعارف تھا۔ بھٹو خاندان نے ہمیشہ جمہوری روایات کو قائم رکھا ہے اوروہ آج سے نہیں پاکستان بننے سے پہلے ہی جمہوریت کے قائل تھے اور ایوان کے اونچے زینوں پر براجمان تھے۔ جونا گڑھ میں ذوالفقار علی بھٹو کے والد بطور وزیراعظم خدمات انجام دیتے رہے ہیں ۔اگر بھٹو خاندان نے کوئی تحریک چلائی ہے تو وہ جمہوری اقتدار کیلئے چلائی ہے یہ ان کی تاریخ کا حصہ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب مولانا فضل الرحمن نے مذہبی عنصر کو سیاست میں شامل کر نے کی کوشش کی تو اس کی سب سے زیادہ مخالفت بلاول بھٹوزرداری نے کی اور اس وقت بھی وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان :پہلا ٹی ٹونٹی بارش کی نظر ہوگیا

اپنا تبصرہ بھیجیں