shahabaz sharif+molana

ہم اپنے قائد نواز شریف کی ہدایت کے مطابق 31اکتوبر کو اسلام آباد میں جلسہ کریں گے: میاں شہباز شریف

EjazNews

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن کے، سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اورمسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی لاہور کے علاقے ماڈل ٹائون میں ملاقا ت ہوئی۔اس ملاقات کے بعد دونوں رہنمائوں نے ایک پریس کانفرنس بھی کی ۔
مسلم لیگ ن کے قائد میاںشہباز شریف کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن سے ہر طرح کے معاملات پر گفتگو ہوئی ہے اور خاص طور پر ملک کے معاشی پر خاص کر گفتگو ہوئی۔انہوں نے حکومتی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداروں نے عمران خان کی حمایت اس لیے کی کیونکہ انہیں امید تھی کہ ملک ترقی کرے گا لیکن وزیر اعظم ناکام ہو گئے۔ اداروں کی جتنی حمایت اس حکومت کو ملی، اگر اس کی 25فیصد حمایت کسی اور حکومت کو مل جاتی، تو ملک ترقی کی شاہراہ پر دوڑ رہا ہوتا۔کراچی سے پشاور تک عوام کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے اور نئے انتخابات ہونے چاہئیں اور ہم بھی اپنے قائد نواز شریف کی ہدایت کے مطابق 31اکتوبر کو اسلام آباد میں جلسہ کریں گے۔
پریس کانفرنس میں صدر مسلم لیگ شہباز شریف نے واضح کیا کہ 27اکتوبر کو یوم سیاہ ہے اور بھارتی ظلم، زیادتی اور بربریت کا سامنا کرنے والے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کیلئے ہم پوری طرح یکسو ہیں اور اس دن پوری قوم کے ساتھ مل کر ہم کشمیر کی آزادی کے لیے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اپنی آواز اٹھائیں گے۔حکومت بار بار کہتی ہے کہ ہمیں معیشت خراب حالت میں ملی لیکن جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو معیشت کی بہت اچھی حالت تھی اور اگر آج بھی شفاف الیکشن کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اور اپوزیشن کو قوم کی دوبارہ خدمت کا موقع ملے تو 6 مہینے میں معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر دیں گے۔ ہم اس ملک سے بیماری، غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے دن رات محنت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

مولانا فضل الرحمن کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے جو ہمیں لانگ مارچ میں بھرپور سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،ہم اس پر ان کے شکر گزار ہیں اور 31اکتوبر کو عوام لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد میں داخل ہوں گے ۔ تمام جماعتوں کے قائدین اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور آئندہ اقدامات کے فیصلے بھی مشترکہ طور پر کرنا چاہیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہ حکومت ناجائز بھی ہے اور نااہل بھی ہے اور ان کے لب و لہجے اور زبان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح وہ ایک طرف ہم سے مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں گالیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تضحیک، گالیاں، مذاکرات اور سنجیدگی کبھی بھی اکٹھا نہیں ہو سکتے اور اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے استعفیٰ دے جس کے بعد اگلے اقدامات کے لیے ہم مذاکرات کر سکتے ہیں کیونکہ استعفیٰ کے بغیر مذاکرات کرنا ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں:  ورلڈ کپ 2019ء میں نیوزی لینڈ کا شاندار آغاز

اپنا تبصرہ بھیجیں