women health-friend

خواتین بہتر علاج کیسے حاصل کر سکتی ہیں

EjazNews

جب آپ کو صحت کا کوئی مسئلہ پیش آئے تو آپ کو اس سلسلے میں کئی فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ایک فیصلہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی صحت کارکن کے پاس جانا چاہیے اور آپ کے خیال میں آپ کوکس قسم کے صحت کا رکن کی ضرورت ہے ۔ اگر کسی بیماری کے علاج کے ایک سے زیادہ طریقے ہیں تو آپ کو کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے سوچنا ہوگا کہ ہر علان کے خطرات اور فائدے کیا ہیں۔ اگر آپ اپنی بیماری کے علاج کے سلسلے میں اپنے ڈاکٹر ، نرس یا صحت کا رکن کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہیں تو آپ اپنے علاج کے سلسلے میں بہترین فیصلہ کر سکیں گی اور آپ کی بہترین دیکھ بھال ہو سکے گی۔
اپنی توقعات کو پہچانیں:
اگر آپ یہ جاننے کے لیے تیار ہیں کہ جب آپ کو علاج معالجےکی ضرورت ہو تو آپ کو کیا توقع کرنی چاہے ، تو آپ اپنی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔
آپ کی صحت کے بارے میں سوالات:
یہ بہتر ہوگا کہ سی ٹی نظام کو استعمال کرنے سے پہلے آپ اپنی بیماری کے بارے میں جتنا زیادہ جان سکتے ہیں جان لیں، اس کتاب کے مطالعہ سے آپ کو اپنی صحت کے مسئلے کو سمجھے اور یہ جاننے میں مددمل سکتی ہے کہ اس مسئلے یا بیماری کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں۔
جو ڈاکٹر، نرس یا صحت کارکن آپ کا معائنہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ آپ کی بیماری کے بارے میں پوچھے اور یہ بھی معلوم کرے کہ اس سے پہلے آپ کی صحت کیسی تھی۔ پوچھنے والے کو مکمل معلومات فراہم کرنے کوشش کریں، چاہے آپ کو جوابات دیتے ہوئے شرم یا مشکل پیش آئے۔ اس طرح سوالات پوچھنے والا، آپ کی صحت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان سکے گا۔ آپ جو دوائیں لے رہی ہوں چاہے وہ اسپرین ہی کیوں نہ ہو، ان کے بارے میں ہمیشہ اپنے ڈاکٹر، نرس یا صحت کارکن کو بتائیں۔ اگر آپ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں پرعمل کر رہی ہیں تو ان سے بھی آگاہ کریں۔
آپ کو بھی سوالات کا موقع ملنا چاہیے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ اپنی باری کے علاج کے لیے کوئی اچھا فیصلہ آپ ہی کو کرنا ہے۔ اس لیے آپ کو اس سلسلے میں جتنے سوالات کرنے ہوں وہ آپ کریں۔ اگر ان سوالوں کے جواب پہلے ہی نہیں دیے جا چکے تو آپ پوچھ سکتی ہیں:
بہت سے ڈاکٹر اور نرسیں، مریضوں کو اچھی معلومات فراہم کرنے کے عادی نہیں ہوتے یا پھر ممکن ہے کہ وہ مصروف ہوں اور سوالوں کے • جواب دینے کا، ان کے پاس وقت نہ ہوتا ہو۔ آپ ان کا احترام کریں مگر اپنی بات پر جمی رہیں۔ ان کو آپ کے سوالوں کے جوابات اس وقت تک دینے چاہئیں جب تک بات آپ کی سمجھ میں نہ آجائے۔ اگر بات آپ سمجھ نہیں سکیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ کم عقل ہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہ بات اچھی طرح نہیں سمجھا رہے ہیں۔
معائنہ:
یہ جاننے کے لیے کہ آپ کے جسم میں کیا خرابی پیدا ہوئی ہے اور مسئلہ کتنا شدید ہے، آپ کوطبی معائنہ کرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ زیادہ تر معائنوں میں یہ باتیں شامل ہوتی ہیں: جسم کے جس حصے میں کوئی مسئلہ پیدا ہوا ہے، اسے دیکھنا،اسے کان لگا کر سننا اور اسے چھو کرمحسوس کرنا۔ اگر آپ کو معائنہ کروانے میں الجھن یا شرم محسوس ہو تو آپ اپنی کسی سہیلی یاخاتون صحت کارکن سے کہیں کہ آپ کے معائنے کے وقت وہ کمرے میں موجود رہے۔
ٹیسٹ:
لیبارٹری ٹیسٹ سے کسی بیماری کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ بہت سے ٹیسٹ کے لیے کرتے یہ ہیں کہ مریض کے پیشاب، فضلے (پاخانے) یا کھانسی کے نتیجے میں حاصل ہونے والا تھوک یا بلغم کی تھوڑی سی مقدار تجربہ گاہ (لیبارٹری) میں بھیج دی جاتی ہے، یا پھر آپ کی انگلی یا بازو سے، سوئی کی مدد سے، تھوڑا سا خون نکال لیا جاتا ہے۔
جنسی ملاپ کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کا پتا چلانے کی غرض سے فرج سے تھوڑی سی رطوبت حاصل کرنا۔
سرطان (کینسر) کا پتا چلانے کے لیے بچہ دانی کے منہ سے، خلیے (سیلز) کھرچ کر نکال لینا۔ (یہ پیپ ٹیسٹ کہلاتا ہے)
سرطان کی جانچ کے لیے جسم پر کسی بھی ابھار، گانٹھ یا رسولی سے ٹشو نکال لینا۔ (بایوپسی) | ۔
آپ کے جسم کے اندرونی حصوں کو دیکھنے کے لیے ایکس ریز یا الٹرا ساؤنڈ کو استعمال کرنا۔ ایکس ریز کو ٹوٹی ہوئی ہڈیوں، پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن اور بعض اقسام کے سرطان کا پتا چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کوشش کریں کہ حمل کے دوران آپ کا ایکسرے نہ لیا جائے۔ البتہ آپ کے رحم (بچہ دانی) کے اندر بچے کو دیکھنے کے لیے ،حمل کے دوران الٹراساؤنڈ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کسی بھی امتحان (ٹیسٹ) سے کوئی درد نہیں ہوتا۔
آپ اپنا کوئی بھی ٹیسٹ کروانے سے پہلے اس کا خرچ معلوم کر لیں ۔ آپ ڈاکٹر، نرس یا صحت کا رکن سے کہیں کہ وہ یہ بتائے کہ اسے اس ٹیسٹ سے کیا معلومات حاصل ہوں گی اور اگر یہ ٹیسٹ نہ کروایا گیا تو کیا ہوگا۔
اپنی کسی دوست یا خاندان کے فرد کو ساتھ لائیں:
بہت سے لوگ علاج کرواتے ہوئے فکر مند ہوجاتے ہیں چاہے ان کی بیماری سنگین نہ ہو۔ جب کوئی فرد بیمار ہوتا ہے تو اس کے لیے اپنی ضرورت کے مطابق علاج کا مطالبہ کرنا دشوار ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر اگر کوئی دوسرا ساتھی جا سکے تو اس سے مددملتی ہے۔
ایک دوست یہ کام کرسکتی ہے۔
• عورت کے بچوں کی نگرانی کرے۔
• ان سوالات کے بارے میں سوچنے میں مدد دے جو پوچھے جاتے ہیں۔ عورت کو یاد دلائے کہ ‘ سوالات پوچھنا ہیں اور اس بات کو یقینی بنائے کہ سوالات پوچھ لیے جائیں۔ •
اگر عورت اتنی بیمار ہے کہ بات نہیں کرسکتی تو دوست ڈاکٹر یا طبی عملے کے سوالوں کے جواب دے۔
• عورت جب تک ڈاکٹر یا نرس وغیرہ کا انتظار کرتی ہے تو اس کے ساتھ رہ کر اس کا دل بہلائے۔
جب عورت کا معائنہ کیا جارہا ہو تو اس کی سہیلی عورت کے ساتھ ٹھہر سکتی ہے تا کہ عورت کو سہارا ملے ۔اور اس یہ بات یقینی ہوجائے کہ ڈاکٹر ،مریضہ سے احترام کا سلوک کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  گھر کی صفائی اور خواتین کی صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں