women and man

جنس اور صنفی کردار

EjazNews

ہر فرد یا تو نر جسم اور یا پھر مادہ جسم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ جسمانی فرق ہی ہے جو کسی بھی فرد کی جنس کا تعین کرتا ہے اور یہ جسمانی فرق۔۔۔ یعنی مرد یا عورت ہونا تبدیل نہیں ہوتا۔
ایک فرد کے صنفی کردار کا تعلق معاشرے کے اس تصور سے ہوتا ہے کہ مرد اور عورت ہونے سے کیا مراد ہے۔ ہر معاشرہ توقع کرتا ہے کہ مرد اور عورتیں، اپنے مخصوص انداز میں سوچیں، محسوس کریں اور عمل کریں ، صرف اس لیے کہ وہ مرد ہیں یا وہ عورتیں ہیں۔ مثال کے طورپر زیادہ تر معاشروں میں عورتوں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ کھانا پکائیں گی، پانی اور ایندھن اکٹھا کریں گی اور اپنے بچوں اور اپنے ازدواجی رفیق کا خیال رکھیں گی جبکہ مردو ں سے اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ گھر سے باہر جا کر کام کریں تاکہ اپنے خاندان اور اپنے بوڑھے والدین کو ضروریات زندگی فراہم کر سکیں اور اپنے گھر والوں کو خطرات سے بچا سکیں۔
مردوں اور عورتوں کے درمیان جسمانی فرق کے برعکس، ان کے صنفی کردار یعنی مرد یا عورت کی حیثیت سے زندگی میں ان کے فرائض اورسرگرمیوں کا تعین، معاشرہ کرتا ہے ۔ بہت معاشروں میں، کھانا پکانا اور بچوں کا خیال رکھنا جیسے کچھ کاموں کو عورتوں کے کام سمجھا جاتا ہے لیکن دیگر کام، علاقے کے اعتبار سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس بات کا انحصار معاشرے کی روایات، قوانین اور مذہب پر ہوتا ہے۔ ایک ہی معاشرے میں مختلف صنفی کرد ار اس بنا پر تبدیل بھی ہو سکتے ہیں کہ کسی عورت کی تعلیم کتنی ہے، اس کا خاندان کونسا ہے یا اس کی عمر کتنی۔ مثال کے طور پر بعض علاقوں میں ایک خاص خاندان یا نسل کی عورتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ گھر کا کام کاج کریں گی جبکہ دوسری عورتوں کو اپنی تعلیم اور ملازمت کے حوالے سے انتخاب کی زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے۔
صنفی کر دار کے بارے میں ہم واقف کیسے ہوتے ہیں:
صنفی کردار ، والدین سے بچوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں اسی وقت سے والدین لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ الگ الگ سلوک کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کررہے ہیں۔ بچے اپنے والدین کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اور نظررکھتے ہیں کہ ان کا رویہ کیا ہوتا ہے ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ کیسا برتائوں کرتے ہیں اور اپنے معاشرے اوربستی میں ان کے فرائض کیا ہیں۔
جوں جوں بچے بڑے ہوتے ہیں وہ اپنے لیے طے شدہ ان کر داروں کو قبول کرتے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے والدین کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اس لیے بھی کہ والدین کوزیادہ اختیار حاصل ہوتے ہیں۔ یہی کردار بچوں کو یہ جاننے میں بھی مدد دیتے ہیں کہ وہ کون ہیں اوران سے کیا توقعات رکھی جارہی ہیں۔ چنانچہ اسی طرح بچے اپنے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں وہ اپنی صنف (جنس) سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ یعنی ایک عورت یا مرد ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم عروج وزوال میں تعلیم کا کردار
بہت سے معاشروں میں عورتیں ہر وہ کام کر رہی ہیں جو کسی وقت میں صرف مردوں کیلئے مخصوص تھا

دنیا جوں جوں تبدیل ہو رہی ہے ، صنفی کردار بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان افراد ااپنے والدین سے الگ ہو کر رہنا چاہتے ہیں لیکن کبھی کبھی انہیں اس تبدیلی میں مشکل پیش آتی ہے کیونکہ خاندان اور معاشرہ ان سے توقع رکھتا ہے کہ و ہ پرانے قاعدوں اور ضابطوں پر عمل کرتے رہیں ۔ عورتیں جب اپنے صنفی کردار کے دوبارہ تعین کے لیے آزادی حاصل کرنے کی غرض سے جدوجہد کرتی ہیں تو وہ ان چیزوں پر بھی زیادہ اختیار حاصل کر سکتی ہیں جو ان کی جنسی صحت کا تعین کرتی ہیں۔
جب صنفی کر دار نقصان کا سبب بنے:
معاشرہ ، عورتوں سے جن فرائض کی توقع رکھتا ہے، ان کی تکمیل، عورت کے لیے تسکین کا باعث بن سکتی ہے اور اسے معاشرے سے وابستگی کا احساس دلا سکتی ہے۔ لیکن یہ فرائض عورت کی سرگرمیوں اور انتخاب کی آزادی کو محدود کر سکتے ہیں اور اس میں یہ احساس پیدا کر سکتے ہیں کہ وہ مرد کے مقابلے میں کمتر ہے۔ جب کبھی ایسا ہوتا ہے تو ہر کوئی یعنی عورت خود، اس کا خاندان اوراس کی پوری بستی متاثر ہوتی ہے۔
زیادہ تر علاقوں میں عورتوں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ یا تو وہ بیویاں ہوں گی یا مائیں ہوں گی۔ اکثر اپنی اس حیثیت کو پسند کرتی ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے تسکین بخش ہوسکتی ہے اور معاشرے میں انہیں ایک مقام دلاتی ہیں۔لیکن بعض عورتیں اپنی ذاتی دلچسپیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہ تھوڑے سے بچے چاہتی ہیں لیکن ان کا خاندان اور معاشرہ انہیں یہ اختیار نہیں دیتا۔ اگر عورت سے زیادہ بچوں کی توقع رکھی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے نئے ہنر سیکھنے یا سکول جانے کا موقع کم یا بالکل نہیں ملے گا اس کا زیادہ تر وقت اور توانائی دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھنے میں خرچ ہو جائے گی۔ اگر کوئی عورت بچوں کو جنم دینے کی اہلیت نہیں رکھتی تو اکثر معاشروں میں اسے دوسری عورتوں سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔
زیادہ تر علاقوں میں عورتوں کے کام کے مقابلے میں مردوں کے کام کی زیادہ قدر کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اس عورت نے بھی سارا دن کام کیا ہے۔ وہ کھانا پکاتی ہے، صفائی کرتی ہے اور رات میں اپنے بچوں کا خیال رکھتی ہے لیکن چونکہ اس کے شوہر کے کام کو زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے اس لیے وہ اپنے شہر کے آرام کے بارے میں فکر مند ہے۔ اپنے آرام کے بارے میں نہیں۔ اس کے بچے یہی سوچنا شروع کر دیں گے کہ مردوں کا کام زیادہ اہم ہوتا ہے اور عورتوں کو کمتر سمجھنے لگیں گے۔
مردوں کے مقابلے میں عورتوں کوز یادہ جذباتی سمجھا جاتاہے۔ انہیں دوسروں کےسامنے اپنے جذبات کے اظہار کی آزادی ہوتی ہے۔ البتہ مردوں کو اکثر یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اداسی یا کمزوری جیسے جذبات کا اظہار ، مردانگی کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ اپنے احساسات چھپا لیتے ہیں یا ان جذبات کا اظہار ناراضگی یا تشدد کے طریقوں سے کرتے ہیں جوکہ مردوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہوتے ہیں۔ جب مرد اپنے احساسات ظاہر نہیں کر پاتے تو بچے خود کو باپ سے زیادہ دور محسوس کر سکتے ہیں۔ مرد اپنے مسائل کے بارے میں دوسروں کی مدد بھی حاصل نہیں کر پاتے۔
مقامی اجتماعات میں اکثر اس بات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کہ عورتیں وہاں اظہار خیال کریں۔ کبھی کبھی تو انہیں ان اجتماعات میں شرکت کرنے یا وہاں بولنے سے بالکل روک دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مقامی آبادی صرف وہی کچھ سنتی ہے جو مرد سوچتے ہیں۔ مثلاً کسی مسئلے کے بارے میں مردوں کی کیا رائے ہے اور اس کے حل کے متعلق ان کا کیا خیال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو سماجی مسائل کا زیادہ علم اور تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ عورتوں کو ان مسائل پر اپنی رائے دینے کا موقع نہیں دیا جاتا اس لیے وہ تبدیلی کے لیے اپنی تجاویز نہیں دے سکتیں اور اس طرح پوری آبادی متاثر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فیمنزم بمقابلہ فیملیزم

اپنا تبصرہ بھیجیں